کراچی تاریخ کے آئینے میں (تیسرا اور آخری حصہ)
اس دور کے کراچی میں برہمنوں کے تین یا چار اسکولوں میں ہندوؤں کو سندھی زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ طالب علم روزانہ اپنے استاد کے لیے تحفے کے طور پر تھوڑی مقدار میں چاول اور ایندھن کے لیے چند لکڑیاں ضرور لے کرجایا کرتا تھا جبکہ والدین ہر ماہ ایک یا دو روپے…
کراچی تاریخ کے آئینے میں (پہلا حصہ)
شہر مردہ اور بے جان نہیں وہ سانس لیتے ہیں۔ اپنے یہاں موجود زندگی سے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو بے پناہ محبت کرتے اور ان کا دکھ درد محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں رہنے والے بھی اپنے شہروں پر فخر کرتے ہیں اور دنیا میں جہاں بھی رہیں…
مستونگ: چھ سو سال پرانے قبرستان میں نصب دیوقامت پتھروں کا راز کیا ہے؟
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً نوے کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ میں چھ سو سال قدیم ایک قبرستان واقع ہے ان قبروں پر کسی کا نام نہیں لکھا بلکہ ان کی شناخت کا طریقہ مختلف ہے تیس ایکڑ پر محیط اس قبرستان کی منفرد بات یہاں کی قبروں…
ورنہ تُو تَو گیا
تاریخی اعتبار سے روسی نفسیات روسی دفاع کا سب سے موثر ہتھیار رہی ہے۔یقین نہ آئے تو نپولین (اٹھارہ سو پانچ) اور ہٹلر (انیس سو چالیس) سے پوچھ لیں جن کی فوجیں موسمِ گرما کے تین ماہ میں ماسکو فتح کرنے کا خواب لے کر ہزاروں میل پر پھیلے روسی میدان میں بگٹٹ…
اپنا کھانا خود پکاؤ
پرانے زمانے میں یہ بات اکثر سننے میں آتی تھی کہ فلاں صاحب اچھے خاصے چلتے پھرتے تھے، رات مسجد میں نماز پڑھ کے آئے تھے اور صبح ان کی خبر آ گئی (فوت ہو گئے) اب چلتے پھرتے مر جانا ایک خواب ہے۔ سائنس آپ کی موت کا وقت شاید نہ بدل سکتی ہو…
پُشپا نام سُن کر ’پشاور‘ سمجھے کیا؟
سوچا تھا اُس سے دور کہیں جا بسیں گے ہم لیکن سروش ہم سے پشاور نہ چُھٹ سکا محبوب کو چھوڑنے والا شاعر پشاور چھوڑنے پر آمادہ نہیں کہ اُسے زلفِ یار سے زیادہ پشاور کے در و دیوار اور قصہ خوانی بازار عزیز ہیں۔ کہتے ہیں ’دلی‘ جتنی زمین کے اوپر ہے، اُس سے…
ڈیرہ اسماعیل خان: ’کافر کوٹ‘ کیا ہے؟
دریائے سندھ کے ساتھ چشمہ بیراج کے قریب واقع کھنڈر نما عمارت، جو بظاہر کسی قدیمی قلعے کی باقیات لگتی ہے مقامی لوگ اس جگہ کو ‘کافرکوٹ’ کہتے ہیں لیکن انہیں اس کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔البتہ جو افراد وادی سندھ کی تہذیب کو دریافت…
جنگوں اور ہتھیاروں کا سفر تاریخ کے آئینے میں
تاریخ میں قبائل اپنے جھگڑے جنگوں میں طے کرتی رہے ہیں۔ گفت و شنید اور ڈپلومیسی کے استعمال سے ”کچھ لو اور کچھ دو“ کی بنیاد پر فیصلے ہوا کرتے تھے، لیکن جنگ میں شکست کے بعد وہ فاتح کی تمام شرائط کو منظور کر لیتا تھا اس لیے فاتح قوم مال غنیمت بھی حاصل…