Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

ایک بنجر جزیرے کی کہانی، جسے کچھ ہی سالوں میں آباد کر کے ماحولیاتی بحالی کی مثال بنایا گیا!

By Akhtar Rasool
اکتوبر 17, 2023 4 Min Read
0

یہ سچ ہے کہ انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے تو اپنی ہمت سے وہ کچھ کر جاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔ انسان نے اپنی ہمت کی ایک ایسی ہی داستان ایک غیر آباد چھوٹے کیریبئن جزیرے پر بھی رقم کی ہے

اس جزیرے کی ناقابل یقین ماحولیاتی بحالی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ دنیا بھر کے ماحولیاتی ماہرین صرف چند سالوں میں ایک ویران چٹان کو جنگلی حیات کے لیے سرسبز پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے عمل کو ایک اعلیٰ مثال قرار دے رہے ہیں

یہ کارنامہ اینٹیگوا اور باربوڈا کے سخت باشندوں نے سرانجام دیا ہے، جنہوں نے ملک میں تیسرے نمبر پر واقع غیر معروف جزیرے ’ریدوندا‘ کے میٹامورفوسس کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اب وہ ایک اور اہم کارنامے کا جشن منا رہے ہیں

ایک کلومیٹر سے بھی چھوٹے علاقے کو ملک کی حکومت نے باضابطہ طور پر ایک پروٹیکٹڈ یعنی ’محفوظ علاقہ‘ قرار دیا ہے، جہاں پر کسی قسم کی تعمیرات اور کسی کی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ اس کا مقصد یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندوں اور نایاب انواع کے لیے اس جزیرے کو محفوظ مسکن اور پناہ گاہ بنانا ہے، جو اور کہیں نہیں

ریدوندا ایکو سسٹم ریزرو، جو سمندری گھاس کے میدانوں اور ایک مرجان کی چٹان کو بھی گھیرے ہوئے ہے، اس وقت تیس ہزار ہیکٹر پر محیط ہے

اس بڑے حجم کا مطلب ہے کہ ملک نے پہلے ہی اپنا 30×30 کا ہدف پورا کر لیا ہے، جو کہ سنہ 2030ع تک کرہ ارض کے 30 فی صد حصے کو محفوظ بنانے کا عالمی ہدف ہے

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ریدوندا حیاتیاتی تنوع سے بھرپور ہے۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار درجنوں انواع، نایاب سمندری پرندے اور مقامی چھپکلیاں یہاں لوٹ آئی ہیں

لیکن ریدوندا ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ رینگنے والے جانوروں اور پرندوں کے انڈے کھانے والے کالے چوہوں اور ابتدائی آباد کاروں کے بکروں نے اس جزیرے کے پودوں کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ جزیرہ چاند کی بنجر سطح جیسا نظر آنے لگا تھا

بکروں کو کہیں اور منتقل کرنے اور چوہوں کے خاتمے کے لیے سنہ 2016 میں شروع کیے گئے ایک خاص منصوبے نے پھر سے اس جزیرے کو سرسبز کر دیا، جس کی وجہ سے مقامی انواع میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا

اس منصوبے کو غیر سرکاری تنظیم انوائرمنٹل اویئرنس گروپ (ای اے جی) نے حکومت اور غیرملکی پارٹنرز جیسے فاؤنا اور فلورا انٹرنیشنل کے تعاون سے پروان چڑھایا

اس این جی او کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آریکا ہل نے زون کی نئی حیثیت کو ’اینٹیگوا اور باربوڈا کے باشندوں کے لیے ایک عظیم فتح‘ قرار دیا

آریکا ہل کہتی ہیں ”یہ مشرقی کیریبئن کا سب سے بڑا سمندری تحفظ والا علاقہ ہے اور یہ وہ ناقابل یقین کام اس بات کی وضاحت کرتا ہے تحفظ پسند اور ماہرین ماحولیات کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے قانونی طور پر اس کام کے لیے ہم پر اعتماد کیا“

اس گروہ نے کئی سال قبل ریدوندا میں پائی جانے والی متعدد انواع کو دوبارہ متعارف کرانے پر تحقیق کرائی تھی۔ ان انواع میں الوؤں کی ایک نسل اور زیرِ زمین گھونسلا بنانے والے پرندے شامل ہیں

اب یہاں ایسا مضبوط نظام بھی متعارف کرایا جائے گا، جس سے جزیرے پر معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، جیسے کیمروں کی مدد سے چوہوں پر نظر رکھی جائے گی اور مچھلیاں پکڑنے کے خلاف سخت پابندی ہوگی

فلورا اینڈ فاؤنا انٹرنیشنل کی جینی ڈیلٹری نے کہا کہ کیریبئن جزیرے پر جدید تاریخ کی سب سے زیادہ معدومیت کی شرح ہے، یعنی ریدوندا پر بحالی اور تحفظ کے اقدامات نہایت ضروری ہیں

خوش آئند بات یہ ہے کہ بحالی کے اقدامات کی شروعات سے اب تک پندرہ اقسام کے پرندے جزیرے پر واپس آچکے ہیں جبکہ ریدوندا کی ’لینڈ ڈریگن‘ چھپکلی کی تعداد بھی کافی بڑھ چکی ہے

ای اے جی کی شانا چیلنجر نے کہا ”مقامی باشندے ان اقدامات کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمارا چھوٹا جزیرہ، جسے کئی لوگوں نے اب تک نہیں دیکھا، قومی فخر بن گیا ہے۔۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے اس کام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا“

چھوٹے جزیروں کے اعتبار سے، جو ماحولیاتی تبدیلی کا شکار رہے ہیں، ریدوندا کی کامیابی ماحولیاتی تحفظ کی امید کو اجاگر کرتی ہے

شانا چیلنجر کہتی ہیں ”ہم اہداف پورے کر کے دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ یہ ممکن ہے۔ ہم کاربن خارج نہیں کرتے مگر اس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور اس کے باوجود ہم نے جلد اپنے اہداف حاصل کیے۔۔ مجھے امید ہے کہ اس سے دیگر ممالک کو سبق ملے گا۔ اگر اینٹیگوا اور باربوڈا کر سکتے ہیں تو باقی بھی کر سکتے ہیں“

ماحولیاتی ماہر جونیلا بریڈشا کے لیے یہ کامیابی ذاتی اہمیت کی حامل ہے۔ وہ کہتی ہیں ”اسکول کے دنوں میں بچپن میں ماحولیات کے شعبے میں کیریئر بنانے کا کوئی نہیں سوچتا۔ ہمیں ڈاکٹر، ڈینٹسٹ یا وکیل بننے کا کہا جاتا ہے۔ جب آپ ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کو اکثر امریکہ یا یورپ کا خیال آتا ہے، کیریبئن کے کسی چھوٹے جزیرے کا نہیں۔ اب ہم تحفظ کی بین الاقوامی کوششوں میں سرِفہرست ہیں۔ اب ہم اپنی نوجوان نسل کو یہ بتانے کے قابل ہیں کہ ہم بھی یہ کر سکتے ہیں“

جونیلا کو یقین ہے کہ یہ کام صرف کاغذات پر ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی جاری رہے گا۔ انہیں معلوم ہے کہ ملک مستقبل میں بھی شدید موسمی حالات کا شکار ہوگا۔ چھ سال قبل باربوڈا میں سمندری طوفان سے تباہی ہوئی تھی۔ سمندروں میں درجہ حرارت بڑھنا خطے کے کئی جزیروں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

وہ کہتی ہیں ”آپ ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتے درجہ حرارت اور طوفانوں کے بارے میں سنتے ہیں مگر ہم اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ گرمیاں بہت بُری رہی ہیں۔ اس بار شدید گرمی پڑی۔ اگر ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے تو تبدیلی لا سکتے ہیں۔“

Tags:

ancient historycalifornia ecosystem restorationcity of baltimoreclassical historycollege of san mateoecological engineeringecosystem restorationecosystem restoration campecosystem restoration campsfools and dreamersgeography (field of study)Historyhistory documentarymap of the worldnatural historyport of baltimorerestorationrestoration agriculturesan diego natural history museumscary discoveriesscary discoveryscary places
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سولر پینلز کا متبادل، مصنوعی فوٹوسنتھیسس کا طریقہ دریافت

Next

یہ لال رنگ۔۔۔ فلسطینی بچے محمد الدرہ کے والد کے زخم پھر تازہ ہو گئے۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme