
مول شریف کے حوالے سے شہر کی اہمیت، ہندو کمیونٹی کے کاروباری دیوان، شہر میں واقع خوبصورت مندر اور مول ندی کے حوالے سے دوسری قسط میں ہم نے تفصیلات بیان کی ہیں۔ آج ہم ذکر کریں گے مول جاتے ہوئے مول شہر سے چھ کلومیٹر پہلے چوکنڈی طرز کی قبروں کا، جن کو سندھی میں ”گھاڑی قبریں“ (یعنی تراشیدہ) بھی کہتے ہیں۔
دلشاد علی گُگو کوہستانی، کوہستان کے پڑھے لکھے اور یہاں کی تاریخ و تمدن کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں۔ وہ مول کے مذکورہ قبرستان کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ اس قبرستان کو بازار والا قبرستان کہا جاتا ہے۔ اس قبرستان کی تاریخ کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک بہت بڑا بازار ہوا کرتا تھا، تھانہ عارب خان، تھانہ بولا خان سمیت پورے کوہستان کے علاقائی باشندے، مختلف قبائل کے عام لوگ اور عمائدین یہاں آتے تھے۔ گگو صاحب کی بات کی تصدیق کے لیئے جب میں نے اپنے استاد کوہستان کی تاریخ کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر رخمان گل پالاری سے بات کی تو ڈاکٹر پالاری کا کہنا تھا کہ یہ برفتوں کا قبرستان نہیں ہے، ان قبروں کے حوالے سے ابھی تحقیق ہونا ہے۔

اس قبرستان میں زیادہ قبریں نہیں ہیں۔ دلشاد صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں دور دراز سے لوگ آ کر اپنے پیاروں کی تدفین کرتے تھے۔ اب یہ تحقیق طلب بات ہے آیا ان قبروں پہ کسی محقق، تاریخ دان یا آرکیالوجسٹ، اینتھرو پولوجسٹ نے کام کیا ہے یا نہیں۔ اگر کسی دوست کے علم میں ہو تو رہنمائی کریں۔ چار دیواری کے باؤنڈری وال میں تین قبریں پتھر کی اور کچھ قبریں آس پاس موجود ہیں، اسی طرح کی کچھ اور قبریں تھدو ندی اور کُرکُٹی ندی کے اطراف میں بھی واقع ہیں۔ جمعہ موریو گبول گوٹھ سے اوپر کے جانب دُرا گوٹھ کے نزدیک بھی ایسی قبریں موجود تھیں۔ اب یہ پورا علاقہ بحریہ ٹاؤن کراچی نگل چکا ہے اور یہ تاریخی قبریں بحریہ ٹاؤن کی نام نہاد ترقی کے اندر ہمیشہ کے لیئے دفن ہوگئی ہیں۔ یہ نام نہاد ترقی کوہستان کی پوری تاریخ کو بڑی حد تک برباد کر چکی ہے، جو بہت بڑا المیہ ہے۔
مول کے شہر سے آگے کا سفر شروع ہوا۔ نور احمد بائیک چلا رہا تھا اور میں نور احمد کے پیچھے موٹر بائیک پہ بیٹھا تھا، دوران سفر میں نے نور احمد سے پوچھا کہ اب آگے ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ نور احمد نے میری رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کی اس ایریا کو چِھچڑی پَٹ کہتے ہیں۔ چِھچڑی کا ایریا خشک میدانی علاقہ ہے۔ دور پہاڑ بھی نظر آ رہے تھے،ل۔ کچے راستے پہ 60 سے 70 کی اسپیڈ پہ موٹر سائیکل دھول اڑاتی جا رہی تھی۔ نور احمد کے ایک ہاتھ میں موبائل تھا، جس سے وہ راستوں کے ویڈیوز ریکارڈ کرتا جا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ موٹر سائیکل کے ھینڈل پہ تھا۔ ہم کچے راستے کو چیرتے ہوئے طوفان کی مانند آگے کی بڑھتے جا رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیاں، چھوٹے پتھریلے موٹر سائیکل کے راستے، ایسا ڈر کہ گر نہ جائیں، مگر نور احمد ایسے راستوں پہ موٹر سائیکل دوڑانے کا ماہر ہے۔ اس نے کوہستان کے کئی سفر اسی موٹر سائیکل پہ کیئے ہیں، میرے ڈر سے قطعِ نظر وہ مطمئن ہو کر بائیک چلا رہا تھا۔
اس پورے سفر میں ہم نے ایک درخت کیکر دیکھا، جسے مقامی لوگ دیوی کہتے ہیں۔ دیوی کے درخت پورے سندھ میں پائے جاتے ہیں۔ اس کی لکڑی جلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ امریکن درخت ہے۔ یہاں کیکر کے درخت بہت گھنے تھے، جو باقی کیکر درختوں سے مختلف ہیں اور اس کے پھول بھی نکلے ہوئے تھے۔ ہمارے ہاں جو کیکر یا دیوی ہوتی ہے، خاص طور پر ملیر گڈاپ میں، وہ کیکر کے درخت یہاں کے کیکر کے درختوں سے مختلف ہیں مگر یہ بہت ہی خوبصورت تھے۔ ہم وہاں رکے کچھ دیر ہم نے تصویریں بنائیں، اسی دوران کچھ نوجوان موٹر سائیکل پہ سوار آئے، سلام دعا کے ساتھ معلوم ہوا گڈاپ کی گبول برادری کے نوجوان ہیں، جو ٹِکّو باران اپنے رشتے داروں سے ملنے گئے تھے۔
ٹکو باران ایک خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو دُریجی بلوچستان اور کھیرتھر کے کوہستان سندھ کے سنگم پہ واقع ہے۔ یہاں گبول برادری اکثریت میں آباد ہے، جو کہ کاٹھور کونکر گڈاپ کی گبول برادری سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی آپس میں رشتے داریاں بھی ہیں، آنا جانا بھی لگا رہتا ہے۔
سفر کا یہ بریک اس لیئے بھی ضروری تھا کہ ہمارے ہمسفر جو دو بائک پہ سوار تھے، پیچھے رہ گئے تھے ان کے آنے کا انتظار کرنا تھا ـ جب دوست آئے تو ہم نے آگے کا سفر پھر سے شروع کیا ـ آگے کا سفر دشوار گزار تھا، پہاڑ سے نیچے اترنا تھا ـ جس مقام پہ ہم موجود تھے اسی ”دی دار لک“ کہا جاتا تھا، جسے اکثر لوگ ”دیدار لک“ کہتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ ہمیں اسی دی دار لک سے نیچے کی طرف جانا تھا، ایک طرح سے ایک اونچے پہاڑ سے نیچے کے جانب۔ یہاں سے نیچے ہزار سے پندرہ سو فیٹ نیچے کی طرف کا سفر انتہائی دشوار گزار راستہ ہے، بہت سنھبل کر اور دیکھ بھال کر احتیاط سے، نیچے تک پہنچتے پہنچتے پیچھے بیٹھے ہوئے میری سانسیں اٹکنے لگیں۔ خدا خدا کر کے خیریت سے ہم نیچے ہموار رستے پہ پہنچ گئے۔ یہاں سے ’رَیک‘ کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ ریک کے لیئے مشہور ہے کہ یہ صرف میدانی علائقہ ہے۔ ریتیلی زمین اور دور پہاڑ سلسلہ۔
ریک سے آگے ہمیں بال جانا تھا۔ بال کے علائقے میں ایک قدیم مندر واقع ہے، ہمیں وہ دیکھنا تھا۔ مگر وقت کی کمی اور غیبی پیر جانے کی وجہ سے بال مندر دیکھنے جانا ممکن نہ تھا۔ وقت اور حالات نے اجازت دی تو بال مندر دیکھنے ضرور جائیں گے۔
بال کے علائقے میں پکی سڑک ایک نعمت سے کم نہ تھی، ہمیں پیر غیبی کی درگاہ پہ جانا تھا کیونکہ وہاں پہ بہت بڑا قبرستان ہے، اس میں پرانی رومی طرز کی بہت ساری قبریں موجود ہیں۔ پیر غیبی قبرستان کرچات کے ایریا میں باران ندی کے ساتھ واقع ہے۔
جب ہم بال کے ایریا سے جا رہے تھے تو اس ایریا میں جنگلی بیر کی بہت سارے درخت نظر آئے۔ ان درختوں کو دیکھ کر میرا گائیڈ نور احمد کہنے لگا کہ اس پورے کوہستان میں اس ایریا میں بہت سارے جنگلی بیر کے درخت ہیں، یہاں کی زمینیں بہت زرخیز ہیں۔ یہاں گیس پلانٹ کی پائپ لائن کی وجہ سے پکا راستہ بنا ہوا تھا، یہاں سے گیس کا پائیپ تو گذرتا ہے مگر پورے کوہستان گڈاپ میں گیس کہیں بھی نہیں۔ جاتے ہوئے ایک دو گاؤں بھی درمیان میں آتے گئے۔ پورے علاقے میں گندم کی فصل تیار تھی۔ کہیں کہیں گندم کو تھریش کیا جا رہا تھا۔ پیاز کی فصل بھی تیار تھی۔ پیاز کہیں ٹرکوں میں بھرا جا رہا تھا اور کہیں خواتین اور مرد کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ ایریا میں بہت سارے چھوٹے بڑے درخت اور جڑی بوٹیاں موجود تھیں۔
ہم پیر غیب کی جانب جا رہے تھے۔ راستے میں ایک دکان آئی۔ باسط کہنے لگا یہ وہی دکان ہے جہاں پچھلی بار ہم نے اسٹاپ کیا تھا۔ آگے دو تین دکانیں آئیں ۔ وہاں ایک صاحب باہر نکل آئے، اس سے سلام دعا کی۔ وہ کہنے لگے میرا نام مینگل برفت ہے
ہمارے کوہستان کا ایک رواج ہے کہ جب بھی بارسے کوئی مسافر آتا ہے تو کوہستان کے مقامی لوگ عزت سے بٹھا کر حال احوال پوچھتے ہیں اور اس پورے ایریا میں زمینداری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہماری پیاز کی فصل تیار ہونے کو ہے۔ یہاں بہت ساری زمینوں کو میں آباد کر
رہا ہو اور میں پیاز کی فصل لگاتا ہوں۔ کل پرسوں میں کراچی سبزی منڈی جاؤں گا۔ اس کے پاس کاٹھور گڈاپ اور ملیر کے لوگوں کے حوالے سے بہت سی معلومات تھی۔ آخر کو ہم کوہستان واسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے اس کے ساتھ ایک تصویر بنائی اور اگے کا سفر پھر سے شروع کیا۔
کھیتوں کے درمیان سے باران ندی آئی۔ باران ندی میں کچھ دیر ہم رکے۔ پیچھے کھیرتھر کا پہاڑ تھا۔ اسی پہاڑ پہ اس نیشنل پارک کا نام ہے اور یہ ایک ایریا کرچات کا ایریا ہے۔ باران ندی پہاڑوں کو چیرتے ہوئے گزرتی ہے۔ ندی کو سندھی میں باران نئن کہتے ہیں۔ کوہستان کے صحافی شاہد موسو اپنی سندھی کتاب ”کھیرتھر جي ھنج میں“ میں لکھتے ہیں کہ باران ندی ٹکو باران سے بھی آگے بلوچستان اور سندھ کی سرحد پہ کھیرتھر پہاڑی سلسلے سے بہتی ہوئی آتی ہے۔ اس کا پانی اس ندی کے پیٹ میں تونگ کے تاریخی گوٹھ چانڈام سے کھیرتھر کو چیرتے ہوئے ٹکو باران سے غیبی پیر کی جانب سے کرچات روح رونڈی پہاڑ کامبو کے درمیان سے کلیر جبل کے برابر سے دیھہ کھجور سے آگے تھانہ عارف خان وائی عارب خان کے علاقے کی پیاس بجھاتے ہوئے دروات جبل کی پہاڑیوں سے چنگڑی سے ہوتے ہوئے لونی کوٹ سے بولاڑی کے علاقے سے گزر کر سندھو دریا میں گرتا ہے، جہاں سمندر کے کھارے پانی میں شامل ہو کے مینگروز کے جنگلات بناتا ہے۔

اس پورے سفر میں بہت ساری چھوٹی اور بڑی ندیاں پہاڑی سلسلے میں ملتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ندیاں باران تونگ کے علاقے کا پورا پانی باران ندی میں ایک ساتھ مل کر کھیرتھر کا پورا پانی چانڈان اور پھر موسمن واری واھی سے ہوتے ہوئے باران ندی میں گرتا ہے، تھانہ بولا خان، مھدان پالاری، دماچ کا پٹ اس پورے پہاڑی سلسلے میں جتنے بھی علاقے ہیں، پہاڑی علائقے باران ندی کے ساتھ واقع ہیں۔
باران ندی پر دروات کے مقام پر حکومت نے ایک بہت بڑا ڈیم دراوت ڈیم بنایا گیا ہے. (اصل لفظ دروات ہے) اس ڈیم سے لاکھوں ایکڑ آبادی کرنے کی گنجائش ہے۔ سندھ گورنمنٹ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم یہاں بجلی کا ایک منصوبہ بنائیں گے۔ اب تحقیق طلب بات یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیم بنانا اور جو قدرتی آبی گزرگاہ ہیں، اس ندی پانی کو روکنا زمین یا قدرتی نظام کو نقصانات پہنچاتے ہیں یا نہیں۔۔۔!!! یہی پانی سمندر میں جا گرتا ہےن ایک پورا ایکو سسٹم ہے۔ اب یہ بات تحقیق طلب ہے کہ آیا اس بڑے ڈیم میں اس بڑی ندی کے پانی کو روکنے سے کیا نقصانات ہیں۔ اس جدید دور میں آج بھی کوہستان کے علاقے میں زرعی آبادی ہوتی ہے جس کو مقامی لوگ جر کا پانی کہتے ہیں۔ بارانی سسٹم سے آبادی کرتے ہیں یہ پورا علاقہ بارشوں پہ انحصار کرتا ہے کہ جب بارشیں ہوتی ہیں اس کے بعد بارانی سسٹم میں کاشت کاری کی جاتی ہے، کیونکہ اس پورے ایریا میں دریائی نظام یا سندھو دریا کا نہری نظام نہیں، سارا دارومدار پہاڑوں ندیوں نالوں اور برسات کے موسم سے وابستہ ہے ـ کیا ان ندیوں سے ریتی بجری نکالنا اور اس نظام کو برباد کرنا وائلڈ لائف جنگلی حیات کو نقصان پہنچانا اور پورے کوہستان کے لوگوں کی 70 فیصد ذرائع معاش مال مویشیوں اور زراعت کا درومدار ان پہاڑوں ندیوں نالوں اور برساتی چراگاہوں پر ہے۔ اس پورے نظام کو تباہ کر کے ڈیم بنانا کس کے فائدے کے لیئے ہے۔ یہ سوال اس لیے بھی اٹھتا ہے، ڈیم کے آس پاس کی زمینیں بااثر اور مقتدر شخصیات کی ملکیت ہیں۔
مرشد غیبل گھوٹ آریانی المعروف غیبی پیر کی درگاہ پہنچے۔ اس پورے ایریا میں بہت زیادہ گرمی پڑ رہی تھی ـ درگاہ کے درختوں کے سائے میں گھر سے لائے کھانے سے ہم نے اپنی بھوک مٹائی ـ کہتے ہیں کہ پیٹ بھرا ہوا ہو تو ایمان سلامت رہتا ہے ـ
پیر غیبی درگاہ کے برابر میں مسافر خانہ ہے۔ وہاں ایک چائے کا ہوٹل بھی ہے۔ یہاں موجود ایک جاننے والے سے ملاقات ہوئی، جس کی واقفیت کاٹھور اور گڈاپ کے لوگوں سے بھی ہے ـ

سوال یہ ہے کہ غیبی پیر کون ہے، کہاں سے آیا ہے۔ اس کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں مگر شاہد موسو اپنی کتاب ’کھیر تھر جی ھنج میں‘ میں لکھتے ہیں کہ گیبی پیر باریجہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ غیبی پیر کے عقیدت مند مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی ہیں۔ کوہستان کی دیوان (ہندو) برادری عیقدت سے غیبی پیر کو غیبل گھوٹ (دولہا) بھی کہتے ہیں ـ کہتے ہیں کہ پیر غیبی کی ایک خاتون "آچر” میں دلچسپی تھی، وہ اس خاتون سے شادی کرنا چاہتے تھے ـ
روایت میں آتا ہے۔ ایک دفعہ غیبی پیر نے کرچات میں جا کر موسیٰ برفت برادری کے گھروں پہ صدا لگائی کہ خدا کے نام پر مجھے آچر کا سنگ (رشتہ) دے دو۔۔!! موسیٰ برادری کے لوگ بہت زیادہ غصہ ہوئے اور کہنے لگے کہ رشتہ داریاں خیرات میں نہیں دی جاتیں اور یہ فقیر ہمارث گلے پڑ گیا ہے۔ وہ نہیں مانا اور مسلسل اچر کا رشتہ مانگنے لگا۔ موسیٰ برادری کے لوگ بیزار ہوئے اور اس کو بہت مارا پیٹا۔ دوسرے دن دیکھا کہ وہی فقیر اسی گلی میں اسی طرح گھوم رہا ہے۔ پھر وہ خدا کا واسطہ دے کر ان کی منتیں کرتا رہا۔ موسیٰ برادری کے لوگ بہت ناراض ہوئے اور اس کو مارنا شروع کر دیا ہو۔ اس کو بہت زیادہ زخمی کیا مگر غیبی پیر اپنی بات پہ اڑا رہا، پیر غیبی نے لوگوں سے کہا جب تک میری شادی آچر سے نہیں ہوگی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا ـ اسی زمانے میں برفتوں کے سردار وقت کے حکمران بادشاہ کے ہاں قید تھے تو لوگوں نے ایک شرط پہ غیبی پیر کو آچر سے شادی پیش کش کی کہ آپ اپنی کرامات دکھائیں، ہمارے سردار کو رہائی ملے، اس کے بعد ہم آپ کی خوشی خوشی آچر سے شادی کر دیں گے ـ کہتے ہیں کہ غیبی پیر نے وقت کے بادشاہ کو نیند میں ڈرایا کہ آپ کی خیر نہیں جب تک آپ برفتوں کے سردار کو آزاد نہیں کرتےن ایک رات اور دوسری رات اسی طرح مسلسل خواب میں وقت کے حکمران کو ڈراتے رہے اور مسلسل خواب سے تنگ آ کر انہوں نے برفت کے سردار کو آزاد کر دیا ـ اس کے بعد اس سردار کو ملک کا لقب ملا کہتے ہیں کہ پھر موسو برفت برادری نے آچر خاتون کی شادی غیبی پیر سے کر دی ـ اس کو ایک بیٹا ہوا جس کا نام روزی رکھا۔ روزی بچپن میں ہی مر گیا ـ پیر غیبی کے مزار میں پیر غیبی اس کی بیگم آچر اور اس کا بیٹا روزی دفن ہیں ـ کہتے ہیں جب بھی خشک سالی ہوتی ہے موسو برادری کی بوڑھی عورتیں کرچات سے روٹیاں پکا کے پیر غیبی کی مزار پر پیدل آ کر بارش کی دعا مانگتی ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس طرح منت مانگنے سے غیبی پیر ہمارے لیئے دعا کرتے ہیں اور اللہ پاک ہمیں بارش دے دیتا ہے اور خشک سالی ختم ہو جاتی ہے ـ
اس درگاہ کے مغرب کی طرف ایک چشمہ بھی ہے۔ عقیدت مند یہاں آ کے اس چشمے سے پانی پیتے ہیں اور ان کے لیے یہ چشمے کا پانی بھی مقدس ہے ـ درگاہ کے مجاور خدمت گذار باریجہ قبیلے کے لوگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ملیر سے کھیرتھر تک: ریاستی سرپرستی میں جاری ماحولیاتی اور قانونی قتلِ عام
ہم درگاہ پہ گئے تو وہاں کچھ عقیدت مند بھی آئے ہوئے تھےن ہم قبرستان میں قبروں کو دیکھ رہے تھے اس کے بعد جب ہم درگاہ کے اندر گئے، تین چھوٹی سی بچیاں اس درگاہ کے دروازے کے پاس کھڑی تھیں۔ ہم نے ان پیاری سی بچیوں سے بات کرنا شروع اور ان سے پوچھا آپ کون ہیں اور کہاں سے آئی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اسی علاقے کے برابر میں ہمارا گاؤں ہے، ہم یہیں رہتے ہیں ہم پیر غیبی کے درگاہ میں عید کی وجہ سے زیارتِ کے لئے اپنی گھر والوں کے ساتھ آئی ہیں۔ تین چھوٹی بچیاں ان کے ساتھ ہم نے ایک تصویر بنائیں۔ قبرستان میں بہت ساری قبریں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑا قبرستان ہے اس قبرستان میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کی قبریں موجود ہیں۔ یہ درگاہ مذہبی رواداری کے حوالے سے ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ یہاں ہندو برادری کے دیوان اور مسلمان یہیں کی تھالی میں کھانا کھاتے ہیں۔
ہمیں پیر غیبی درگاہ سے آگے کھیرتھر (یہ وہی پہاڑ ہے جس کے نام پر نیشنل پارک رکھا گیا ہے) کے پہاڑ سے ہوتے ہوئے تونگ شریف کی جانب جانا تھا۔ پیر غیبی کو "پیر آری” بھی کہتے ہیں۔ بدر ابڑو صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جرچات سے 12 کلومیٹر پہلے ديھ کرچات کی حدود کے اندر تھانہ بولا خان اور کرچات جانے والے راستے کی ایک کلومیٹر شمال میں باران ندی سے آدھا کلومیٹر آگے کی طرف گنبد نظر آتا ہے جو میاں نصیر کلھوڑو مقبرے کی کاپی لگتی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا ۔ بدر ابڑو صاحب لکھتے ہیں کہ میں دل میں سوچتا ہوں کیا کلھوڑوں کا سلسلہ یہاں تک بھی ہے کیا۔۔!!!
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
اس قبر کو غیبی پیر کا مقبرہ کہتے ہیں جو طوطے کے سبز رنگ کا الگ ہے۔ اس قبر کے برابر میں دو تین خوبصورت گھاڑی قبریں ہیں، ان پہ سفید چونا لگا کر بدنما کر دیا گیا ہے۔ باقی قبریں گمنام ہیں۔ یہاں کے ایک مقامی بخاری صاحب کے خیال میں یہ چودھویں صدی کی ہیں۔ یہ تقریباً 10 ایکڑ پہ پھیلا ہوا قبرستان ہے۔ ابتدائی جائزے کے بعد مجھے وہ شخص تاریخ بتا رہے تھے کہ یہ فقیر رضا احمد باریجو ہیں اور اس نے تاریخ بتائی کہ میں خود باریجو فقیر ہوں اور قلندری مرشد کا فقیر یا ملنگ ہوں! شہنشاہ کا دادا چاکر پہلی ذات چنہ ہے، پھر لال سائیں گودڑی کا بار اٹھانے سے اسی لیے "باری” لقب ملا، اس کے بعد یہ خاندان باریجہ کہلایا گیا، اسی طرح ‘باری’ اصل چنا قوم سے ہیں اور ان کا لقب قلندری ہے اس کے بعد باری بعد میں باری فقیر کہلائے گئے۔ یعنی باری فقیر کی اولاد۔ ” آری! ” جو خاندان "غیبی سائیں” کے بھائی ہیں سائیں "باری” جراڑ، براھیم (ابراہیم) عمر چار پانچ بھائی تھے۔ سائیں اصل میں بلوچستان کے علاقے "ڈاڑھیاری” سے کرچات آئے پھر دوسری شادی کرامت کرچات میں موسو برفت قبیلی میں ” اَچر” نامی خاتون سے کی۔ موسانی برفت قبیلے میں ایک لڑکی سے شادی کرنے کے بعد یہیں کے رہے، پھر یہیں وفات پا گئے۔ اسی کی وصیت کے مطابق یہاں دفنایا گیا اور یہ بھی وصیت کی گئی کہ مجھے اونٹ پہ لاد کر یہاں لے کر آئیں اور مجھے وہاں دفنائیں، جہاں اونٹ رک جائے۔ اسی طرح اسی جگہ پہ اونٹ کو کھیرتھر پہاڑ برابر سے باران ندی کے اسی جگہ
چھوڑا گیا اونٹ چلتے چلتے جس جگہ رکا، اسی جگہ پہ پیر غیبی کو دفنایا گیا۔ اسی فقیر کے مطابق کہ یہاں پہلے پانی نہیں تھا پھر سید بادشاہ( پیر غیبی) کی کرامت سے یہاں باران ندی میں دو چشمے وجود میں آئے ہیں۔ آج بھی ان کے عقیدت مند وہاں پہ جاتے ہیں اور اس پانی کو بھی مقدس سمجھتے ہیں۔
جاری
حوالہ جات:
1. موسو شاہد "کيرٿر جي ھنج ۾”
صحفہ نمبر 38 ، 41
2. ابڑو بدر "ڪوھستان جو سیر” صفحہ نمبر 278
3۔ دلشاد علی گُگو کوہستانی۔ فیسبک پوسٹ
یہ بھی پڑھیں:
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط اوّل)
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)




