کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)

شاھد رضا

یہ سفر کونکر گبول اسٹاپ سے شروع ہوا۔ صبح ٹھیک 7 بج کر 45 منٹ پر ہم نے اپنی موٹر سائیکلوں کا رخ کھیرتھر کے دامن کی طرف موڑ دیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ حفیظ بلوچ، اختر رسول، نور احمد، عبدالباسط، سارنگ اور دو دوست طلحہ اور شکور شامل تھے۔ ہم سب کے دل میں ایک ہی مقصد تھا، کھیرتھر کے پہاڑوں میں موجود تاریخی آثارِ قدیمہ کو دیکھنا اور اس سچ کو محسوس کرنا، جسے شاید جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہاں رومی طرز کی قبریں، جنہیں سندھی میں “گاڑی قبر” کہا جاتا ہے، آج بھی خاموشی سے ایستادہ ہیں۔ کوہستان کے مختلف قبائل کے قدیم قبرستان، پتھروں پر کی گئی خوبصورت نقش و نگاری کے ساتھ، اس خطے کی تاریخ کے امین ہیں مگر شاید دیکھنے والوں کی آنکھیں بند ہیں۔
نور احمد ہمارے گائیڈ تھے۔ وہ اس پورے علاقے سے بخوبی واقف تھے, ہر راستہ، ہر وادی ان کے لیے جانی پہچانی تھی۔ میں ان کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا تھا۔ روانگی سے پہلے انہوں نے اپنی بائیک کے میٹر کی تصویر لی اور مسکرا کر کہا:
“واپسی پر دوبارہ تصویر لیں گے، تاکہ معلوم ہو کہ ہم نے کتنا سفر طے کیا…”
یہ سفر صرف فاصلے ناپنے کا نہیں تھا، بلکہ حقیقت کو سمجھنے کا بھی تھا۔
کونکر سے نکلتے ہی ٹوٹی پھوٹی سڑک نے ہمارا استقبال کیا۔ ڈامر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا، اور گڑھے ایسے تھے جیسے راستہ خود اپنی تکلیف بیان کر رہا ہو۔ سب سے پہلے ہم تھدو ندی کے قریب سے گزرے، جو امید علی گبول گوٹھ کے پاس واقع ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے ہم بحریہ ٹاؤن کے گیٹ نمبر پانچ کے قریب پہنچے، جہاں منظر یکسر بدل چکا تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر بلند عمارتیں کھڑی کی جا رہی تھیں۔ وہی پہاڑ، جو کبھی تاریخ کا حصہ تھے، اب مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔
یہ وہی علاقہ تھا جہاں کبھی “لَلّؤ پِڑ” جیسی قدیم جگہیں تھیں، جو اب صرف یادوں میں باقی رہ گئی ہیں۔ کبھی یہاں بینگو کی قبر ہوا کرتی تھی، اس کے قریب “لَلّؤ پڑ” ( بلوچی رومانی داستان لَلّؤ اور گراناز سے جوڑتے ہیں،) موجود تھا۔ بعض لوگوں کے مطابق “ لَلّؤ ” یہاں کے کسی مقامی شخص کا نام تھا، مگر یہ بات تحقیق طلب ہے۔ یہاں ایک مزار بھی تھا، جسے ڈڈر پیر کہا جاتا تھا، اور اس کے قریب ایک قدرتی چشمہ بہتا تھا۔ حاجی آچار گبول کا باغ بھی اسی علاقے کی رونق ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں گولف سٹی بن گیا ہے اب سرمایہ دار گلف کھیلتے ہیں،
آگے بحریہ کے مرکزی راستے پر ایک پل آیا، پھر دو رویہ سڑک جو “ڈمی ایپل ٹاور” کی طرف جا رہی تھی۔ نور احمد نے بتایا کہ اس پہاڑ پر جانے کے لیے سروس روڈ استعمال ہوتا ہے، اور اس راستے تک پہنچنے کے لیے بھی پہاڑوں کو کاٹا گیا ہے۔ ٹاور سے کچھ آگے فیض محمد برو گوٹھ ہے، جہاں گزشتہ سال ریت اور بجری کی مائننگ کے باعث ندیوں کا پانی کھارا ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈائریا کی وبا پھیلی اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ یہ علاقہ اب بحریہ ٹاؤن کی ایک باؤنڈری میں محدود ہو چکا ہے۔
یہ وہی خطہ ہے جہاں کبھی “وسن دڑوں” اور “لنگھیجی” آباد تھے۔ پہاڑوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے گوٹھ، زرعی زندگی، مویشی، بکریاں اور سرسبز درخت یہ سب یہاں کی پہچان تھے۔ لنگھیجی ندی یہاں سے گزرتی تھی، اور نواز علی گوندر کا گوٹھ بھی یہیں آباد تھا۔ یہاں بجلی نہیں تھی، مگر زندگی تھی۔ پرانے ڈیزل انجن کی “چک چک” کی آواز دور تک سنائی دیتی تھی ایک الگ ہی دنیا آباد تھی۔

یہ بھی پڑھیں


ملیر سے کھیرتھر تک: ریاستی سرپرستی میں جاری ماحولیاتی اور قانونی قتلِ عام


یہ سب یاد کرتے ہوئے مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا…
ہم اسی علاقے میں ایک شادی میں آئے تھے۔ پہاڑوں کے درمیان شامیانہ سجا تھا، چاروں طرف اندھیرا، مگر روشنیوں سے جگمگاتا وہ منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے تازہ ہے۔ وہ خوشیاں، وہ رونقیں… آج بھی ذہن میں فلم کی طرح چلتی ہیں۔
مگر آج… سب کچھ بدل چکا ہے۔
جیسے ہی ہم بحریہ کی باؤنڈری سے نکلے، ایک گیٹ آیا۔ آگے ندی کا حال دیکھ کر دل لرز گیا۔ ندی کو اس طرح کھودا گیا تھا جیسے اس کی سانسیں چھین لی گئی ہوں۔ ریت اور بجری نکال نکال کر اسے ختم کیا جا رہا تھا۔
یہ صرف ایک ندی نہیں تھی، یہ اس خطے کی زندگی تھی، جو آہستہ آہستہ مٹ رہی ہے۔
آگے ایک وائلڈ لائف چوکی آئی۔ ایک بینر لگا تھا جس پر گیدڑ، لومڑی، ہرن، خرگوش اور مختلف پرندوں کی تصاویر تھیں۔ ایک اہلکار سیاہ لباس میں کھڑا تھا۔ اس نے ہمیں روکا، شناخت کی، اور پھر آگے جانے کی اجازت دے دی۔
پہلے یہ چوکی فیض محمد برو گوٹھ کے قریب تھی، مگر اب اطلاعات ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کی حدود مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں، اور خدشہ ہے کہ یہ علاقہ بھی اس کی زد میں آ جائے گا۔
مگر دل میں ایک سوال مسلسل گونج رہا تھا:
“کیا یہ جانور اب بھی یہاں موجود ہیں؟”
آگے بڑھتے ہوئے پہاڑوں کے درمیان کچے راستے ملے، جن پر بھاری ٹرکوں کے نشانات واضح تھے۔ یہ راستے مائننگ کے لیے بنائے گئے تھے، اور یہی راستے باچرا ندی اور مول ندی کو زخمی کر رہے ہیں۔
پانچران وادی، جو جامشورو کے پہاڑی سلسلے سے جڑی ہے، اور مول ندی، جو سمندر میں جا گرتی ہے ان تمام قدرتی راستوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔
ہم نے پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں دیکھا۔ نور احمد نے بتایا کہ یہ علی محمد برو گوٹھ ہے۔
کھیرتھر نیشنل پارک، جو کبھی نایاب جنگلی حیات کا مسکن تھا، اب شور، دھول اور مشینوں کی گرج میں دب چکا ہے۔
جانور بے گھر ہو چکے ہیں، اور پرندے اپنی پروازیں کھو چکے ہیں۔
ایک طرف ترقی کے نام پر عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں،
اور دوسری طرف ہزاروں سال کی تاریخ اور فطرت کو مٹایا جا رہا ہے۔
موسم خوشگوار تھا, ہلکی بوندا باندی، ٹھنڈی ہوا اور بادلوں کی چادر…
مگر دل بوجھل تھا۔
ہم ایک جگہ رکے، چند تصویریں لیں، اور پھر وادی باجران سے ہوتے ہوئے مول کی جانب بڑھنے لگے…
یہ سفر صرف راستوں کا نہیں،
یہ ایک گواہی ہے
ایک ایسی گواہی، جسے شاید کوئی سننا نہیں چاہتا…

جاری…

یہ بھی پڑھیں


کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button