سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
امریکی غلام، جنہوں نے اپنی مزاحمت سے تاریخ رقم کی
امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں افریقہ سے لائے ہوئے غلاموں کی بڑی تعداد آباد تھی، جو سفید فام مالکوں کے کھیتوں میں محنت مشقت کرتی تھی۔ جب انہیں غلام بنا کر لایا گیا تو ان کی شناخت کو بدل دیا گیا۔ ان کے نئے نام رکھے گئے۔ ان کے مذہب کو تبدیل کیا گیا اور…
ایک بنجر جزیرے کی کہانی، جسے کچھ ہی سالوں میں آباد کر کے ماحولیاتی بحالی کی مثال بنایا گیا!
یہ سچ ہے کہ انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے تو اپنی ہمت سے وہ کچھ کر جاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔ انسان نے اپنی ہمت کی ایک ایسی ہی داستان ایک غیر آباد چھوٹے کیریبئن جزیرے پر بھی رقم کی ہے اس جزیرے کی ناقابل یقین ماحولیاتی بحالی نے دنیا بھر…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
غزہ: ’تہذیبوں کے چوراہے‘ کی تاریخ
اپنی مثالی اسٹریٹیجک حیثیت کی وجہ سے غزہ کا علاقہ کئی بار تباہ ہوا اور کئی بار آباد ہوا۔ چار ہزار سال پر محیط اس کی معلوم تاریخ کو دیکھا جائے تو بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ غزہ کے رہنے والوں کو موت کے منہ میں جینے کا ہنر وراثت میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط52)
اس سے پہلے کہ کوئی اور بولتا میرا دوست سندھو بول پڑا، ”بلائنڈ ڈولفن جسے سندھی ’بِلھن‘ کہتے ہیں، میرا اور اُس کا ساتھ ازل سے ہے۔ کہتے ہیں یہ مچھلی تبت سے نکلے کچھ اور دریاؤں میں بھی پائی جاتی تھی لیکن اب صرف مجھ میں اور دریائے گنگا میں ہی باقی بچی ہے۔…
تاریخ کا ایک تاریک باب۔۔ جب افریقی کھوپڑیاں چوری کر کے جرمنی لائی گئی تھیں!
نوآبادیاتی دور میں مشرقی افریقہ سے ہزاروں کھوپڑیاں چوری کرتے ہوئے جرمنی لائی گئی تھیں۔ اب جرمن محققین ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اُن افریقی رشتہ داروں کو تلاش کر رہے ہیں، جن کے آباو اجداد کی یہ کھوپڑیاں ہیں برلن کے ایک عجائب گھر کے مطابق اس نے نوآبادیاتی…