سجا ہوا کمرہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)

اوہنری (ترجمہ: رومانیہ نور)

زیریں مغربی حصے کے سرخ اینٹوں والے علاقے کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ وقت کی طرح سے بے چین، لگاتار جگہ بدلتے ہوئے، تیزی سے رواں دواں رہتا ہے۔ وہ بے گھر ہیں لیکن ان کے سیکڑوں گھر ہوتے ہیں۔ وہ کرائے کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ ان کی عارضی رہائش گاہوں کی طرح، ان کے دل اور دماغ بھی ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں۔ وہ ”گھر، پیارے گھر“ کا راگ الاپتے ہیں؛ وہ گتے کی پیٹی میں کل سامانِ حیات لیے پھرتے ہیں۔ فطرت سے انہیں کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک بیلیں وہی ہوتی ہیں جو خواتین کی ٹوپیوں پر کڑھی ہوتی ہیں اور ربڑ کا نقلی پودا ہی ان کے لیے انجیر کا درخت ہوتا ہے۔

لہٰذا اس علاقے کے مکانوں میں، جہاں ہزاروں باشندے رہتے ہیں، ان سے جڑی ایک ہزار کہانیاں ہوں تو کیا اچنبھے کی بات ہے، جن میں سے زیادہ تر کہانیاں غیر دلچسپ ہوتی ہیں، لیکن یہ عجیب بات ہوگی اگر ان تمام خانہ بدوشوں کے جیون میں ایک دو بھوت پریت شامل نہ ہو سکیں۔

ایک شام اندھیرا چھا جانے کے بعد ایک نوجوان ان ٹوٹی پھوٹی ہوئی سرخ حویلیوں میں ان کی گھنٹیاں بجاتے ہوئے گھوم رہا تھا۔ بارہویں بار میں اس نے اپنا پَتلا دستی تھیلا سیڑھی پر رکھا، اپنی ٹوپی ہٹائی اور ماتھے سے دھول پونچھی۔ گھنٹی کی آواز کہیں دور دراز، کھوکھلی گہرائیوں میں گونجتی سنائی دے رہی تھی۔

یہ بارہواں مکان تھا، جس کے دروازے کی گھنٹی اس نے بجائی تھی۔ ایک مکان مالکن آئی جس نے اسے ایک مضر پیٹو کیڑے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا جس نے پھل کا سارا گودا کتر لیا ہو اور اب ایک کھوکھلے خول میں سامان خور و نوش بھرنے کی کوشش میں مصروف ہو جیسے، خالی مکان کے لیے ایک کرایہ دار۔

اس نے پوچھا کہ کیا کرایے پر دینے کے لئے کوئی کمرہ خالی ہے؟

”اندر آؤ“ مکان مالکن نے کہا، اس کی آواز اس کے گلے میں کھر کھرا رہی تھی ”میرے پاس تیسری منزل کے پچھواڑے ایک کمرہ ہے، جو ایک ہفتہ پہلے ہی خالی ہوا ہے۔ کیا آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں؟“

نوجوان سیڑھیوں پر چڑھ کر اس کے پیچھے چل دیا۔ کسی خاص ذریعہ سے آتی دھندلی سی روشنی نے ہال کی تاریکی کو قدرے کم کر دیا تھا۔ وہ قالین بچھے زینے پر بغیر کسی شور کے چلتے رہے، قالین اس قدر پرانا ہو چکا تھا کہ اسے بننے والا بھی اسے پہچاننے سے انکار کر دے۔ ایسا لگتا تھا کہ گھس گھس کر اس کا بھرتہ بن گیا ہے۔ اس کی حالت زینے پر لگی ہوئی کائی سے بھی بد تر تھی، جو دھوپ سے عاری ہوا اور نمی سے آگ کر سبز ٹکڑوں کی صورت سیڑھیوں تک پھیلی ہوئی تھی اور پاؤں کے نیچے نامیاتی مادے کی طرح چپکتی تھی۔ سیڑھیوں کے ہر موڑ پر دیوار میں خالی دریچے تھے۔ شاید کبھی ان کے اندر پودے لگائے گئے تھے۔ اگر ایسا تھا تو وہ اس گندی اور آلودہ ہوا میں مر چکے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ولیوں کے مجسمے وہاں کھڑے ہوں، لیکن یہ تصور کرنا مشکل نہیں تھا کہ چیلوں اور شیطانوں نے انہیں تاریکی میں گھسیٹ کر نیچے کسی خستہ حال گڑھے کی ناپاک گہرائیوں تک پہنچا دیا تھا۔

”یہ رہا وہ کمرہ۔۔“ مکان مالکن نے اپنے کھرکھراتے گلے سے کہا، ”یہ ایک اچھا کمرہ ہے. یہ اکثر خالی نہیں ہوتا ہے. گزشتہ موسم گرما میں میرے پاس کچھ رئیس لوگ کرایہ دار تھے، کوئی پریشانی نہیں تھی اور اس کمرے کے لئے انہوں نے پیشگی ادائیگی کی تھی۔ پانی بر آمدے کے آخر میں ہے۔ اسپرولز اور مونی نے اسے تین ماہ تک اپنے پاس رکھا۔ وہ تھیٹر میں کام کرتے تھے۔ مس بریٹا اسپرولز، آپ نے ان کے بارے میں سنا ہوگا، اوہ، یہ تو صرف اسٹیج کے لیے رکھے گئے نام تھے۔۔ سنگھار میز کے بالکل اوپر وہ جگہ ہے جہاں ان کا شادی کا فریم شدہ سرٹیفکیٹ لٹکا ہوا تھا۔ گیس یہاں ہے، اور آپ دیکھ رہے ہیں نا کہ وہاں کافی بڑی الماری ہے۔ یہ ایک ایسا کمرہ ہے جو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ یہ کبھی بھی زیادہ دیر تک بیکار نہیں رہتا۔“

”کیا آپ کے پاس زیادہ تر تھیٹر کے لوگ آتے ہیں جو یہاں کمرے میں رہتے ہیں؟“ نوجوان نے پوچھا۔

”وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ میرے کرایہ داروں کا ایک خاصا بڑا حصہ سینما گھروں سے جڑا ہوا ہے۔ جی ہاں، جناب، یہ تھیٹر کا علاقہ ہے. اداکار کبھی بھی کہیں بھی دیر تک نہیں ٹھہرتے۔ مجھے میرے حصے کا کرایہ ملتا ہے۔ جی ہاں، وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔“

اس نے کمرے کی ایک ہفتہ کی پیشگی ادائیگی کی۔ اس نے کہا کہ وہ تھک چکا ہے اور کمرہ ملکیت میں آتے ہی فوری طور پر آرام کرے گا۔ اس نے پیسوں کی گنتی کی۔ اس نے کہا کہ کمرہ ہر لحاظ سے تیار ہے حتیٰ کہ تولیہ اور نہانے کا پانی بھی تیار تھا۔ جیسے ہی مکان مالکن جانے کو مڑی ، اس نے ہزارویں بار وہ سوال اٹھایا جو وہ اپنی زبان پر لیے پھرتا تھا۔

”ایک نوجوان لڑکی، مس ویشنر، مس ایلوئس ویشنر۔۔ کیا آپ کو اپنے کرایہ داروں میں سے ایک ایسی لڑکی یاد ہے؟ زیادہ تر امکان ہے کہ وہ اسٹیج پر گاتی ہوگی۔ ایک گوری لڑکی، درمیانے قد اور دبلی پتلی، سرخ، سنہرے بالوں والی اور اس کی بائیں بھوں کے قریب ایک سیاہ تل ہے۔“

”نہیں، مجھے نام یاد نہیں ہے۔ یہ اسٹیج کے اداکاروں کے نام ہیں جو وہ اپنے کمروں کی طرح بار بار تبدیل کرتے ہیں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ نہیں، ایسا کوئی نام میرے ذہن میں نہیں ہے۔“

نہيں. ہمیشہ نہیں. پانچ ماہ کی مسلسل پوچھ گچھ اور یہی ناگزیر منفی جواب۔ ہوٹل کے مینیجروں، تھیٹر کے ایجنٹوں، سنگیت کے اسکولوں اور گیت منڈلیوں سے پوچھ گچھ میں دن میں بہت سا وقت صرف ہوتا۔ رات کے وقت سینما گھروں کے ناظرین سے لے کر تمام اسٹار کاسٹ تک وہ ایک ہی سوال پوچھتا۔ ہر میوزک شو میں جاتا جہاں اسے اس کے ملنے کی معمولی سی امید بھی ہوتی، جسے وہ دنیا میں سب سے زیادہ چاہتا تھا۔ اس نے اسے تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اسے یقین تھا کہ گھر سے غائب ہونے کے بعد پانی سے گھرے اس عظیم شہر نے اسے کہیں نہ کہیں چھپا رکھا تھا، لیکن یہ شہر کسی شیطانی دلدل کی طرح تھا۔ ریت کے ٹیلے خوفناک تیز ہواؤں کے زور پر روز اپنی جگہ بدلتے تھے، آج جس ریت کے ذرات اوپر نظر آتے تھے کل تک وہ نیچے دھنس چکی ہوتی تھی۔

سجے سجائے کمرے نے اپنے تازہ ترین مہمان کا استقبال کسی منہ پھٹ چھنال کی ہنسی کی طرح ایک بناوٹی مہمان نوازی ، ایک مصروف، پرجوش، لاپروا ناز و انداز سے کیا۔ بوسیدہ فرنیچر، ایک صوفے اور دو کرسیوں کی خستہ حالی، کم خواب کے تار تار استر، دونوں کھڑکیوں کے درمیان ایک فٹ چوڑا سستا آئینہ، دیوار پر ٹنگے دو سنہرے تصویری فریم اور ایک کونے میں پیتل کے پایوں والا پلنگ۔۔ سب اسے دکھاوے کا آرام دینے کے لیے تیار تھے۔

مہمان بے دم ہو کر ایک کرسی پر ڈھے گیا، جبکہ کمرہ، اپنے پچھلے کرایہ داروں کی کہانیاں سنانے کے لیے یوں بے تاب تھا گویا یہ کمرہ برج بابل ہو۔ کمرے کی گہرائیوں سے اٹھتی بھانت بھانت کی بولیاں آپس میں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔

ایک رنگا رنگ شاندار پھولوں والا مستطیل غالیچہ، دھول سے اٹی دری کے درمیان یوں بچھا تھا جیسے مٹیالے سمندر کے بیچوں بیچ کوئی ہرا بھرا جزیرہ ہو۔ دیوار پر لگے بھڑکیلے وال پیپر پر فن پاروں کی وہی سستی نقلی تصویریں ٹنگی تھیں جو عموماً کرائے پر اٹھنے والے تمام کمروں میں لگی ہوتی ہیں۔ ہوگنوٹ لورز، دی فرسٹ فائٹ، دی ویڈنگ بریک فاسٹ، سائکی ایٹ دی فاؤنٹین۔۔ ایمیزون بیلے کی کسی رقاصہ کے چمکیلے دوپٹے کی طرح انگیٹھی کی خستہ محراب کو چمکیلے پردے سے بھدے انداز میں ڈھکا گیا تھا۔ محراب کے اوپر کچھ ٹوٹا پھوٹا کباڑ پڑا تھا جسے کمرے کے خوش نصیب رہائشیوں نے کہیں اور جاتے سمے اسے وہیں پھینک دیا تھا، تو ان میں ایک یا دو گلدان، اداکاراؤں کی تصویریں، ادویات کی بوتلیں اور تاش کے کچھ آوارہ پتے شامل تھے۔

ایک ایک کر کے، جیسے جیسے اس کمرے کے کرایہ داروں کے کردار نوجوان کے سامنے واضح ہوتے گئے، ان کی چھوڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی نشانیاں اہمیت اختیار کرنے لگیں۔ سنگھار میز کے سامنے قالین میں دھنسے ریشوں نے بتایا کہ خوبصورت لڑکیاں بھیڑ میں کیسی لگتی ہوں گی۔ دیوار پر چھپے انگلیوں کے چھوٹے چھوٹے نشانات ننھے قیدیوں کے بارے میں بتا رہے تھے جو سورج اور ہوا میں اپنا راستہ محسوس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کسی پھٹے ہوئے بم کے شگاف کی طرح دیوار پر بنا دھبہ غصے میں آکر دیوار پر دے مارے گئے کسی گلاس یا بوتل کی کہانی کہہ رہا تھا۔ آئینے کے پیچھے کسی نے ہیرے کی کنی سے ٹیڑھے میڑھے حروف سے لفظ ’میری‘ کندہ کیا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کرائے کے کمرے میں رہنے والوں نے اس کی ناقابل برداشت ٹھنڈ سے چڑ کر اپنا سارا غصہ کمرے پر ہی نکال دیا تھا۔ ٹوٹا پھوٹا فرنیچر ، کھلے اسپرنگوں والا صوفہ ایک خوفناک عفریت لگ رہا تھا جو کسی عجیب و غریب جھٹکے کے تناؤ کے دوران مارا گیا تھا۔ کسی مار پیٹ کی کارروائی میں سنگ مر مر کی محراب کا ایک کونا ٹوٹ چکا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان اشیا کی خاموشی کے در پردہ کمرے میں کئی طوفان گزر چکے ہیں۔ کمرے کے فرش پر ایسے نقش درج تھے جو کمرے کے لوگوں کی نیت اور حالات بیان کر رہے تھے۔ یہ بات ناقابل یقین لگتی تھی کہ کمرے کو اتنا نقصان ان ہی لوگوں نے پہنچایا جنہوں نے اس کمرے کو کبھی اپنا گھر سمجھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ جھوٹے گھر میں گھریلو سکھ پانے کی خواہش ہی نے ان کے غصےکی آگ کو بھڑکا دیا ہو۔ اپنی تو جھونپڑی بھی ہو تو ہم اس میں جھاڑو پوچا لگا کر رکھیں ، سجائیں اور اسے پیار بھی کریں۔

کرسی پر بیٹھے نوجوان کرایہ دار نے ان خیالات کو دبے پاؤں اپنے ذہن میں نرمی کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت دی، جبکہ کمرے میں دیگر کرایہ داروں کی خوشبوئیں اور آوازیں گردش کر رہی تھیں۔ اس نے ایک کمرے میں ایک ہلکی سی ہنسی کی آواز سنی۔ دوسرے میں ڈانٹ پھٹکار، کہیں پانسے پھینکنے کی کھڑکھڑاہٹ، کہیں لوری اور کسی کمرے میں رونے کی آواز۔۔ اوپر ایک بنجو بجنے کی روح پرور آواز۔ کہیں دور سے دروازے کھٹکھٹانے کی آواز۔ اور اس سے بھی کہیں پرے وقفے وقفے سے گرجتی ٹرینیں گزرتی رہیں۔ ایک بلی عقبی باڑ پر بری طرح لٹک رہی تھی۔ اس نے گہری سانس لی اور کمرے کی فضا کو سینے میں بھر لیا۔۔ سیلن، گلے ہوئے فرنیچر اور دھول کی ملی جلی بو اس کی رگوں میں سرایت کر گئی، یہ ایک سرد ، سڑانڈ بھرا احساس تھا۔

پھر اچانک، جب وہ وہاں آرام کر رہا تھا تو کمرہ جنگلی پھولوں کی تیز، میٹھی مہک سے بھر گیا۔ اس مہک کو ہوا کا ایک جھونکا کمرے میں لے کر آیا اور وہ اس قدر جاندار تھا کہ جیسے سچ مچ جیتا جاگتا وجود کمرے میں داخل ہوا ہو۔ وہ نوجوان زور زور سے پکارا: ”کیا ہوا پیاری؟“ یوں جیسے اسے بلایا گیا ہو، اور وہ اٹھ کر اس کا جواب دینے لگا۔ خوشبو نے اسے گھیر لیا اور اسے چاروں طرف سے لپیٹ لیا۔ اس نے اس کے استقبال کے لئے اپنے بازوؤں کو بڑھایا، اس کے تمام حواس کچھ دیر کے لئے مختل ہو گئے۔ کوئی خوشبو کسی کو کیسے پکار سکتی ہے؟ یقیناً یہ ایک آواز ہوگی۔۔ لیکن، کیا یہ وہ آواز نہیں تھی جس نے اسے چھو لیا تھا، جس نے اسے سہلایا تھا؟

”وہ اس کمرے میں رہی ہے۔۔’“ وہ چلانے لگا، وہ اس کی کوئی نشانی ڈھونڈنے کے لیے بے کل ہو گیا ، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کو پہچان لے گا جو اس کی تھی یا جسے اس نے چھوا تھا۔ جنگلی پھولوں کی یہ مخفی خوشبو، وہ خوشبو جس سے وہ پیار کرتی تھی اور اسے خود بناتی تھی- یہ کہاں سے آئی؟

کمرہ لاپروائی سے ترتیب دیا گیا تھا۔ باریک میز پوش پر بالوں میں لگانے والی آدھی درجن پنییں بکھری ہوئی تھی جو عورت ذات کی ذہین، اور غیر معمولی دوست، صنف نسواں کی طرح بے پایاں مزاج اور تناؤ سے لاتعلق تھیں۔ اس نے ان کو نظر انداز کر دیا، سنگھار میز کی درازوں میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے اسے ایک چھوٹا، پھٹا ہوا رومال ملا۔ اس نے اسے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا، مگر اس میں سے تو کنول کے پھولوں کی تیز مہک آرہی تھی۔ اس نے اسے فرش پر پھینک دیا۔ ایک اور دراز میں اسے عجیب و غریب بٹن ملے، ایک تھیٹر پروگرام کا دعوت نامہ، کسی سود خور بنیے کی رسید، دو گمشدہ مارش میلواور خوابوں کی تعبیر بتانے والی ایک کتاب۔ آخری دراز میں ایک عورت کی سیاہ ساٹن کی بالوں میں لگانے والی جالی تھی، جس نے اسے شش و پنج میں مبتلا کر دیا۔۔ لیکن کالی ساٹن کی بالوں کی جالی بھی عورتوں کے روز مرہ استعمال کی ایک عام چیز ہے، اور کوئی کہانی نہیں سناتی۔ کسی راز سے پردہ نہیں اٹھاتی۔

اور پھر وہ خوشبو پر ایک شکاری کی طرح لپکا اور اس کی ٹوہ میں کمرے کا کونہ کونہ چھان مارا ، دیواروں کا چپہ چپہ ٹٹول لیا ، اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے دری کی ہر سلوٹ کو دیکھ لیا، انگیٹھی اور میزوں، پردوں اور لٹکنوں ، کونے میں نشے میں دھت شرابی کی طرح لڑکھڑاتی ہوئی الماری، اس نے کوئی چیز بھی بنا تلاشی کے نہیں چھوڑی۔۔ لیکن اس کی کوئی نشانی اسے نہیں ملی۔ اسے پھر بھی احساس ہو رہا تھا کہ وہ پہلو میں، آس پاس، اندر، اس کے اوپر نیچے، اس کے ہر طرف چھائی ہوئی ہے، اس سے لپٹی ہوئی ہے۔ اسے راغب کر رہی ہے، اس کے حواس میں اس قدر پر جوش انداز میں پکار رہی ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ بھی اس پکار کو سن سکتے تھے۔ ایک بار پھر اس نے اونچی آواز میں جواب دیا: ”ہاں پیاری!“ اور پھٹی آنکھوں سے خالی جگہ کو دیکھنے لگا، کیونکہ وہ ابھی تک شکل، رنگ اور محبت کو سمجھ نہیں سکا تھا اور اس کے بازو ابھی تک جنگلی پھولوں کی مہک میں پھیلے ہوئے تھے۔ اوہ، خدا! یہ مہک کہاں سے آتی ہے، اور مہک میں پکارنے کے لیے آواز کب سے شامل ہوگئی ہے؟ اس بات نے اسے بے طرح جھنجھلا دیا۔

دراڑوں اور کونوں کو کریدنے سے اسے کارک اور سگریٹ ملے۔ جنہیں اس نے حقارت سے پھینک دیا۔ دری کے نیچے اسے آدھ جلے سگار کا ٹکڑا ملا جسے اس نے غصے میں آ کر گالیاں دیتے ہوئے اپنی ایڑی تلے مسل دیا۔۔ اس نے کمرے کی ایک سرے سے آخری سرے تک چھان بین کی۔ اسے بہت سے کرایہ داروں کی کئی چھوٹی چھوٹی نشانیاں ملیں۔۔ لیکن جس عورت کو وہ تلاش کر رہا تھا اور جو وہاں مقیم تھی اور جس کی روح وہاں منڈلا رہی تھی، اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
اور پھر اسے مکان مالکن کا دھیان آیا۔

وہ آسیبی کمرے سے بھاگ کر نیچے آیا۔ ایک دروازے کی دراڑ سے روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ اس کی دستک پر باہر آئی۔ اس نے اپنے جوش و خروش کو ہر ممکن حد تک دباتے ہوئے پوچھا، ”میڈم، کیا آپ مجھے بتائیں گی کہ میرے آنے سے پہلے میرے کمرے میں کون رہتا تھا؟’“

”ہاں جناب۔ میں آپ کو دوبارہ بتا سکتی ہوں. جیسا کہ میں نے کہا تھا، اسپرولز اور مونی۔ مس بریٹا اسپرولز یہ تو اس کا سینما گھر کا نام تھا، ویسے وہ مسز مونی تھی۔ میرا گھر شرافت کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کی شادی کا فریم شدہ سرٹیفکیٹ ایک کیل پر لٹکا ہوا تھا۔“

”مس اسپرولز کس طرح کی عورت تھیں- میرا مطلب ہے، دیکھنے میں کیسی تھیں؟“

”کیوں، کالے بالوں والی ، ناٹا قد، فربہ بدن اور ہنس مکھ چہرہ۔۔ وہ ایک ہفتہ پہلے منگل کو چلی گئی تھی۔“

”اور اس سے پہلے؟’“

‘”ٹھیلا چلانے والا ایک کنوارا شخص رہتا تھا۔ وہ میرا ایک ہفتہ کا کرایہ کھا کر چلتا بنا۔ اس سے پہلے مس کراؤڈر اور ان کے دو بچے رہتے تھے، جو چار مہینے رہے۔ اور ان میں سے ایک بوڑھا مسٹر ڈوئل تھا، جس کے بیٹے اس کا کرایہ چکاتے تھے۔ اس نے چھ مہینے تک کمرہ اپنے پاس رکھا۔ یہ ایک سال پرانا حساب کتاب ہے سر، اور اس سے پہلے کا مجھے یاد نہیں ہے۔“

اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے کمرے میں واپس چلا گیا۔ کمرے میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ جس جوہر نے اسے زندہ کر دیا تھا وہ ختم ہو چکا تھا۔ جنگلی پھولوں کی خوشبو غائب ہو چکی تھی۔ اس کی جگہ گھر کے فرنیچر کی پرانی، باسی بو تھی جیسی گودام کے ماحول میں بھری ہوتی ہے۔

اپنی امیدوں کے ٹوٹنے پر اس کا ایقان ہی جاتا رہا۔ وہ کچھ دیر تک گیس کی پیلی جھلملاتی ہوئی روشنی کو گھورتے ہوئے بیٹھا رہا۔ پھر وہ بستر کی جانب گیا اور چادروں کو پٹیوں میں پھاڑنا شروع کر دیا۔ اپنے چاقو کے بلیڈ کی مدد سے اس نے انہیں کھڑکیوں اور دروازوں کے ارد گرد ہر دراڑ میں مضبوطی سے ٹھونس دیا۔ جب کمرہ ہر طرف سے بند ہو گیا تو اس نے روشنی بجھا دی، گیس کو پوری طرح کھول دیا اور اپنے مقدر پر راضی بہ رضا بستر پر دراز ہو گیا۔

* * * * **

یہ مسز میک کول کی بیئر پارٹی کی باری کی رات تھی ۔ لہٰذا وہ بیئر کین لے کر آئیں اور مسز پرڈی کے ساتھ ان زیرِ زمین پناہ گاہوں میں سے ایک میں جمع تھیں، جہاں بوڑھی مکان مالکنیں روانہ بلا ناغہ اکٹھا ہوتی تھیں۔

”میں نے آج شام اپنی تیسری منزل کرایے پر چڑھا دی ہے،“ مسز پرڈی نے بئیر کے جھاگ کا مزہ لیتے ہوئے کہا، ”ایک نوجوان نے اسے لیا ہے۔ وہ دو گھنٹے پہلے ہی بستر پر گیا ہے“

”کیا سچ مچ مسز پرڈی، میڈم؟“ مسز میک کول نے انتہائی ستائشی لہجے کے ساتھ کہا، ”آپ اس طرح کے کمروں کو کرایے پر چڑھانے کے لئے حیرت انگیز طور پر باکمال ہیں. اور کیا آپ نے اسے بتایا تھا؟“ اس نے اسرار سے بھری ہوئی سرگوشی میں اپنی بات ختم کی۔

مسز پرڈی نے اپنے کھرکھراتے لہجے میں کہا، ”کمرے کرائے پر دینے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ میں نے اسے نہیں بتایا، مسز میک کول۔“

”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میڈم۔ کمروں کو کرایہ پر دے کر ہم زندہ رہتے ہیں۔ آپ کو کاروبار کرنے کا شعور ہے، میڈم۔ ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جنہیں اگر معلوم ہو جائے کہ اس کمرے میں خود کشی ہو چکی ہے تو وہ کمرہ کرایے پر لینے سے انکار کر دیں گے۔“

”آپ کے بقول، ہمیں اپنی روزی روٹی تو کمانی ہی ہے،’“ مسز پرڈی نے تبصرہ کیا، ”ہاں میم۔ یہ سچ ہے. آج سے صرف ایک ہفتہ پہلے تو میں نے تیسری منزل پر کمرہ سجانے میں، میں نے آپ کی مدد کی تھی۔ اور وہ لڑکی کتنی پیاری اور نازک تھی جس نے گیس کھول کر خود کشی کی تھی۔۔ اور اس کا چہرہ کتنا حسین تھا، مسز پرڈی، میڈم۔“

”آپ کے بقول، اسے خوبصورت کہا جا سکتا تھا،’“ مسز پرڈی نے تنقیدی انداز میں کہا، ”اگر اس کی بائیں آنکھ کے نیچے وہ تل نہ ہوتا۔ اپنا گلاس دوبارہ بھرو، مسز میک کول۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close