سندھ حکومت کے متنازع منصوبے پر سوالات: ماحولیاتی کارکنوں کا شاہراہِ بھٹو ختم کرنے کا مطالبہ
کراچی: ملیر کے رہائشیوں، سول سوسائٹی گروپوں، ماحولیاتی کارکنوں اور وکلاء نے سندھ حکومت کے میگا روڈ پراجیکٹ "شاہراہِ بھٹو” (سابقہ ملیر ایکسپریس وے) کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ حالیہ مون سون کی بارشوں میں افتتاح شدہ راستے کے کئی حصے…
تہذیبوں کا تصادم : فطرت اور کنکریٹ کی جنگ
تصویر کا ایک منظر ہزاروں سال پرانی زرعی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرسبز کھیتوں میں گائے کھڑی ہے، اور دوسرا منظر نام نہاد شہری ترقی کی ہے، جس کی نمائندگی مطلب قبضہ بھیڑیا ٹاؤن کی گرینڈ مسجد کررہے ہے۔ یہ دونوں مناظر ایک فریم میں ہیں، مگر ان کے درمیان…
بحریہ ٹاؤن، جرنیلوں کی لوٹ مار کا ڈوبتا سنہری جہاز
پاکستان کے جنرل ہیڈکوارٹرز کے اندھیروں میں، جہاں طاقت اپنے آپ کو حب الوطنی کا نقاب پہنا کر پیش کرتی ہے، ایک سنہرا ناسور اُگا، بحریہ ٹاؤن، جو قوم کے سکڑتے لہو اور خاکی اشرافیہ کی لالچ سے پھیلتا گیا۔ ملک ریاض حسین، زمین کا یہ بادشاہ، کسی تخلیقی ذہانت سے…
پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
ملیر اور گڈاپ میں ریتی بجری کی چوری اور درختوں کی کٹائی: ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ
کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے اپنی خوبصورتی، زرخیز زمین اور قدرتی ماحول کے لیے جانے جاتے تھے، مگر بدقسمتی سے آج یہ قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی کا شکار ہیں۔ ترقی کے نام پر یہ غیر…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…
دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 4
نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔) 9. ایجوکیشن…
تم کو بھی لے ڈوبیں گے
کرہِ ارض پر پائی جانے والی نباتات و حیاتیات و جمادات انسانی وجود سے بہت پہلے سے موجود ہیں اور اگر ساڑھے چار ارب سال پر محیط بقائی کیلنڈر کی جمع تقسیم کی جائے تو اس حساب سے انسان کو یہاں موجودہ شکل میں وجود پذیر اور آباد ہوئے محض چند گھنٹے ہی گذرے ہیں…