بے خوشبو عکس (اردو ادب سے منتخب ایک شاہکار علامتی افسانہ)
داستان گو اس کہانی کو یوں سناتا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کُل مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں…
کالی بھیڑ (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک ملک ایسا تھا، جس کا ہر باسی چور تھا۔۔۔ اس کا ہر باسی، رات میں تالا شکن اوزار اور اندھے شیشے والی لالٹین لیے گھر سے نکلتا اور اپنے کسی ہمسائے کے گھر میں نقب لگاتا۔ وہ جب پَو پھٹتے سمے، لُوٹا ہوا مال لیے اپنے گھر لوٹتا تو اسے پتہ چلتا کہ اس…
خواب آئنے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔ ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے، نہ موضوع۔۔ پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر، لیکن آخری سطر تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی، اس آخری سطر کو لکھنے کے لیے میں، وہ اور دوسرے سب کبھی…
گوئیبلز! تم کیا جانو جھوٹ کسے کہتے ہیں؟
نوٹ: برطانوی اخبار گارجیئن اور بی بی سی بنیادی طور پر برطانیہ کے دانش ور طبقے کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن زیرنظر تحریر میں ان ’مستند‘ سمجھے جانے والے اداروں کی جانب سے غیر محسوس انداز میں کیے گئے پروپیگنڈے کا ایک تصوراتی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دنیا میں…
تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
رات گئے جب وہ تصویر بغل میں دبائے میرے پاس آیا تو شہر کے بڑے چوک میں جمع لوگ تتر بتر ہو چکے تھے۔ لاش کو سولی سے اتار لیا گیا تھا اور سوگواروں کو لاٹھیاں مار مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ میرے دروازہ کھولنے پر اس نے چاروں طرف دیکھا اور تیزی سے…
خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
ایک کشتی چار مسافر (ترکی ادب سے منتخب افسانہ)
عرشے پر بجھے بجھے بلب کی روشنی میں چار شخص بیٹھے تھے۔ ایک بھورے بالوں والی خاتون، ایک قصاب جس سے کچے گوشت کی بساند آ رہی تھی، ایک گنجے سر والا پروفیسر منہ میں پائپ تھامے، ایک گورا چٹا نوجوان۔۔ چاروں کے پہنچنے سے پہلے ہی آخری اسٹیمر چھوٹ چکا تھا۔ اس کشتی…
چلتے رہنا بھی ایک موت ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
جوں ہی رات دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوتی ہے، کارنس پر رکھا مجسمہ آہستہ سے نیچے اترتا ہے اور اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجسمہ کہتا ہے۔۔۔ ’’میں؟‘‘ ’’میں کون؟‘‘ ’’میں ماضی ہوں۔‘‘ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔۔۔ ’’لیکن میں تمہیں…