Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ماحولیاتاہم ترینتازہ ترینخبریں

دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 4

By Akhtar Rasool
نومبر 5, 2024 4 Min Read
0

نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔)

9. ایجوکیشن سٹی پراجیکٹ کا نتیجہ ماحولیاتی تبدیلی پر منفی اثرات کی صورت میں نکلے گا، جس میں طویل دورانیے کی شدید گرمی اور بلند درجہ حرارت شامل ہیں۔

الف. شہر کو چاہیے کہ ایجوکیشن سٹی کے لیے متبادل علاقے تلاش کرے اور اس پراجیکٹ کی دوبارہ منصوبہ بندی کے لیے قومی اور بین الاقوامی معماروں، انجینئرز، ماہرینِ آثار قدیمہ اور شہری منصوبہ سازوں سے جامع مشاورت اور شراکت داری کرے۔ چونکہ ایجوکیشن سٹی کا خواب دس سال سے زیادہ عرصے قبل دیکھا گیا تھا، اس دوران جون 2015 میں سب سے زیادہ جان لیوا ہیٹ ویوز آئیں۔ اب ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اشارے واضح ہیں اور زرعی زمینوں اور قدرتی جگہوں کے تحفظ کی زیادہ ضرورت ہے، جس کا احساس 2006 میں ایجوکیشن سٹی کی منصوبہ بندی کے وقت نہیں تھا۔ ان سب حالات کے پیشِ نظر ایجوکیشن سٹی کے منصوبے کو دوبارہ تشکیل دینے اور سبز جگہوں کا تحفظ ضروری ہے تاکہ ماحول دوست کیمپس تعمیر کیے جا سکیں۔

ب. ایجوکیشن سٹی پراجیکٹ کے تحت قدرتی علاقوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے صاف کیا جائے گا اور مزید کنکریٹ کے ڈھانچے تعمیر کیے جائیں گے، جو گرمی کے جذب ہونے اور ’شہری جزیرۂ گرمی‘ کے اثر کو بڑھا دیں گے۔ یہ ایک ایسے شہر میں شدید گرمی کے واقعات کے خطرے کو بڑھا دے گا جو حالیہ برسوں میں مہلک ہیٹ ویوز کا سامنا کر چکا ہے۔ گرمی کا یہ مرکب اثر نہ صرف انسانوں کو متاثر کرے گا بلکہ مقامی نباتات اور حیوانات کی بقا کو بھی خطرے میں ڈال دے گا جو سایہ اور قدرتی ٹھنڈک کے لیے ان سبز جگہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ ضلع سمندر سے تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے کراچی کے دیگر حصوں سے موسمی طور پر مختلف ہے۔

ج. 2015 سے کراچی کے سبز علاقوں کے تیزی سے کم ہونے اور شہری ترقی کے باعث گرمی کی شدید لہروں کے خدشے کے پیش نظر حکومت نے ’کراچی ہیٹ ویو مینجمنٹ پلان: منصوبہ بندی اور ردعمل کے لیے رہنما‘ متعارف کرایا۔ یہ منصوبہ ایک تکنیکی معاونت پراجیکٹ کا نتیجہ تھا جسے قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے اکتوبر 2016 اور مئی 2017 کے درمیان کمشنر دفتر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت مکمل کیا۔ کراچی کو ایک طویل گرم موسم کا سامنا ہے جو مارچ سے اکتوبر تک جاری رہتا ہے۔ رپورٹ کے نیچے دی گئی تصویر میں جان لیوا ہیٹ ویوز کے اثرات کی تفصیل دی گئی ہے۔۔

 

جون 2015 میں گرمی سے ہونے والی اموات کے تجزیے سے شہر میں گرمی سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی ہوئی۔ یہ اور دیگر تحقیق بتاتی ہے کہ کم آمدنی، آبادی کا حجم، مکانوں کا معیار اور تعلیم کی کمی وہ عوامل ہیں جو ممکنہ طور پر جون 2015 میں کراچی میں گرمی کے اثرات کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

heat-waves-of-Karachi-2015-and-2018
https://ghhin.org/wp-content/uploads/HeatwaveManagementPlan.pdf

د. ایجوکیشن سٹی 2024 کے لیے ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) میں صرف 1999 سے 2008 کے موسمیاتی ڈیٹا پر انحصار کیا گیا ہے، جس میں 2015 سے 2024 کے دوران کے اہم درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات کو شامل نہیں کیا گیا۔ گزشتہ دہائی میں کراچی میں سالانہ درجہ حرارت میں شدید اضافہ ہوا ہے، گرمی کی لہریں زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ آ رہی ہیں۔ مثلاً، 2015 اور 2018 میں کراچی نے تباہ کن ہیٹ ویوز کا سامنا کیا، جن میں بہت سی اموات ہوئیں اور اس بڑھتی ہوئی موسمیاتی حساسیت کی حقیقت کو اجاگر کیا۔ مطالعات نے ثابت کیا ہے کہ 2015 کے بعد شہر کا سالانہ اوسط درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیٹ ویوز مزید عام اور شدید ہو رہی ہیں (ایکسپریس ٹریبیون، 2015؛ الجزیرہ، 2018)۔

ہ. اس ڈیٹا کے ساتھ، EIA رپورٹ ان فوری ماحولیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کرتی ہے جو براہِ راست اس منصوبے کے علاقے کو متاثر کرتی ہیں، ممکنہ طور پر بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ایجوکیشن سٹی میں حرارت پیدا کرنے والے ڈھانچوں کے اضافے سے ہونے والے ماحولیاتی اور صحت کے خطرات کو کم کر کے دکھاتی ہے۔ یہ کمی نہ صرف اس علاقے کی ماحولیاتی صورتحال کی غلط تصویر پیش کرتی ہے بلکہ منصوبے کے ساتھ وابستہ حقیقی خطرات کے بارے میں فیصلہ سازوں اور عوام کو بھی گمراہ کر سکتی ہے۔ پرانا ڈیٹا استعمال کرنے کی یہ جانبدارانہ پیشکش EIA کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے اور اس بات کو نظر انداز کرتی ہے کہ مقامی ماحول کے بارے میں درست اور تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کی اخلاقی ذمہ داری ہے، خاص طور پر ایسے علاقے میں جو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے گرمی کے اثرات کے لیے انتہائی حساس ہے۔

جاری ہے


  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 2

  • دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 3

Tags:

5th june world environment dayapartments karachi pricesbeach view apartments in karachibeachfront apartments karachi for salebiggest environmental issuebijapur education citybuy beachfront apartment in karachiclifton karachidestruction of coastal resourcesdistrict malirEducationeducation cityeducation city (location)education city dohaeducation city doha qatareducation city gameseducation city golfeducation city golf clubeducation city qatareducation city skylineseducation city stadiumeducation city stadium qatarEnvironmentenvironment by cityenvironment of karachienvironment of sindhenvironmental activismenvironmental consequencesEnvironmental Destructionenvironmental impact assessmentenvironmental issuesenvironmental issues todayenvironmental policyEnvironmental Pollutionenvironmental pollution short filmenvironmental problemsEnvironmental Protection Agencyenvironmental short film festivalenvironmental video essaygames in education cityhabitat destructionhmr beachfront karachihmr waterfront karachihow do you use education cityhow does education city workis education city worth it?Karachikarachi's environmentMalirmalir citymalir districtMalir express wayMalir Expresswaymalir expressway constructionmalir expressway development newsmalir expressway latest construction newsmalir expressway latest newsmalir expressway projectmalir greenmalir nadimalir rainMalir Rivermaths in education cityoverseas best investment in karachipakistan environment newsreal estate development in karachisafe environmentsea view karachisindh environmental protection agencytop 5 environmental issuestop environmental issuewadi malirwaterfront apartments in karachiwhat is education cityWorld Environment Day
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
What-is-the-formula-for-making-geniuses-in-children-of-the-educationalist-and-psychologist-Laszlo-Polgar
Previous

ماہرِ تعلیم و نفسیات لازلو پولگر کا ’بچوں کو جینئس بنانے کا فارمولا‘ کیا ہے؟

Discovery-of-a-great-ocean-underground-containing-three-times-more-water-than-Earths
Next

زیرِ زمین ایک عظیم سمندر کی دریافت، جس میں زمین کے سمندروں سے تین گنا زیادہ پانی موجود ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme