Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

al jazeera abbas araghchi
انٹرویوزاہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

’الجزیرہ‘ کو ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی کا خصوصی انٹرویو

By Akhtar Rasool
اپریل 3, 2026 5 Min Read
0

میزبان (الجزیرہ):
ڈاکٹر عباس عراقچی، آپ کا شکریہ کہ آپ نے الجزیرہ (Al Jazeera) سے بات کرنے کے لیے وقت نکالا۔ امریکہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ایران نے امریکی شرائط قبول کر لی ہیں۔ ایران کا اس حوالے سے کیا مؤقف ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
بین الاقوامی تعلقات میں مذاکرات کا ایک واضح مطلب ہوتا ہے، یعنی دو ممالک باضابطہ طور پر آمنے سامنے بیٹھ کر بات کریں۔ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ایسی کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی۔ البتہ بعض اوقات ممالک تیسرے فریق کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے ہیں۔ اس عمل کو باقاعدہ مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے اور امریکہ کے درمیان اس وقت صرف پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ یہ کہنا کہ مذاکرات جاری ہیں، بالکل غلط ہے۔

میزبان:
کیا امریکہ کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ موجود ہے یا صرف ثالثی کے ذریعے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
پیغامات تیسرے فریق کے ذریعے آتے جاتے ہیں۔ کچھ افراد جیسے مسٹر وِٹکاف (Steve Witkoff) بھی پیغامات بھیجتے رہے ہیں، لیکن یہ مذاکرات نہیں بلکہ صرف پیغام رسانی ہے، جو جنگ اور امن دونوں صورتوں میں جاری رہ سکتی ہے۔

میزبان:
کیا ایران کے اندر کسی مخصوص گروہ کی امریکہ سے علیحدہ بات چیت ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ایسی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ تمام سرکاری پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے موصول ہوتے ہیں یا کم از کم وزارت کو ان کی مکمل اطلاع ہوتی ہے۔ یہ تمام معاملات اعلیٰ قومی سلامتی کونسل (Supreme National Security Council) کی نگرانی میں چلتے ہیں۔ ایران کے اندر کسی قسم کی تقسیم یا متوازی سفارت کاری موجود نہیں۔

امریکی شرائط اور ایران کا جواب

میزبان:
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران نے ان کی 15 شرائط کا جواب دے دیا ہے۔ کیا یہ درست ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم نے امریکہ کی کسی بھی 15 نکاتی تجویز یا شرط کا کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔

میزبان:
کیا ایران نے اپنے پانچ مطالبات پیش کیے ہیں؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم نے امریکہ کو کوئی تحریری شرط یا تجویز پیش نہیں کی۔ پانچ یا پندرہ نکات کی باتیں میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر


مذاکرات کی بنیاد اور ضمانتیں

میزبان:
کیا اس وقت مذاکرات کے لیے کوئی پیش رفت ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم نے ابھی مذاکرات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہمارا مؤقف واضح ہے: جنگ صرف عارضی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر ختم ہونی چاہیے، اور وہ بھی صرف ایران میں نہیں بلکہ پورے خطے میں۔ ہمیں اس بات کی مضبوط ضمانت درکار ہے کہ دوبارہ حملہ نہیں ہوگا اور جو جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے گا۔

میزبان:
کیا امریکہ پر عدم اعتماد مذاکرات میں رکاوٹ ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA – Joint Comprehensive Plan of Action) سے امریکہ خود نکل گیا۔ حالیہ برسوں میں بھی مذاکرات کے بعد حملے ہوئے۔ ہمارا اعتماد امریکہ پر صفر ہے۔ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انہیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر ایران کا مؤقف

میزبان:
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے ایران کی پالیسی کیا ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
یہ راستہ ایران اور عمان کے اندرونی پانیوں (Internal Waters) میں واقع ہے۔ یہ مکمل طور پر بین الاقوامی پانی نہیں ہے۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ یہ راستہ ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں۔ جنگ کے دوران دشمن کو اپنے داخلی پانیوں سے گزرنے کی اجازت دینا ممکن نہیں ہوتا۔ دوست ممالک کے جہازوں کے لیے ہم نے حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

ممکنہ زمینی حملہ اور ایرانی ردعمل

میزبان:
کچھ رپورٹس کے مطابق امریکہ جزائر پر قبضہ اور زمینی فوج اتارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ ایسا قدم اٹھانے کی ہمت کرے گا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی، مگر ہم اپنے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔ ہم نے ان کی تنصیبات، ریڈارز اور جنگی سازوسامان کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم نے ان کا مہنگا اواکس (AWACS – Airborne Warning and Control System) طیارہ بھی تباہ کیا۔

خطے کے ممالک اور امریکی اڈے

میزبان:
خلیجی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے کہ وہ اس تنازعے کا نشانہ بن رہے ہیں۔ آپ کیا کہیں گے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم نے خلیج کے دوست ممالک کو نشانہ نہیں بنایا۔ ہمارے حملوں کا ہدف صرف امریکی فوجی اڈے اور مفادات ہیں جو ان ممالک میں موجود ہیں۔ امریکہ ایران پر حملے کے لیے انہی ممالک کی زمین، فضائی حدود اور پانی استعمال کر رہا ہے۔ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے نہ ہوتے تو وہ خطرے میں نہ آتے۔

میزبان:
کیا ایران چاہتا ہے کہ لبنان، عراق اور یمن کے گروہ بھی مذاکرات میں شامل ہوں؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
جب ہم جنگ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب پورے خطے میں جامع امن ہوتا ہے—ایران، لبنان، عراق، یمن اور دیگر مقامات پر۔ خطے میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب بیرونی فوجی اڈے ختم ہوں اور سلامتی کا مشترکہ علاقائی نظام قائم کیا جائے۔

جنگ کی مدت اور ایران کی حکمت عملی

میزبان:
کیا ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم نے اپنے دفاع کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی۔ جب تک ضرورت ہوگی ہم دفاع جاری رکھیں گے، چاہے یہ چھ ماہ ہو یا اس سے زیادہ۔ ہم دشمن کی مقرر کردہ کسی ڈیڈلائن کو قبول نہیں کرتے۔

میزبان:
خطے کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا؟

ڈاکٹر عباس عراقچی:
ہم عزت اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ ہمیں اعتماد کی بحالی کے لیے محنت کرنا ہوگی، مگر ہمیں یقین ہے کہ مشترکہ اسلامی اقدار اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ مفادات ہمیں قریب لا سکتے ہیں۔ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری ہمیں خود اٹھانی ہوگی۔ بیرونی فوجی اڈے سلامتی نہیں بلکہ عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ہم آپس میں دفاعی اور اقتصادی معاہدے کریں اور بیرونی افواج پر انحصار ختم کریں۔

میزبان:
ڈاکٹر عباس عراقچی، آپ کا شکریہ کہ آپ نے ’الجزیرہ‘ (Al Jazeera) سے تفصیلی گفتگو کی۔


یہ بھی پڑھیں:

خطے میں جاری کشیدگی صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی و ثقافتی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ترکی کے انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم قالن

 

سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

 

Tags:

Abbas Araghchi interviewAl Jazeera exclusive interviewGulf security crisisHormuz shipping route crisisIran America latest newsIran defense responseIran foreign policyIran military responseIran regional security planIran US conflict updateIran US negotiationsIran US tensions 2026Iran war strategyJCPOA nuclear dealMiddle East GeopoliticsSteve Witkoff IranStrait of Hormuz crisisSupreme National Security Council IranUS Iran diplomacyUS military bases Gulf
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Alex younger British
Previous

ایران امریکہ جنگ: برطانوی سابق انٹیلی جنس سربراہ کا اہم انکشاف

happy patel
Next

”ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس“ پر ایک نظر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme