چلتے رہنا بھی ایک موت ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
جوں ہی رات دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوتی ہے، کارنس پر رکھا مجسمہ آہستہ سے نیچے اترتا ہے اور اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجسمہ کہتا ہے۔۔۔ ’’میں؟‘‘ ’’میں کون؟‘‘ ’’میں ماضی ہوں۔‘‘ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔۔۔ ’’لیکن میں تمہیں…
سورج مکھی (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر صبح کے آثار نمودار ہو چلے تھے۔ یوراگوئے کے اس سرحدی گاؤں میں مقیم فریڈریکو کچی سڑک کے پار سورج مکھی کے پھولوں کے کھیت کو گھور رہا تھا۔ اس کے قیمتی جوتوں پر مٹی تھی یا ریت، اسے اندازہ نہ تھا۔ ہاں البتہ اس کی بیوی لوئیسا فوراََ بتا دیتی۔ لوئیسا…
ایک کہانی اپنے لیے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
زندگی کے طویل خارزار میں وہ مجھے چند لمحوں کے لیے ملتی ہے اور اس کے بعد اداسی کی لمبی شاہراہ ہے، جس پر میں اکیلے ہی سفر کرتا ہوں۔۔ یہ چند لمحوں کی ملاقات ہی اس طویل خارزار میں میرا زادِ راہ ہے۔ مجھے لگتا ہے، میری زندگی ایک نہ ختم ہونے والی اداس…
اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…
خزاں گزیدہ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہو گئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا، جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق…
ولیمائی (چلی کے ادب سے منتخب افسانہ)
میرا نام ’ولیمائی‘ Walimai میرے والد نے رکھا تھا۔ شمال میں ہمارے بھائیوں کی زبان میں اس کا مطلب آندھی ہے۔ میں تمہیں اپنا نام پکارنے کی اجازت دیتا ہوں، کیونکہ اب تم میری بیٹی کی طرح ہو۔۔ لیکن یہ بھی اس وقت، جب ہم خاندان والوں کے ساتھ ہوں۔ اس لئے کہ اشخاص…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…
سناٹا بولتا ہے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں، جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے، جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے…