
جرمنی کے شہر لائفزگ کا ٹریننگ گراؤنڈ ہو یا یورپ کے چمکتے ہوئے جدید اسٹیڈیمز، جب 18 سالہ یان دیوماندے (Yan Diomande) گیند کو اپنے پیروں میں لے کر بجلی کی تیزی سے گھومتا ہے، تو کیمروں کے شٹر، تماشائیوں کی آنکھیں اور حریفوں کی سانسیں ایک پل کو منجمد ہو جاتی ہیں۔ مبصرین اسے آئیوری کوسٹ فٹبال کا مستقبل کہتے ہیں، مداح اس کی رفتار کے سحر میں مبتلا ہیں اور حریف دفاعی کھلاڑی اس کی بے رحم شاٹس سے خوفزدہ ہیں۔ آر بی لائفزگ کا یہ نوجوان فارورڈ، جو کھیل میں نظم و ضبط کی انتہا کی وجہ سے اب جرمنی میں ”دی جرمن“ کے نام سے جانا جاتا ہے، بظاہر ایک جدید, کامیاب اور بے باک فٹ بالر نظر آتا ہے جس کے قدموں میں شہرت اور دولت دونوں ڈھیر ہیں۔
لیکن اس چمکتے ہوئے چہرے کے پیچھے ایک ایسا پتھر ہے جس کے اندر کوئی جذبہ باقی نہیں رہا۔ جب فلڈ لائٹس بجھ جاتی ہیں اور اسٹیڈیم کا شور تھم جاتا ہے، تو یان دیوماندے کے پاس صرف ایک خالی پن رہ جاتا ہے۔ یہ وہ کھلاڑی ہے جو دنیا کے مہنگے ترین اسٹار کائلان ایمباپے سے جرسی تو بدل سکتا ہے، لیکن اپنی زندگی کی سب سے بڑی تلخ سچائی کو نہیں بدل سکتا۔ وہ سچائی جو کسی فٹ بال پچ پر نہیں، بلکہ افریقہ کے ایک گنجان، غریب محلے میں دفن ہے۔
کچھ کہانیاں صرف گول اسکور کرنے یا ٹرافیاں جیتنے کے بارے میں نہیں ہوتیں۔ یہ کہانی اس اندھیرے کے بارے میں ہے جو چمکتی ہوئی لائٹس کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ یہ کہانی ہے آئیوری کوسٹ کے اسٹار فٹبالر یان دیوماندے کی، اور اس سے بھی بڑھ کر، اس کی بہن روکسین (Roxane) کی، جو 10 سال کی عمر میں اس کی پہلی مینیجر بنی، 15 سال کی عمر میں پراسرار طور پر دنیا چھوڑ گئی، اور اب اپنے بھائی کے لکھے گئے ایک دلدوز کھلے خط کے ذریعے دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔
آئیے اس خط کے پنے پلٹتے ہیں جہاں سے اس داستان کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔
عابدجان کا اندھیرا اور دو پوائنٹس کا جادو
آئیوری کوسٹ کے شہر عابدجان کا وہ مکان، جہاں 25 لوگ ایک ہی چھت کے نیچے سوتے تھے، صرف ایک گھر نہیں بلکہ خوابوں کی ایک بستی تھا۔ وہاں زندگی ہنگامہ خیز تھی اور وسائل محدود۔ یان دیوماندے اپنی بہن کی یاد میں لکھے کھلے خط میں کہتا ہے:
”پیاری روکسین، کیا تمہیں یاد ہے، گھر میں امی اپنے ڈرامے دیکھنا چاہتی تھیں، اور باقی سب فلمیں دیکھنا چاہتے تھے۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ میں کس طرح ہمیشہ سونے کا ناٹک کرتا تھا اور پھر آدھی رات کے بعد ٹی وی والے کمرے میں چلا جاتا تھا؟ میں ٹی وی کی آواز بالکل ہلکی کر دیتا تھا، بس صرف 2 پوائنٹس پر۔ میں اندھیرے میں فٹ بال دیکھتا اور خواب بُنتا تھا۔“
اسی اندھیرے میں، ٹی وی کی مدہم اسکرین پر جب یان کا پسندیدہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو (CR7) دوڑتا تھا، تو یان کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی۔ جب کسی نے اسے مانچسٹر یونائیٹڈ کی ایک سستی، جعلی جرسی لا کر دی، تو یان نے بغیر کسی جھجک کے کالے مارکر سے اس کی پشت پر Ronaldo 7 لکھ دیا۔ وہ غریبی کے دن تھے، لیکن یان کہتا ہے، ”ہم امیری یا غریبی کو نہیں جانتے تھے۔ ہم تو بس خوشی کو جانتے تھے۔“
محلے کے بڑے جب یان کو مٹی اور دھول میں زوردار شاٹس لگاتے دیکھتے، تو اسے برازیلین اسٹار رابرٹو كارلوس کا نام دیتے۔ یان دل ہی دل میں جل بھن جاتا، کیونکہ اس کا آئیڈیل تو رونالڈو تھا۔ لیکن اس مٹی سے نکلنے کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔
آلوؤں کی ”ڈکیتی“ سے پلاسٹک کے جوتوں تک
صرف 9 سال کی عمر میں، جب بچے ماں کی گود میں سوتے ہیں، یان کو اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور ایک اکیڈمی بھیج دیا گیا۔ تنہائی اور بھوک اس کے مستقل ساتھی بن گئے۔ یان نے برسوں پرانی ایک ایسی حقیقت سے پردہ اٹھایا جو فٹ بال کی گلیمرس دنیا کے پیچھے چھپی تلخی کو ظاہر کرتی ہے:
”کیا تمہیں یاد ہے جب میں گھر سے بہت دور کھیلنے گیا تھا؟ میں صرف 9 سال کا تھا۔ انٹر فٹ سُد کوموئے، بالکل گھانا کی سرحد کے پاس۔ اپنے بل بوتے پر رہنے والا ایک چھوٹا سا بچہ۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے تمہیں یہ کہانی کبھی سنائی یا نہیں، لیکن میں اور دوسرے بچے گاؤں میں جا کر آلو چرایا کرتے تھے کیونکہ ہمیں بہت بھوک لگتی تھی۔ ہم باقاعدہ ”بینک ڈکیتی“ کرتے تھے۔ دو بچے دکاندار کا دھیان بھٹکاتے، اور باقی 18 بچے دو آلو لے کر بھاگ جاتے۔ وہ آلو اچھے بھی نہیں ہوتے تھے، لیکن ان کا ذائقہ کمال کا ہوتا تھا۔ ہاہاہاہا۔ یہ آج بھی میری سب سے پسندیدہ خوراک ہے۔ تھوڑے سے تیل کے ساتھ ابلے ہوئے آلو۔ یہ مجھے ان دنوں کی یاد دلاتا ہے۔“
وہ بچہ جو بھوک مٹانے کے لیے آلو چراتا تھا، جب اسے زندگی میں پہلی بار اصل چمڑے کے فٹ بال بوٹ ملے، تو اس کی خوشی دیدنی تھی، ”کیا تمہیں یاد ہے جب مجھے فٹ بال کے میرے پہلے اصل بوٹ ملے تھے، تو میں انہیں اپنے ساتھ لے کر سوتا تھا؟ بچپن سے میں ہمیشہ ان سفید پلاسٹک کے چپلوں میں کھیلتا تھا۔ اب بھی جب میں گھر واپس جاتا ہوں، تو انہی میں کھیلتا ہوں۔ یہ ہماری روایت ہے۔“
دس سال کی ایجنٹ، جو کہتی تھی ”تمہیں خود محنت کرنی ہوگی“
اس پورے سفر میں، یان کے پیچھے ایک ایسی طاقت تھی جس کی عمر صرف 10 سال تھی۔ اس کی چھوٹی بہن، روکسین۔ جب یان تھک کر گھر لوٹتا، تو روکسین محلے کے لڑکوں اور یان کے دوستوں کو ڈانٹتی تھی: ”تم نے ٹریننگ کرنا کیوں چھوڑ دی؟ یان تمہیں گاڑیاں خرید کر نہیں دینے والا۔ تمہیں خود محنت کرنی ہوگی۔“
وہ صرف یان کی بہن نہیں، اس کا حوصلہ اور اس کی پہلی مینیجر تھی۔ جب پوری دنیا یان کے خوابوں پر ہنستی تھی، تو وہ روکسین ہی تھی جو کہتی تھی کہ اس کا بھائی اگلا کرسٹیانو رونالڈو بنے گا۔ دونوں بہن بھائی گھنٹوں بیٹھ کر فرانس منتقل ہونے، بڑا اپارٹمنٹ لینے اور گاڑیوں کے خواب دیکھا کرتے تھے تاکہ روکسین کو زندگی میں پھر کبھی کسی چیز کی فکر نہ رہے۔
یورپ کی بے رخی اور ٹوٹتے خواب
15 سال کی عمر میں یان ہائی اسکول کے لیے امریکہ گیا، جہاں ہوم سکنس (گھر کی یاد) اور ثقافتی جھٹکے نے اسے توڑ کر رکھ دیا۔
”کیا تمہیں یاد ہے جب میں 15 سال کی عمر میں ہائی اسکول کے لیے امریکہ گیا تھا، اور مجھے گھر کی کتنی یاد ستاتی تھی؟ مہینوں تک مجھے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔ انہوں نے مجھے ایک فرانسیسی بچے کے ساتھ بٹھا دیا، جو استاد کی کہی ہوئی ہر بات کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ کیا تمہیں یاد ہے جب میں نے تمہیں فون کر کے کہا تھا، ’تم یقین نہیں کرو گی، یہاں کے بچے اساتذہ کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔‘ ہمارے اپنے گھر میں تو، تم جانتی ہو کہ ہمیں اپنے بڑوں کے سامنے آنکھ جھپکانے کی بھی جرات نہیں ہوتی تھی۔ کیا تمہیں یاد ہے جب مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ بچے اسکول کے بعد سگریٹ نوشی کر رہے تھے؟ تم اکثر کہتی تھیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی امریکی ٹی وی شو میں رہ رہا ہوں۔“
پھر وہ وقت آیا جب یان کو اپنی منزل قریب نظر آئی، لیکن فٹ بال کی بے رحم مارکیٹ نے اسے ٹھکرا دیا۔ بورن ماؤتھ، چیلسی، رینجرز، اولمپیاکوس اور کرسٹل پیلس، ہر جگہ ٹرائلز ہوئے۔ یہاں تک کہ انگلش اسٹارز ایزی اور اولیسے نے ٹریننگ کے بعد اس کی پیٹھ تھپتھپا کر کہا، ”ارے بچے، تم واقعی بہت بہترین کھلاڑی ہو۔“ لیکن بزنس اور کاغذات کی دنیا نے اسے قبول نہیں کیا۔ امریکہ کی MLS ٹیموں نے بھی اسے مسترد کر دیا:
”مجھے وجہ تک معلوم نہیں تھی۔ انہوں نے کبھی مجھے کوئی وجہ نہیں بتائی۔ سارے معاملات بڑے سنبھال رہے تھے۔ وہ بس مجھے پورے یورپ میں گھماتے رہے، اور ہر کوئی انکار کرتا رہا۔“
ویزے کی مدت ختم ہو گئی، خواب کرچی کرچی ہو گئے، اور یان کو واپس افریقہ بھیج دیا گیا: ”انہوں نے مجھے واپس افریقہ بھیج دیا، اور ہم دونوں مل کر روئے۔ صرف تم ہی تھیں جس نے کبھی امید نہیں ہاری۔“
اور روکسین کی اسی امید کا کرشمہ تھا کہ چند ہفتوں بعد ہسپانوی کلب لیگانیس (Leganés) نے یان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اس بار بھی آنسو بہے، لیکن وہ خوشی کے تھے، اس وقت کو یاد کر کے وہ لکھتا ہے، ”یہ وہ وقت تھا جب میرے اندر جذبات ہوا کرتے تھے۔ اب، مجھے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں انسان ہی نہیں ہوں۔ جب سے تم گزری ہو، میں بالکل خالی ہو چکا ہوں۔“
ڈیبیو کا سپنا اور زندگی کا بھیانک خواب
18 سال کی عمر میں، یان دیوماندے نے وہ کر دکھایا جو دنیا کے لاکھوں کھلاڑیوں کا خواب ہوتا ہے۔ ہسپانوی لا لیگا میں ریال میڈرڈ کے خلاف اس کا ڈیبیو ہوا۔ اس نے دنیا کے مہنگے ترین کھلاڑی کائلان ایمباپے (Mbappé) کے ساتھ جرسی کا تبادلہ کیا۔ وہ وقت جب روکسین ٹی وی پر ایمباپے کو دیکھ کر کہتی تھی، ”ہاں وہ اچھا ہے، لیکن میرا بھائی اس سے بہتر ہے“ سچ ثابت ہو رہا تھا۔
لیکن تقدیر کے پاس اس اسکرپٹ کا ایک ایسا تاریک رخ بھی تھا جس نے یان کو اندر سے پتھر بنا دیا، ”یہ لیگانیس کے لیے میرے ڈیبیو (پہلے میچ) کے چند ہفتے بعد کی بات ہے۔ 18 سال کی عمر میں ریال میڈرڈ کے خلاف کون اپنا ڈیبیو کرتا ہے؟ یہ بہت حیران کن تھا۔ یہ ایک خواب تھا۔ اور پھر یہ ایک بھیانک خواب بن گیا۔ گھر سے کوئی مجھے مسلسل فون کر رہا تھا۔ میں زچ ہو رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بار بار فون کیوں کر رہے ہیں۔ میں نے فون اٹھایا، اور انہوں نے بات کو گھمایا تک نہیں۔ تم جانتی ہو ہمارے ہاں گھر پر کیسا ہوتا ہے۔ کوئی جذبات نہیں۔ بس سیدھی بات اور پھر۔۔۔۔۔۔۔
’تمہاری بہن چلی گئی ہے۔‘
’کیا؟‘
’وہ مر گئی ہے۔‘
’تم یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟‘
’کسی نے ایک پارٹی میں اس کے ڈرنک میں کچھ ملا دیا تھا۔۔ اور وہ پھر کبھی نہیں جاگی۔ وہ چلی گئی ہے۔‘“
روکسین صرف 15 سال کی تھی۔ وہ خواب جو ابھی شروع ہی ہوئے تھے، اس کی تعبیر دیکھنے والی اب اس دنیا میں نہیں تھی۔ یان کہتا ہے کہ اس دن صدمے کی وجہ سے اس کی آنکھ سے ایک آنسو تک نہیں نکلا۔ اپنے جذباتی خط میں وہ لکھتا ہے:
”تم 15 سال کی تھیں۔ صرف 15 سال کی! مجھے کبھی کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نہیں جانتا کہ میں وجہ جاننا بھی چاہتا ہوں یا نہیں۔ شاید یہ حسد تھا۔ شاید یہ کوئی ایسی بات ہے جو ہمارے ملک میں عام ہوتی ہے۔ شاید میں تمہیں بچا سکتا تھا۔ میں نہیں جانتا۔“
اس حادثے کے بعد دولت، شہرت، اپارٹمنٹ – سب کچھ یان کے لیے بے معنی ہو گیا۔ ”میں ایک بات میں غلط تھا۔ میں امیر نہیں ہونا چاہتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ دولت لوگوں کے ساتھ، یہاں تک کہ خاندان کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ جب میں لیگانیس میں تھا، میں جو کچھ بھی کما رہا تھا، گھر بھیج رہا تھا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مجھے اب پیسے کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ یہ صرف ایک بوجھ بن گیا تھا۔ ان کی فرمائشیں کبھی ختم ہی نہیں ہوتی تھیں۔ میرا خیال ہے وہ سمجھتے تھے کہ میں ابھی سے کروڑ پتی بن چکا ہوں۔ میرے پاس اپنا ایک اپارٹمنٹ تک نہیں تھا۔ میں ٹریننگ گراؤنڈ کے ایک ایسے کمرے میں رہ رہا تھا جہاں ٹی وی تک نہیں تھا، بس فٹ بال اور سونا، فٹ بال اور سونا۔ مجھے بڑا گھر نہیں چاہیے تھا۔ مجھے گاڑیاں نہیں چاہیے تھیں۔ میں بس اپنا سب کچھ فٹ بال میں جھونک دینا چاہتا تھا۔ سب کچھ، تاکہ دنیا کو دکھا سکوں کہ میری بہن سچی تھی۔۔۔۔۔“
یان مزید لکھتا ہے: ”میں خدا کی مصلحت پر بھروسہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں بس یہی کر سکتا ہوں۔ میں بھولنے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔ میں بس اتنا کر سکتا ہوں کہ اس درد کو مزید سخت محنت کرنے اور ان تمام خوابوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کروں جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کیونکہ میں اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ میں نے یہ اس لیے لکھا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم جانو کہ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ تم ہمیشہ زندہ رہو۔ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ ہر کوئی تمہارا نام جانے۔ پوری دنیا۔ فٹ بال کے میدان میں میں جو کچھ بھی کرتا ہوں، وہ تمہارے لیے ہوتا ہے۔ جب سے میں نے تمہیں آخری بار دیکھا ہے، تب سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے۔۔۔۔۔۔ تمہیں تو یقین بھی نہیں آئے گا۔ مجھے خود یقین نہیں آتا۔“
’دی جرمن‘ اور ورلڈ کپ کا اسٹیج
آج یان جرمن کلب ’آر بی لائفزگ‘ (RB Leipzig) کا ایک مایہ ناز کھلاڑی ہے۔ جرمنی کے سخت ڈسپلن نے اسے بدل دیا ہے۔ جہاں وقت پر پہنچنے کا مطلب بھی ”لیٹ“ ہونا سمجھا جاتا ہے، وہاں یان اب ہر جگہ 90 منٹ پہلے پہنچ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیم کے ساتھی اب اسے جرمن ڈسپلن کی اس سخت پابندی کی وجہ سے ”دی جرمن“ کہہ کر پکارتے ہیں۔
اب فیفا ورلڈ کپ 2026 کا میلہ سج چکا ہے اور یان دیوماندے اسی جرسی میں میدانِ عمل میں ہے جس میں کبھی ڈروگبا، یایا تورے اور جروینہو کھیلا کرتے تھے۔ پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ نے ایکواڈور کے خلاف 1-0 سے شاندار فتح سمیٹی، جبکہ دوسرے میچ میں جرمنی کے خلاف ایک انتہائی سخت مقابلے میں اسے 2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایسا مقابلہ جس نے بلاشبہ جرمن کھلاڑیوں کے دانتوں تک سے پسینے چھڑا دیے۔
لیکن جیت ہو یا ہار، یان کے لیے یہ محض فٹ بال کے عام میچز نہیں ہیں۔ اس کا مقصد صرف ٹرافی جیتنا یا پوائنٹس ٹیبل پر اوپر جانا نہیں ہے۔ یان نے خط میں اپنے اس سچے جنون کو یوں بیان کیا ہے:
”میں اسے ایک کھیل کے طور پر بھی نہیں دیکھتا۔ میں اسے ایک اسٹیج کے طور پر دیکھتا ہوں۔ یہ میرے لیے پوری دنیا کو وہ دکھانے کا موقع ہے جو تم نے میرے اندر دیکھا تھا۔ اب میں جب بھی گول کروں گا، میں یہ یقینی بناؤں گا کہ ہر کوئی تمہارا نام جانے۔ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ وہ تمہیں کبھی نہ بھولیں۔“
اگرچہ یان دیومانڈے اس ورلڈ کپ میں اب تک خود کوئی گول نہیں کر پایا، لیکن وہ اپنے کھیلے گئے دونوں گروپ میچوں میں اپنی تیز رفتاری اور شاندار کھیل سازی کی وجہ سے ٹیم کا اہم ترین کھلاڑی ثابت ہو رہا ہے۔ پہلے میچ میں وہ 5 مواقع تخلیق کر کے اور بہترین ڈربلنگ کے ذریعے پورے میچ میں ایکواڈور کے دفاع کے لیے بڑا خطرہ بنا رہا، جس پر اسے فیفا کی طرف سے ’مین آف دی میچ‘ بھی قرار دیا گیا۔ جرمنی کے خلاف میچ میں آئیوری کوسٹ کا واحد گول فرینک کیسی نے میچ کے 30 ویں منٹ میں کیا۔ اس گول کی بنیاد یان دیومانڈے نے ہی رکھی تھی، جس نے بائیں جانب سے ایک سحر انگیز موو بناتے ہوئے کراس پاس دیا، جس کی مدد سے یہ گول ممکن ہو سکا اور یان کے کھاتے میں ایک خوبصورت اسسٹ (Assist) شامل ہوا۔
میدان اب یان کے لیے صرف ایک کھیل کی جگہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا گوشہ ہے جہاں وہ سکون پاتا ہے اور اپنی بہن سے گفتگو کرتا ہے، جو اب اس دنیا میں نہیں رہی، ”کاش تم آج یہاں ہوتیں تو میں تمہیں بتا سکتا کہ۔۔۔۔۔ ہم نے یہ کر دکھایا۔ تمہاری کہی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہو گئی۔“
ورلڈ کپ کے اس ہائی وولٹیج اسٹیج پر، جہاں دباؤ بڑے بڑوں کے پیر لڑکھڑا دیتا ہے، وہاں یان دیوماندے اپنی ہر سانس, ہر ڈربل اور ہر شاٹ کے ساتھ روکسین سے کیا ہوا وعدہ نبھا رہا ہے۔
فٹ بال کی تاریخ میں بڑے بڑے کھلاڑی آئے ہیں، لیکن یان کا یہ سفر ایک سچے اور پاکیزہ رشتے کا قرض ہے۔ وہ لڑکا جس کے پاس کبھی اصل بوٹ نہیں تھے، آج دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر کھڑا ہے۔ اگر اسے وہاں کرسٹیانو رونالڈو ملا، تو وہ اسے روکسین کا سلام ضرور پہنچائے گا۔
اس جذباتی خط کا اختتام یان کے ان الفاظ پر ہوتا ہے جو کسی بھی پڑھنے والے کی آنکھیں نم کر دیتے ہیں اور فٹ بال کے اس سفر کو ایک بالکل نیا زاویہ دیتے ہیں:
”میں وہی کرنے جا رہا ہوں جس کی تم نے پیش گوئی کی تھی، میں قسم کھاتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میرے پاس اصل بوٹ بھی ہوتے، تم سب کو بتاتی تھیں، ’میرا بھائی دنیا کا سب سے بڑا کھلاڑی بنے گا۔‘ میں ثابت کروں گا کہ تم صحیح تھیں، یا پھر ایسا کرتے کرتے اپنی جان دے دوں گا۔
تمہارا بھائی،
یان“
اب جب بھی ورلڈ کپ 2026 میں آئیوری کوسٹ کا یہ نوجوان فارورڈ نیٹ میں گیند ڈالے گا، تو دنیا صرف ایک گول کا جشن نہیں منائے گی، بلکہ آسمان کی طرف اٹھی ہوئی یان کی انگلیاں دنیا کو بتائیں گی کہ روکسین کا خواب سچ ہو گیا ہے۔
________________________




