کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (آٹھویں اور آخری قسط)
’دُریجی‘ کے قدیم اور خاموش قبرستان سے واپسی کا ارادہ کرتے وقت شام اپنے پراسرار سائے پھیلا رہی تھی۔ تیز اور سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور دن بھر کی مسافت کی تھکن جسم پر غالب آ چکی تھی۔ صبح سے ’تؤنگ شریف‘ اور اس کے گردونواح کے کٹھن راستوں میں مسلسل موٹر…
ملیر دریا پر مسلط ایک شاہراہ
سندھ حکومت نے کل جس منصوبے کا افتتاح ’بھٹو ایکسپریس وے‘ کے نام سے کیا، وہ دراصل وہی متنازع ’ملیر ایکسپریس وے‘ ہے جس کے خلاف گزشتہ کئی برسوں سے ملیر کے مقامی لوگوں، کسانوں، ماہی گیروں، ماحولیاتی کارکنوں، وکلاء، شہری تنظیموں اور سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس…
دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے آگاہی پروگرام
آج 14 مارچ کو ’’دریاؤں کے لیے جدوجہد کے بین الاقوامی دن‘‘ (International Day of Action for Rivers) کے موقع پر سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (گڈاپ شاخ) اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کونکر لائبریری میں ایک خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس…
خوف، مزاحمت اور دیواروں میں قید گواہی
کل شام، اپنے گاؤں کے درختوں کے سائے میں اور فصلوں کے درمیان چلتے ہوئے، جب اچانک ایک اژدھے پر نظر پڑی، جسے ہم بھیڑیا ٹاؤن کہتے ہیں، تو ایک لمحے کو خوف سے آنکھیں بند ہو گئیں۔ یہی گاؤں، میری جنم بھومی، جس کے آنگن میں کبھی طرح طرح کے درختوں کی چھاؤں ہوا…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
کھیرتھر نیشنل پارک کی حدود میں ریتی بجری مائننگ: حرص و لالچ کا کھیل
کھیرتھر نیشنل پارک، ملیر اور جامشورو کے علاقوں میں ریتی بجری مائننگ نے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بھی سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف غیر قانونی مائننگ کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، دوسری طرف یہ پانی مزید کھارا اور…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
ملیر ایجوکیشن سٹی یا کارپوریٹ کالونی
ملیر کی زمین پر سندھ حکومت کی جانب سے جو منصوبہ “ایجوکیشن سٹی” کے نام سے شروع کیا گیا ہے وہ ملیر کی زمینوں پر قبضے کی ایک نئی شکل ہے۔ یہ منصوبہ ریاستی و حکومتی اداروں اور کارپوریٹ مفادات کو ترقی اور علم جیسے خوبصورت الفاظ کے پردے میں ملیر کی زمینوں،…