دماغ کی خطرناک بیماری ڈیمینشیا کے بارے میں ہمیں کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

ویب ڈیسک

ڈیمینشیا ایک ایسی بیماری ہے، جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے، جس کی وجہ سے یادداشت، سوچ اور بات چیت کے ساتھ ساتھ شخصیت میں بھی تبدیلی آتی ہے

دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ ڈیمینشیا کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے

وہ مسائل جو یادداشت کو متاثر کر سکتے ہیں:

◉ ڈپریشن اور اینگزائٹی: یہ وہ مسائل ہیں، جن میں مریض اپنی تکالیف میں ہی الجھا رہتا ہے اور اپنے ارد گرد کے حالات سے بے خبر رہتا ہے۔ یہ امراض توجہ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ڈپریسڈ مریض اکثر سوچتے ہیں کہ ان کی یادداشت ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ بوڑھے افراد جو خراب یادداشت کی شکایت کرتے ہیں، دراصل ڈیمینشیا کے بجائے ڈپریشن میں مبتلا ہوں

◉ عمر: بڑی عمر کے افراد کو باتیں یا چیزیں یاد رکھنے یا لوگوں کو ان کے ناموں سے پہچاننے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تقریباً پچاس برس کی عمر کے بعد سے یہ مسئلہ ہم سب کو کسی نہ کسی حد تک ضرورمتاثر کرتا ہے

◉ بوریت، تھکن یا نیند آنا: یہ کیفیات بھی یادداشت کو متاثر کرتی ہیں

◉ جسمانی صحت: خراب سماعت اور بصارت، شراب نوشی، نیند کی دوائیں یا طویل عرصے کا درد بھی یادداشت کو متاثر کرسکتے ہیں

◉ تھائرائڈ غدود کا صحیح کام نہ کرنا: اگر یہ غدودصحیح طرح کام نہ کرتے ہوں تو جسم اور دماغ سست ہو جاتا ہے۔

◉ دل اور پھیپھڑے کی بیماریاں: ان بیماریوں کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔

◉ ذیابیطس: شکر کی بڑھی ہوئی یا کم سطح بھی دماغ کے فعل کو متاثر کرتی ہے

◉ سینے یا پیشاب کا انفیکشن: سینے یا پیشاب کے انفیکشن حتیٰ کہ غیر مناسب خوراک بھی یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے

 ڈیمینشیا Dementia

یہ مرض بنیادی طور پر بوڑھے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اَسی برس سے زائد عمر کے تقریباً بیس فیصد افراد کو یادداشت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ان میں سب سے عام مسئلہ الزائمر کی بیماری ہے۔ یہ بیماری مختلف مسائل کا سبب بنتی ہے مثلاً خراب یادداشت، صحیح الفاظ کے چناؤ میں مشکل؛ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشکل ہونا مثلاً کپڑے خود سے نہ تبدیل کر سکنا؛ فیصلے کی صلاحیت کا متاثر ہونا، چیزوں کا اندازہ صحیح نہ کر سکنا (اپنی والدہ کی عمر اپنے برابر بتانا)؛ شخصیت میں تبدیلی، چڑچڑاپن، غصہ، درشتگی، جن چیزوں میں پہلے دلچسپی تھی ان میں دلچسپی کم ہو جانا، شکوک و شبہات پیدا ہو جانا، گھبراہٹ، ڈپریشن اور اس بات کو ماننے سے انکار کرنا کہ ان کی ذہنی صلاحیتیں پہلے جیسی نہیں ہیں، چاہے باقی گھر والوں کو واضح طور پہ ایسا لگ رہا ہو۔ حالت زیادہ خراب ہوجائے تو ڈیمینشیا کا مریض اپنے ہی گھر میں راستے بھول سکتا ہے۔ ڈیمینشیا کے مریض اپنے شوہر، بیوی یا بچوں کو بھی نہیں پہچان پاتے

تقریباً تمام مریضوں میں یہ بیماری آہستہ آہستہ زیادہ شدید ہوتی جاتی ہے۔ گو کہ یہ عمل تیزی سے بھی ہو سکتا ہے، تاہم عام طور پر بہ تدریج ہوتا ہے۔ بعض دفعہ فالج کے یکے بعد دیگر ہونے والے معمولی حملے بھی ڈیمینشیا (ملٹی انفارکٹ ڈیمینشیا) کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے ڈیمینشیا کی علامات اچانک تیزی سے اور خراب ہو جاتی ہیں۔ تاہم حملوں کے درمیان تقریباً سال بھر کا ایسا وقفہ ہو سکتا ہے، جس میں کوئی خاص تبدیلی نہ ہو۔ اس طرح کا ڈیمینشیا موروثی بھی ہو سکتا ہے

کچھ ایسے مریض، جن کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں، وہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوریوں، مثلاً یادداشت کی کمزوری اور روزمرہ کے کا م کرنے میں مشکل ہونا، کو سمجھ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا اور یوں وہ اپنی دیکھ بھال میں دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ جبکہ دیگر مریض اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، ایسے لوگوں کی مدد کرنی مشکل ہوتی ہے

ڈیمینشیا کے تقریباً دو تہائی کیسز الزائمر کی بیماری سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ڈمینشیا کی دو سو سے زیادہ دیگر اقسام ہیں، جن میں مختلف لوگوں میں مختلف طرح کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں

ڈیمینشیا کے بارے میں کچھ ضروری باتیں

عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ ہم اپنی یادداشت کھو رہے ہوتے ہیں، مثال کے طور پر کبھی کبھار ہم گاڑی کی چابی رکھ پر بھول جاتے ہیں کہ چابی کہاں رکھی تھی لیکن ڈمینشیا کی علامات اس سے تھوڑا مختلف ہیں

◉ یادداشت کا چلے جانا:
یہ ڈیمینشیا کا سب سے عام پہلو ہے، تاہم دیگر علامات میں انسان کے رویوں، موڈ اور شخصیت میں تبدیلی سامنے آتی ہے، وہ جانی پہچانی جگہوں پر کھو جاتا ہے یا گفتگو کے دوران درست لفظ اس کو یاد نہیں آتا، بات اس حد تک بھی بڑھ جاتی ہے کہ لوگوں سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کچھ کھانا ہے یا پینا؟

◉ ڈیمینشیا کی تشخیص میں کچھ وقت لگ سکتا ہے:
اگر آپ کی عمر پینسٹھ سال سے کم ہے تو اس بیماری کی تشخیص کے کم امکانات ہیں، چونکہ ڈمینشیا کا سب سے زیادہ رسک بڑھتی عمر کے ساتھ ہی ہوتا ہے

لیکن ضروری نہیں کہ ہر بڑھتی عمر کے افراد اس بیماری میں مبتلا ہوں، کیونکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کی عمر نوے سال سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں ڈیمینشیا کے کوئی آثار نہیں ہوتے

◉ اس بیماری کی مختلف اقسام ہیں:
نامور مصنف ٹیری پراچیٹ ڈیمینشیا کی ایک غیر معمولی حالت کا شکار تھے جسے پوسٹریئر کورٹیکل ایٹروفی کہتے ہیں، اس بیماری نے ان کے دماغ کے پچھلے حصے کے بیرونی حصوں کو متاثر کیا تھا۔ یہ الزائمر کی ذیلی قسم ہے۔

◉ یہ ادویات کی وجہ سے ہو سکتا ہے:
کبھی کبھار ڈیمینشیا مختلف قسم کی ادویات کھانے کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے جو دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر کو متاثر کرتی ہے جیسا کہ نیند کی ادویات۔

ڈیمینشیا کیوں ہوتا ہے؟

ماہرین کو ڈیمینشیا کی زیادہ تر اقسام کی حقیقی وجہ وثوق سے معلوم نہیں لیکن وجوہات کے بارے میں تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ ڈیمینشیا بعض دفعہ خاندانی بیماری ہوتی ہے جیسے کہ الزائمر کی بیماری خاندان میں ایک سے زیادہ افراد کو ہو سکتی ہے۔ ڈاؤن سنڈروم سے متاثرہ افراد میں ڈیمینشیا بہت عام ہے۔ سر پر بہت شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور موٹاپا بھی ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھاتے ہیں کیونکہ ان مسائل کی وجہ سے دماغ کو خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے

ڈیمینشیا کی ایک قسم ان افراد کو ہوتی ہے، جو پارکنسن نامی بیماری میں مبتلا ہوں۔ ڈیمینشیا کی ایک قسم کورساکوف سنڈروم ہے جو نوجوان افراد کو ہو سکتی ہے۔ یہ یادداشت کے اس حصے کو متاثر کرتی ہے، جس کا تعلق حالیہ واقعات کو یاد رکھنے سے ہوتا ہے۔ یہ بیماری وٹامن کی کمی سے ہوتی ہے اور بہت زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے اس کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ بعض انفیکشن مثلاً کروزفیلڈ جیکب ڈزیز یا ایڈز کی وجہ سے بھی ڈیمینشیا ہو سکتا ہے

ڈیمینشیا کی وجوہات کی بات کی جائے تو دماغی خلیات (نیورون) کو نقصان پہنچنا اور بڑھتی عمر کی وجہ سے ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

لیکن ڈیمینشیا کے شکار لوگوں کے دماغ میں موجود نیورون کو کئی گنا زیادہ نقصان ہوتا ہے، جس کے بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں

تاہم الزائمر میں نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب پروٹین غیر معمولی طریقوں سے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور دماغی خلیات کے درمیان اور اندر پلاک (plauqe) بن جاتے ہیں یا الجھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ اعصابی سگنلز منتقل کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا کسی کو بھی ڈیمینشیا ہو سکتا ہے؟ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں ڈیمینشیا بہت عام ہے، لیکن 2020 کی ایک تحقیق کے مطابق پچاس سال سے زیادہ عمر کے ہر ایک ہزار میں سے صرف ستر افراد اس بیماری سے متاثر ہیں، مگر سو سال سے زیادہ عمر والے ہر شخص کو ڈیمینشیا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے

پینسٹھ سال کی عمر سے پہلے کے ڈیمینشیا کو عام طور پر ابتدائی ڈیمینشیا کہا جاتا ہے۔

یہ کہنا آسان نہیں ہے کہ اس حوالے سے کون سی چیز ایک شخص کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حساس بناتی ہے، حالانکہ ایسا لگتا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے اس بیمارے سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جس کا تعلق جینیاتی اور طرزِ زندگی کے عوامل سے ہے

ڈیمینشیا کے حوالے سے سب سے بری بات یہ ہے کہ بدقسمتی سے اب تک اس کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن ماہرین امید کرتے ہیں کہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے ڈیمینشیا کا باعث بننے والے نقصان کو پہچان کر اس بیماری کے علاج پر کام کیا جا سکتا ہے

تاہم ادویات کے ذریعے بھی دماغ کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے اور مریض کی تکلیف کم کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے، لیکن یہ صرف وقتی طور پر ممکن ہے

تاہم کچھ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ شطرنج جیسے کھیل کھیلنا، ورزش کرنا اور ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا، جس میں طاقت کا استعمال ہو، سماجی پروگرام میں حصہ لینے سے دماغ کی بہتر کارکردگی کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد کر سکتا ہے

لیکن جب یہ بیماری آخری مراحل میں جاتی ہے تو کئی سرگرمیاں دماغی تناؤ کا بھی سبب بن سکتی ہیں

ڈیمینشیا کے مریضوں کے لیے مددگار طریقے:

◉ توجہ: حال ہی میں ملنے والے شخص کا نام دہرانا اور پیغامات کو لکھ لینا بھی یاد رکھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔

◉ منظم طرزِ زندگی: اگر آپ منظم ہیں تو امکان ہے کہ آپ اپنی رکھی ہوئی چیزیں یاد رکھ سکیں گے۔

◉ ڈائری کا استعمال: ڈائری کا استعمال کریں تاکہ آپ یاد رکھ سکیں کہ کل یا پچھلے ہفتے کیا ہوا تھا۔

◉ چاق و چوبند رہیں: باقاعدہ ورزش کریں، اعتدال میں رہتے ہوئے کھائیں پیئیں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ صحیح عینک یا آلہ سماعت استعمال کر رہے ہوں۔

◉ باقاعدہ جسمانی چیک اپ: جسمانی چیک اپ نہ صرف آپ کو صحت مند رہنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ الزائمر کی فوری تشخیص میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کچھ ایسی ادویات موجود ہیں، جو الزائمر کی بیماری کو ایک سال یا طویل عرصے کے لیے آہستہ کر سکتی ہیں۔ اگر آپ ڈپریسڈ ہیں تو آپ کا معالج یہ علاج تجویز کر سکتا ہے

◉ دماغ کا زیادہ استعمال: معلومات عامہ کے مقابلے، معمے، مطالعہ، شاعری یا نثر یاد کرنا یا ایسے کھیل کھیلنا، جن میں ذہن پہ زور پڑے، ایسی سرگرمیاں بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں

◉ حقائق کی یاد دہانی کراتے رہنا: ڈیمینشیا کے مریض کے سامنے ضروری معلومات بیان کی جاتی ہیں اور ان کو یہ معلومات دہرانے کو کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مفید ثابت ہوتا ہے

◉ بیرونی مدد: دن یا تاریخ جاننے کے لیے اخبار یا کیلنڈر کی مدد لی جا سکتی ہے

◉ جنکو بلوبا: یہ ایک ایسا جزو ہے، جو میڈن ہیئر نامی درخت سے کشید کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانوں سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ جسم میں موجود زہریلے مواد کو صاف کرکے ایسا کرتا ہو یا دماغ میں خون کے بہاؤ کی روانی کو بہتر کرتا ہو۔ اس کے ضمنی اثرات اتنے زیادہ نہیں لیکن اس کو ایسے مریضوں پر نہیں استعمال کرنا چاہیے جن کو خون بہنے کی شکایت ہو یا وہ ایسپرین یا وارفیرن جیسی ادویات استعمال کر رہے ہوں

◉ وٹامن ای: وٹامن ای سویا بین، سورج مکھی، بھٹے اور کپاس کے بیجوں، اناج مچھلی کے جگر کے تیل اور میووں میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الزائمر کے علاج میں مدد کرتا ہے تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ ضرورت سے زائد وٹامن ای نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے روزانہ 200 سے زیادہ یونٹ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close