میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
سناٹا بولتا ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں، جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے…
نابینا چینی سپاہی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ نو مارچ انیس سو پینتالیس کا واقعہ ہے کہ اتفاق سے عجیب بات ہوئی کہ جس وقت ایک بڑا ہوائی حملہ ہوا، اس وقت گوما کا آسمان بہت صاف اور شفاف تھا، ایک جہاز جو شاید اوٹا کے علاقے سے اٹھا تھا، شمالی ہواؤں کے ساتھ اڑتا ہوا گذر گیا۔ میں جو ایک ایسا…
جنگل شہر ہوئے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
برگد کا وہ پیڑ، جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی، بہت پیچھے رہ گیا ہے اور شناسائی کی لذت صدیوں کی دھول میں اَٹ کر بدمزہ ذائقہ بن گئی ہے، ملاقات کی یاد۔۔۔ بس ایک دھندلی سی یاد ہے۔ جب وہ اسے کریدنے کی کوشش کرتا ہے تو دور کہیں ایک مدھم سی آواز سنائی…
کل خوبصورت تھا (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے جھک کر اپنے ٹخنے کو مسلا، جہاں چلتے ہوئے اسے موچ آگئی تھی تاکہ وہ اپنے ٹخنے کی ہڈی کو نہ دیکھ سکے۔ پھر اس نے سیدھے کھڑے ہو کر اپنے اردگرد دیکھا۔ اپنی جیب میں سگریٹ کی ڈبی کو ٹٹول کر اس نے ایک سگریٹ نکالا اور اسے سلگا لیا۔ اس نے…
دشتِ امکاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
خزانے والا خواب برسوں پرانا تھا، ایک صبح ناشتہ کرتے ہوئے ماں نے کہا تھا۔۔۔ ’’مجھے یقین ہے کہ اس گھر میں کہیں خزانہ ہے۔‘‘ ان کی خاموشی پر وہ جھجک سی گئی۔۔۔ ’’رات میں نے پھر وہی خواب دیکھا ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔۔۔ ’’کون سا خواب؟‘‘ ’’وہی خزانے والا۔۔۔ میں وہاں…
تلوار کی شکل (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کے چہرے پر راکھ کے رنگ کا ایک بد نما زخم کا نشان تھا، تقریباً مکمل قوس نما، جس کے ایک طرف کنپٹی اور دوسری طرف رخسار کی ہڈی تھی۔ اس کے اصل نام سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹاکوریمبو میں سب اسے لاکولوراڈو کا انگریز کہتے تھے۔ کھیتوں کا مالک کارڈوسا…
تضاد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
جیسے ہی وہ دفتر میں داخل ہوا، سپرنٹنڈنٹ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا اور ایک کرسی کو ہیٹر کے قریب کرتے ہوئے کہنے لگا: ’’واہ جناب، حاجی صاحب! کہاں رہ گئے تھے؟“ توے جیسی سیاہ رنگت کا حامل یہ شخص پچاس ساٹھ برس کی عمر کا تھا۔ اس کی صحت اچھی تھی اور وہ…