رویے کا میگنیفائنگ گلاس

امر گل

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کسی کے کردار کو پرکھنا ہو تو دیکھو وہ ان لوگوں کے ساتھ کیسا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آ سکتے، جن سے اس کا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔۔

یہ سیدھی سادی اخلاقیات کا پیمانہ مقرر کرنے والی بات ہے۔۔۔ لیکن کیا ہی بات ہے اس بات کی۔۔ کہ یہ تھوڑا سا بے نقاب کرنے والا جملہ ہے۔ اور بے نقاب ہونا، کسی کو پسند نہیں ہوتا۔

آپ یقیناً کبھی کسی بہت شائستہ، بہت مہذب آدمی سے ملے ہوں گے، وہ جو پلیز، بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔۔ جی جی جی۔۔۔ بہت شکریہ، ایسے بولتا ہے جیسے لفظ نہیں، خوشبو ہو۔۔

اور پھر آپ نے اسے کسی ویٹر سے، کسی مفلوک الحال سے، کسی میرے جیسے پھٹیچر سے بات کرتے ہوئے دیکھ لیا ہو؟

بس۔۔۔ وہیں کہانی ختم۔

عجیب بات ہے نا؟ ہم لوگ کردار کو بڑے بڑے لمحوں میں تلاش کرتے ہیں۔ کوئی مشکل وقت میں کیسا نکلا، کسی نے قربانی دی یا نہیں، کون ہیرو ہے، کون ولن۔۔ ٹھیک ہے، یہ بھی انسان کو پرکھنے کے پیمانے ہیں، لیکن اصل کھیل تو چھوٹے لمحوں میں چل رہا ہوتا ہے۔

وہ لمحے جہاں کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا۔ جہاں تالی نہیں بجنی۔ جہاں کسی نے واہ واہ نہیں کرنی۔۔ جہاں کوئی فائدہ نہیں ملنا۔ جہاں کوئی خوف، کوئی اندیشہ تمہیں نہیں روکتا۔ جہاں کوئی امید، کوئی امکان وابستہ نہیں ہے۔ وہاں تم اصل میں کیا ہو؟

طاقتور کے سامنے جھک جھک جانا، جی حضوری کرنا، ڈھائی انچ تک باچھیں کھول کر کانوں تک پھیلانا، کوئی خوبی نہیں ہے۔ یہ تو survival ہے لالے، یہ تو ہم سب کر لیتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ تم اس بندے کے ساتھ کیسے پیش آتے ہو، جس سے تمہیں یہ خوف نہیں کہ وہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتا ہے، تمہارے بگڑے کام بننے کی کوئی امید نہیں اس سے۔۔

وہ دفتر کا جونیئر، وہ چوکیدار، وہ ڈلیوری بوائے، وہ رشتہ دار جس سے تمہیں کوئی کام نہیں۔۔ وہ ریڑھی بان۔۔ وہ راہ چلتا مسافر، جو اپنی پریشانیوں میں کھویا تم سے ٹکرا گیا ہے۔۔ تمہاری آواز کا لہجہ وہیں بدلتا ہے نا؟

ہم سب کے اندر ایک چھوٹا سا VIP detector لگا ہوتا ہے۔ سامنے والا اگر ”اہم“ ہو، مفید ہو تو ہم فوراً سیدھے ہو جاتے ہیں۔ سیدھے ہو کر جھک جاتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔ اور اگر اس کے برعکس ہو۔۔۔ تو ہم وہ ہو جاتے ہیں جو اصل میں ہم ہیں۔ یہ مضبوط سا سریا ہماری گردن کو اکڑا دیتا ہے۔

اور بارش سا یہ لمحہ ہمارے چہرے پر پوتے ہوئے تہذیب کے سارے رنگ و روغن اتار دیتا ہے۔

مسئلہ یہی ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات، ہمارا ”اصل“ اتنا خوبصورت نہیں ہوتا، جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

کبھی غور کیا ہے؟ کچھ لوگ بہت ”اچھے“ ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن صرف منتخب لوگوں کے لیے۔ اور باقیوں کے لیے؟ بس۔۔۔ برداشت۔

اور کبھی کبھی تو برداشت بھی نہیں۔۔۔ سیدھا نظر انداز کرنا۔ ’کون منہ لگائے اسے‘ والی فیلنگ۔

یہ جو نظر انداز کرنا ہوتا ہے نا۔۔ یہ بھی ایک قسم کی بے عزتی اور توہین ہے، بس ذرا مہذب انداز میں۔

اور، پتہ ہے، سب سے خطرناک بات کیا ہے؟

ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں ہم ٹھیک ہیں۔ ہم کسی کو مار تو نہیں رہے، گالی تو نہیں دے رہے۔۔۔ تو ہم اچھے انسان ہیں۔

لیکن سچ تھوڑا سا اور باریک ہے۔ کسی کو اہم نہ سمجھنا۔۔
اسے انسان نہ سمجھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔

تو اب ذرا الٹا سوچتے ہیں۔۔ اگر کوئی شخص ان لوگوں کے ساتھ بھی عزت سے پیش آتا ہے، جو اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔۔ تو وہ کیا کر رہا ہے؟

وہ دراصل ایک ”خطرناک“ کام کر رہا ہے، وہ اپنی انسانیت کو شرطوں سے آزاد کر رہا ہے۔

وہ یہ نہیں دیکھ رہا کہ سامنے والا کون ہے۔۔ وہ صرف یہ دیکھ رہا ہے کہ سامنے والا ”انسان“ ہے۔ اور یہ کام آسان نہیں ہے۔

کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اصولوں والے نہیں ہوتے، ہم حالات والے ہوتے ہیں۔ جہاں فائدہ ہو، وہاں اخلاق۔ جہاں نہ ہو… وہاں اصل چہرہ۔ اور اگر ہم اصول والے بھی ہیں تو انہیں بھی ہم نے ”اہم“ اور ”غیر اہم“ لوگوں کے لیے الگ الگ خانوں میں رکھ چھوڑا ہے۔۔ یہ اصول ان صاحب کے لیے، یہ اس پھٹیچر کے لیے۔۔

تو اگلی بار جب میں خود کو پرکھنا چاہوں، آپ خود کو پرکھنا چاہیں یا کسی اور کو پرکھنا چاہیں، اس کی بڑی باتیں نہیں سننی، اس کی چھوٹی حرکتیں دیکھنی ہیں، کہ وہ کسی کمزور کے ساتھ کیسا ہے۔ وہ کسی غیر اہم شخص کو کتنا وقت دیتا ہے۔ وہ کسی ایسے بندے سے کیسے بات کرتا ہے، جس سے اسے کچھ نہیں ملنا۔ وہیں سچ پڑا ہے۔

اور اگر ہمت ہو تو ہمیں ہمیشہ خود کو اس پیمانے پر پرکھتے رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی صرف اُن لوگوں کے ساتھ اچھے ہیں، جو ہمارے کسی کام کے ہیں؟ اگر ایسا ہے، تو پھر مسئلہ کردار کا نہیں۔۔ حساب کتاب کا ہے۔

__________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button