باہر (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
تین دنوں کے بعد جب کرفیو اٹھایا گیا تو یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ کوئی بھی گھر سے باہر نکلنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا۔ نامعلوم وجوہات کی بِنا پر لوگوں نے یہی بہتر سمجھا کہ وہ اکیلے یا اپنے خاندانوں کے ہمراہ اندر ہی رہیں اور شاید بات سیدھی تھی کہ…
آفت زدہ (کینین ادب سے منتخب افسانہ)
طویل عرصے تک میرا بھی یہی یقین تھا کہ وہ پاگل ہے۔ ایسا سمجھنا ایک فطری امر تھا کیونکہ میری ماں نے بتایا تھا کہ وہ پاگل ہے اور گاؤں میں بھی ہر ایک کی یہی رائے تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ بوڑھی عورت نے کبھی کوئی انوکھی حرکت کی ہو جیسا کہ مجنون لوگ…
جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…
قصہ گو (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
یہ ایک گرم سہ پہر تھی۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی۔ اگلا اسٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی، ایک اس سے بھی چھوٹی تھی اور ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ بچوں کی خالہ ایک کارنر سیٹ پر براجمان تھی۔ اس کے بالمقابل دوسری…
سیمنٹ کے تھیلے سے ملا خط (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
ماٹ سوڈو یوزو مشین میں ڈالنے کے لیے سیمنٹ کے تھیلے خالی کر رہا تھا۔ اس کے بال اور اوپری ہونٹ گہری سرمئی تہہ میں غرق تھے البتہ اس نے اپنے بقیہ جسم سے سیمنٹ جھاڑ لیا تھا۔ وہ شدت سے چاہ رہا تھا کہ ناک میں انگلی گھسیڑ کر سختیایا ہوا سیمنٹ باہر کھرچ…
گدا (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں، جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تربتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت پیاسا…
پھانسی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آخر ایک صبح مجھے پھانسی دے دی گئی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بہار کا موسم تھا کہ موسمِ سرما۔۔۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مجھے پھانسی دی گئی۔ میرا گناہ ایک غیر معمولی مگرمچھ کے ساتھ دوستی کرنا تھا۔۔ افریقا کا ایک مگرمچھ، جو آنسو نہیں بہاتا تھا! مجھ پر متعیّن فوجی…
سماج میں واپسی (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
ہم ہفتے کی شام کے دھندلکے میں ’باریلوچی‘ میں اپنا ہنی مون منا کر بیونس آئرس واپس پہنچے تھے اور مشتاق تھے کہ اپنے نِگھے ایک بیڈ روم والے اپارٹمنٹ میں اپنی پہلی رات گزاریں۔ جیسے ہی ہم نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا، ہم نے وہاں ایک پنجرہ پایا۔ دیکھنے میں تو یہ…