کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (آٹھویں اور آخری قسط)
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
غیبی پیر سے ہمیں تُؤنگ کی جانب جانا تھا، جہاں ہمیں تُؤنگ شریف میں برفتوں کے تاریخی چوکنڈی قبرستان جام لوہار کی زیارت کرنی تھی اور تؤنگ میں ہی واقع ہندوؤں کی مقدس جگہ رتن ناتھ بھی دیکھنی تھی، جہاں سے ایک چشمہ بہتا ہے۔ وہاں سے ہمیں دریجی تحصیل ڈسٹرکٹ حب…
جھمپیر، جہاں دہائیوں سے جنگلی حیات کی نسل کشی جاری ہے
جھمپیر (Jhimpir)کے علاقے میں ایک طرف جہاں آنے والے مہمان پرندوں کا شکار عام ہے، وہیں ونڈ ٹربائن کے منصوبوں نے بھی مہمان پرندوں کی آمد کو متاثر کیا ہے۔ جھمپیر میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، اس لیے لوگ کینجھر کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں کے لوگ…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
مول شریف کے حوالے سے شہر کی اہمیت، ہندو کمیونٹی کے کاروباری دیوان، شہر میں واقع خوبصورت مندر اور مول ندی کے حوالے سے دوسری قسط میں ہم نے تفصیلات بیان کی ہیں۔ آج ہم ذکر کریں گے مول جاتے ہوئے مول شہر سے چھ کلومیٹر پہلے چوکنڈی طرز کی قبروں کا، جن کو سندھی…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
یہ سفر کونکر گبول اسٹاپ سے شروع ہوا۔ صبح ٹھیک 7 بج کر 45 منٹ پر ہم نے اپنی موٹر سائیکلوں کا رخ کھیرتھر کے دامن کی طرف موڑ دیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ حفیظ بلوچ، اختر رسول، نور احمد، عبدالباسط، سارنگ اور دو دوست طلحہ اور شکور شامل تھے۔ ہم سب کے دل…
ہجامڑو کریک کے سمندری جنگلات، زرمبادلہ اور ماحولیاتی توازن کا ذریعہ
کچھ روز قبل ہمیں سندھ کے ساحلی علاقے ’ہجامڑو کریک‘ کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جو کراچی کے جنوب مشرق میں واقع ایک اہم ماحولیاتی مقام ہے۔ یہ علاقہ انڈس ڈیلٹا کا حصہ ہے اور یہاں مینگروز کے گھنے جنگلات، ساحلی حیاتیات اور مقامی ماہی گیر برادری کی زندگی کا…