کیا ورلڈ کپ کی نئی گیند گول کیپرز کے لیے ایک نیا ”جابولانی“ خواب بن رہی ہے؟

سنگت ڈیسک

فلاڈیلفیا کے آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے تھے۔ اسٹیڈیم میں ہزاروں شائقین کی نظریں میدان پر جمی تھیں، جہاں فرانس اور عراق کے درمیان ورلڈ کپ کا ایک اہم مقابلہ جاری تھا۔ پھر اچانک آسمان پر بجلی کڑکی، بارش تیز ہو گئی اور میچ کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔

لیکن اس رات صرف موسم ہی طوفانی نہیں تھا۔ بی بی سی کے اسٹوڈیو میں بیٹھے انگلینڈ کے سابق بین الاقوامی گول کیپر جو ہارٹ ایک اور طوفان کی نشاندہی کر رہے تھے؛ ایسا طوفان جو فٹ بال کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق مسئلہ کسی کھلاڑی، کسی دفاعی لائن یا کسی گول کیپر کا نہیں، بلکہ خود ورلڈ کپ کی آفیشل گیند کا ہو سکتا ہے۔

اور اگر جو ہارٹ درست ہیں تو دنیا کے بہترین گول کیپرز ایک ایسے دشمن کے سامنے کھڑے ہیں، جسے وہ ابھی پوری طرح سمجھ ہی نہیں پائے۔

ایک ایسا گول جس نے سوالات کھڑے کر دیے

پہلے ہاف میں فرانس کو برتری دلانے والا گول بظاہر کائلان ایمباپے کی کلاس اور مہارت کا شاہکار تھا۔ تقریباً 25 گز دور سے لگایا گیا شاٹ عراقی گول کیپر احمد باسل کے ہاتھوں کو چھوتا ہوا جال میں جا پہنچا۔

اسٹیڈیم میں موجود بیشتر لوگوں کے لیے یہ ایک معمول کا ورلڈ کلاس گول تھا، لیکن جو ہارٹ کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق یہی وہ اس قسم کا گول ہے جو اس ٹورنامنٹ میں بار بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”میں نے یہ گول بہت زیادہ مرتبہ دیکھا ہے، شاید اتنی بار کہ اب یہ محض اتفاق محسوس نہیں ہوتا۔ اس گیند میں کچھ نہ کچھ ضرور مختلف ہے۔“

ہارٹ کے مطابق مسئلہ خاص طور پر ان شاٹس میں سامنے آ رہا ہے جو کندھے کی اونچائی پر آتے ہیں، سیدھی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور جن میں نمایاں اسپن یا کرل موجود نہیں ہوتا۔

ظاہری طور پر گول کیپر درست پوزیشن لیتا ہے، ردعمل بھی دیتا ہے، ہاتھ بھی گیند تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگلے ہی لمحے گیند جال میں ہوتی ہے۔

جب دنیا کے بہترین گول کیپر بھی غلطی کرنے لگیں

اگر یہ صرف ایک یا دو واقعات ہوتے تو شاید انہیں انفرادی غلطیاں قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن جو ہارٹ کی دلیل یہ ہے کہ ایک ہی طرز کی غلطی مختلف ممالک اور مختلف سطح کے گول کیپرز سے سرزد ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق سینیگال کے ایڈورڈ مینڈی، انگلینڈ کے جارڈن پکفورڈ، الجزائر کے لوکا زیڈان، اور اب عراق کے احمد باسل۔ یہ سب ایسے گول کیپر ہیں جن کے تجربے، ردعمل اور صلاحیتوں پر سوال اٹھانا آسان نہیں۔

ہارٹ کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ٹائمنگ کا ہے۔ ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گیند گول کیپر تک اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پہنچ رہی ہے جتنا وہ شاٹ لگنے کے لمحے میں اندازہ لگاتا ہے۔“

یہ ایک معمولی جملہ لگ سکتا ہے، لیکن جدید فٹ بال میں ملی سیکنڈز ہی کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔ گول کیپر کا پورا جسمانی ردعمل ایک لمحاتی حساب کتاب پر منحصر ہوتا ہے۔ گیند کہاں جا رہی ہے؟ کتنی رفتار سے جا رہی ہے؟ کتنا مڑے گی اور کب پہنچے گی؟

اگر ان میں سے صرف ایک عنصر بھی غیر متوقع ہو جائے تو دنیا کا بہترین گول کیپر بھی عام دکھائی دینے لگتا ہے۔

جابولانی کی خوفناک یاد

فٹ بال کے پرانے شائقین کو یہ بحث فوراً 2010 کے جنوبی افریقہ ورلڈ کپ کی یاد دلاتی ہے۔

اس وقت ایڈیڈاس کی متعارف کردہ ”جابولانی“ گیند دنیا بھر کے گول کیپرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی تھی۔

اس گیند پر الزام تھا کہ وہ ہوا میں غیر متوقع انداز میں حرکت کرتی ہے، اچانک سمت بدلتی ہے اور دور سے آنے والے شاٹس کو پڑھنا انتہائی مشکل بنا دیتی ہے۔

اسپین کے عظیم گول کیپر ایکر کاسیاس نے اسے ”سپر مارکیٹ کی سستی گیند“ قرار دیا تھا۔ جبکہ برازیل کے جولیو سیزر نے کہا تھا کہ اسے ڈیزائن کرنے والوں نے کبھی خود گول کیپنگ نہیں کی ہوگی۔

اس وقت بھی سائنس دانوں اور ماہرین نے گیند کے ایروڈائنامک ڈیزائن پر طویل بحث کی تھی۔ آج، سولہ برس بعد، فٹ بال ایک مرتبہ پھر اسی سوال کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے کہ کیا جدید ورلڈ کپ گیند کی فزکس گول کیپرز کے خلاف جا رہی ہے؟ مسئلہ اصل میں ہے کیا؟

جو ہارٹ کا خیال ہے کہ گیند کا برتاؤ خاص طور پر اس وقت عجیب ہو جاتا ہے جب اس پر زیادہ اسپن موجود نہ ہو۔

روایتی طور پر گول کیپر گیند کی گردش کو دیکھ کر اس کی سمت اور رفتار کا اندازہ لگاتا ہے۔ لیکن جب گیند تقریباً بغیر اسپن کے سفر کرتی ہے تو اس کا راستہ آنکھ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گول کیپر بظاہر درست جگہ پر ہوتا ہے، لیکن اس کے ہاتھ ایک لمحہ دیر سے حرکت کرتے ہیں اور یہی ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔

ایمباپے کا گول ہو، مینڈی کے خلاف شاٹ ہو، پکفورڈ کا ردعمل ہو یا لوکا زیڈان کے خلاف لیونل میسی کی کوشش، جو ہارٹ کو ان سب میں ایک ہی مشترک عنصر نظر آتا ہے: گیند گول کیپر کے اندازے سے زیادہ تیزی سے اس کے سامنے پہنچ رہی ہے۔

 کیا واقعی گیند قصوروار ہے؟ گول کیپرز کی دوسری کہانی

جو ہارٹ کی تھیوری یقیناً توجہ حاصل کر رہی ہے، لیکن ٹورنامنٹ کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی دلچسپ ہے۔

اگر موجودہ ورلڈ کپ کی گیند واقعی گول کیپرز کے لیے ایک نیا ”جابولانی“ ثابت ہو رہی ہے تو پھر یہی ٹورنامنٹ کئی ایسی شاندار گول کیپنگ پرفارمنس کا بھی گواہ ہے جو اس نظریے کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے روکتی ہیں۔

سب سے نمایاں مثال کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کی ہے، جنہوں نے اسپین جیسے جارح مزاج حریف کے خلاف غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک تاریخی ڈرا دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اسپین کے مسلسل حملوں، قریبی فاصلے کے شاٹس اور باکس کے اندر پیدا ہونے والی افراتفری کے باوجود ووزینیا بار بار دیوار بن کر کھڑے رہے۔

اسی طرح ٹورنامنٹ کے مختلف مراحل میں کئی گول کیپرز نے ایسے سیوز کیے ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ جدید گول کیپنگ اب صرف ردعمل کا نام نہیں رہی۔ جرمنی کے خلاف آئیوری کوسٹ کے گول کیپر کے متعدد اہم سیوز ہوں، بیلجیئم اور ایران کے درمیان کم اسکورنگ مقابلے میں دونوں گول کیپرز کی مستحکم کارکردگی ہو یا پرتگال اور کانگو کے مقابلے میں گول کیپرز کی فیصلہ کن مداخلتیں، یہ تمام مثالیں بتاتی ہیں کہ بہترین گول کیپر اب بھی اس گیند پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور یہی نکتہ دراصل اس بحث کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

ممکن ہے جو ہارٹ درست ہوں کہ بعض مخصوص لانگ رینج شاٹس، خصوصاً وہ جن میں اسپن کم ہو، گول کیپرز کے لیے غیرمعمولی چیلنج پیدا کر رہے ہوں، لیکن اسی وقت یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ متعدد گول کیپر اسی گیند کے ساتھ یادگار کارکردگیاں دکھا رہے ہیں۔

بہرحال اس سے بعض تکنیکی ماہرین ایک مختلف نتیجہ اخذ کرتے ہیں: مسئلہ شاید خود گیند سے زیادہ اس بات کا ہے کہ کون سا گول کیپر اس کی خصوصیات کو کتنی جلدی سمجھتا اور اپناتا ہے۔

اعلیٰ سطح پر گول کیپنگ صرف ہاتھوں کی پھرتی نہیں بلکہ زاویوں کی سمجھ، ابتدائی پوزیشن، قدموں کی ترتیب، شاٹ کی پیشگی پیش گوئی اور فیصلہ سازی کا مجموعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی گیند بعض گول کیپرز کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے، جبکہ دوسرے اسی گیند کے ساتھ شاہکار پرفارمنس پیش کر دیتے ہیں۔

مزید برآں اس بحث کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جدید فٹ بال میں شاٹس کی طاقت، کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تربیتی پروگراموں نے بھی گول کیپرز کا کام پہلے سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

ممکن ہے کہ مسئلہ گیند میں نہ ہو بلکہ کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی وجہ سے ہو، لیکن جو ہارٹ اس وقت تک قائل نہیں جب تک وہ ایک ہی قسم کے گول بار بار نہ دیکھ لیں۔ اور ان کے مطابق اس ورلڈ کپ میں وہ یہی دیکھ رہے ہیں۔

بہرحال آنے والے دن فیصلہ کریں گے۔ ورلڈ کپ ابھی اپنے اہم مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ مزید طاقتور شاٹس آئیں گے۔ مزید دباؤ والے لمحات پیدا ہوں گے۔ مزید گول کیپر امتحان سے گزریں گے۔ شاید چند ہفتوں بعد ثابت ہو جائے کہ جو ہارٹ کی تشویش محض ایک مبصر کی رائے تھی۔

یا شاید یہ ٹورنامنٹ فٹ بال کی تاریخ میں اس ورلڈ کپ کے طور پر یاد رکھا جائے جس میں ایک نئی گیند نے دنیا کے بہترین گول کیپرز کو الجھا کر رکھ دیا۔

فی الحال ایک بات طے ہے۔ جب بھی کوئی طاقتور شاٹ دور سے آئے گا اور گیند ہاتھ لگنے کے باوجود جال میں جا گرے گی، تو لاکھوں شائقین کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرے گا: کیا یہ گول اسٹرائیکر کی مہارت کا نتیجہ تھا یا پھر واقعی اس گیند میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے؟

_________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button