جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…
یادِ یارِ مہرباں (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) میں سرما کا وہ خشک سویرا کبھی نہیں بھول سکتا، جس دن میرے دادا کے گاؤں سے بوڑھے فڈانگو کی وفات کی خبر آئی۔ بعض اوقات ہم اچھی یا بری خبر سن کر ذرا مختلف رد عمل دکھاتے ہیں۔ فڈانگو کی موت کی خبر میں نے دل سے سنی اور اس سے پہلے کہ…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…
من بھید (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
گارشیا، ایک طرف خاموش کھڑا اپنے ناخنوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کارلوس آرام کرسی پر بیٹھا چھت کی طرف دیکھ رہا تھا، ماریا لوئیسا کھڑکی میں بیٹھی کچھ بُن رہی تھی۔ کمرے میں ایک مہیب سناٹا طاری تھا۔کتنی دیر سے اُن تینوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔ اُس پورے دن ان…
شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…
یکجہتی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
میں انہیں دیکھنے کے لیے رُک گیا۔ وہ رات کے وقت، سنسان گلی میں ایک دکان کے شٹر کے ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ دکان کا شٹر تھوڑا بھاری تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے ایک لوہے کا ڈنڈا نیچے لگایا ہوا تھا،لیکن شٹر اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ میں ادھر ویسے ہی چہل…
بے خوشبو عکس (اردو ادب سے منتخب ایک شاہکار علامتی افسانہ)
داستان گو اس کہانی کو یوں سناتا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کُل مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں…