جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…
منڈیل بام گیٹ (فلسطینی افسانہ)
”اس سے پوچھو، یہاں سے جانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟ بس مجھے یہ بتاؤ مسٹر!“ اسرائیلی کسٹم کا سپاہی چیخا اس کی ڈیوٹی مینڈل بام گیٹ پر تھی۔ وہ بڑی رعونت سے گیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے چوکس کھڑا تھا ”جناب! یہ ہماری والدہ کا فیصلہ ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…