گوادر میں کوہ باطل پر تاریخی آثار کو نقصان کس نے پہنچایا؟
گوادر – بلوچستان کے ساحلی اور تاریخی شہر گوادر کے مقام کوہ باطل پر سولہویں صدی کے پرتگالی آثار قدیمہ کو دانستہ نقصان پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کی تصدیق مقامی افراد نے بھی کی ٹوئٹر پر ایک صارف نوفل شاہ نے سب سے پہلے اس جانب نشاندہی کروائی۔…
سعودی عرب میں ساڑھے چار ہزار سال پہلے یہ پراسرار مقبرے کس نے بنائے تھے؟
ریاض – آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں یہ مقبرے ساڑھے چار ہزار سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح…
ایک تصویر، ایک کہانی – 25
کراچی میں بنی پتھر کی منفرد چمنیاں آج کہانی ہے کراچی شہر میں بنی ہوئے پتھر کی چمنیوں کی، اس کہانی کے ساتھ بہت سی تصویریں بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر یہ چمنیاں انگریز دور میں مختلف ورکشاپس اور فیکٹریوں میں بنائی گئی تھیں، تاکہ ورکشاپس یا…
پن چکیوں کا شہر اور ایک بے خبر بلوچ
ایران کا صوبہ ”خراسان رضوی“ شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام جناب امام رضا اور فارسی زبان کے شہرہِ آفاق شعرا عمر خیام اور ابوالقاسم فردوسی کے مزاروں کی وجہ سے معروف ہے، لیکن یہاں ایسی اور بھی چیزیں ہیں، جن کا دیکھنا وقت کا ضیاع ہرگز نہیں ہے. تایباد کے جنوب…
ایک تصویر ایک کہانی-21
گجھڑو ڈورو سے گجر نالہ تک کا سفر تصویر میں جو نقشہ ہے، آج کی کہانی اس کے متعلق ہے، یہ نقشہ دیھ گُجھڑو(ڳُجھڙو) کا ہے، جو 1915ع میں انگریز دور میں بنایا گیا تھا۔ انگریز نے سندھ پر قبضے کے بعد زمین کے سروے کا کام 1896ع میں شروع کیا ، لیکن کراچی میں…
اکیسویں صدی کے جنگی ہتھیار
برطانوی فلسفی ہابز کے مطابق دنیا ایک ایسا کھیل کا میدان ہے جس میں تمام شرکا ایک بے لگام، خود غرض اور غیر مہذب مقابلے میں خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ ہر ریاست کے لیے جن مفادات کو حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے، وہ اپنے مفاد کے علاوہ…
’کاہو جو دڑو‘ ایک گم شدہ شہر
’کاہو جو دڑو‘ ایک گم شدہ شہر سندھ کے خطے میں ہزاروں سال قبل مختلف النوع تہذیبوں نے جنم لیا اور اس کے ہر شہر میں ان کے آثار بکھرے ہوئے ہیں جو ارتقائے انسانی کی نشانیوں اور پرشکوہ ادوار کی عکاسی کرتے ہیں۔ کاہو جو دڑو بھی ان میں سے ایک ایسا ہی گم…
گریٹ گیم‘: جب انگریزوں نے دریائے سندھ کو دریائے ٹیمز میں بدلنے اور مٹھن کوٹ میں بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا
یہ انیسویں صدی کے پہلے نصف کی بات ہے۔ نوجوان برطانوی افسروں پر مشتمل ایک خفیہ مشن دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ، اس کی گہرائی اور اس میں جہاز رانی کے امکانات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہا تھا اور اُن کی پوری کوشش تھی کہ سندھ کے اُمرا اور پنجاب میں…