سرکس (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
لکڑی کے ستونوں پر رکھے ہوئے لمبے تختے پہاڑ کی طرح اوپر اٹھتے چلے گئے تھے، اور بیضوی شکل میں چاروں طرف اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ دیکھ کر بندہ چکرا جائے۔ لوگ ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے۔ ڈائسی نے کہا ”یوں قریب قریب بیٹھے ہیں، جیسے کتے کے کان پر جوئیں۔“ اس نے…
خندہ فروش (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں کیا کام کاج کرتا ہوں تو سراسیمگی مجھے جکڑ لیتی ہے۔ میں سرخ لال ہو جاتا ہوں، ہکلاتا ہوں، حالانکہ میں ایک متوازن مزاج آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ میں حسد کرتا ہوں ان لوگوں سے، جو یہ کہہ سکتے ہیں: ’میں معمار ہوں‘ مجھے…
جوئیں (ڈنمارک کے زیر انتظام، نیم خود مختار جزائر فیرو کی ایک کہانی)
لِنگوریہ سے تھوڑی دور شمال میں، ڈھلوان کے سب سے زیادہ مضبوط حصے پر ایک تنہا مکان ہے اور اِس گھر کے آس پاس کھیتیاں ہیں۔ یہاں کلور اور اُس کے والدین رہتے تھے۔ کلور جب بیس سال کا تھا تو اس کی ماں فوت ہو گئی تھی اور اس کا باپ بستر پر جا…
دو دوست (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
پیرس محاصرے میں تھا۔قحط زدہ تھا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چھتوں پر سے چرند پرند غائب ہو چکے تھے۔۔ اور شہر کے گٹر خشک ہو چکے تھے۔ لوگوں کو جو ملتا، کھا لیتے۔ جنوری کی ایک چمکیلی صبح جناب موریسوٹ، جو پیشے کے لحاظ سے گھڑی ساز تھا، لیکن…
جنگ کی چھاؤں تلے (نائجیرین ادب سے منتخب افسانہ)
اس دن تین فوجی گاؤں آئے۔۔ ان کو دیکھ کر بکریاں اور مرغیاں تتر بتر ہو گئیں۔۔ وہ بار گئے اور کھجور کی شراب کا آرڈر دیا۔۔ وہ اڑتی مکھیوں کے درمیان شراب پیتے رہے۔۔۔ ’اموو‘ کھڑکی میں بیٹھا باپ کے جانے کا منتظر تھا اور انہیں دیکھتا جا رہا تھا۔۔ باپ بیٹے نے…
چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
ما پارکر کی زندگی (نیوزی لینڈ کے انگریزی ادب سے منتخب افسانہ)
ما پارکر ہر منگل اس ادبی شخصیت کے فلیٹ پر صفائی کے کام پر مامور تھی۔ حسبِ معمول جب وہ اس صبح آئی تو صاحب نے دروازہ کھولا اور اس کے پوتے کے بارے میں پوچھا۔ ماپارکر نے اندھیرے ہال میں داخل ہو کر، دروازہ بند کرنے میں صاحب کی مدد کی، ”ہم نے اسے…