میوزیم (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
چھٹی کی گھنٹی بجی تو بچے شور مچاتے باہر نکلے۔ اس کا بیٹا اس کے پاس آیا۔ ’’شکر ہے آج آپ مجھے جلدی لینے آ گئے، مما تو بہت دیر کر دیتی ہیں۔‘‘ ’’تمہاری مما دیر تک کام کرتی ہیں۔‘‘ ’’آپ ہی مجھے ہر روز لینے کیوں نہیں آتے؟‘‘ ’’آج میری چھٹی ہے۔۔ مگر میں…
ایک ہی کوکھ (موزمبیقی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں میرے دادا مجھے ساتھ لیے دریا کی جانب چل پڑتے اور اپنی چھوٹی سی کشتی، جسے وہ کونچو کہتے تھے، میں مجھے بھی بٹھا لیتے۔ وہ بہت آہستگی سے چپو چلاتے، چپو شاید ہی لہروں سے ٹکراتے، مجھے تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پانی کے اوپر ہی انہیں حرکت دے رہے ہیں۔…
کن کجھورا (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میری بڑی بہن ڈیلیا میرے پالتو کتے کو چھڑی سے مار رہی تھی اور میرا خون کھول رہا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے میرے جسم سے ایک وحشی درندہ باہر نکلنے کو بےتاب ہے۔ تیز دھوپ میں وہ کشمشی رنگ کے کپڑوں اور سرخ بالوں کی بدولت کسی بے نیام خنجر کی…
گناہ گار (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک حکومتی اہل کار، جس کا نام میگوف تھا، اپنی شام کی سیر کے دوران ایک تار گھر کے قریب رکا اور ایک گہری آہ بھری۔ ایک ہفتہ قبل جب وہ شام کی سیر سے گھر لوٹ رہا تھا تو بالکل اسی جگہ پر اس کی سابقہ نوکرانی اگنیا نے اسے اچانک آ لیا تھا،…
بے نام (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہ شہر کی مصروف ترین سڑک تھی۔ آدھا کلو میٹر تک سیدھی چلی جاتی تھی۔ اس کے اختتام پر چوراہا تھا، جس پر سگنل لگا ہوا تھا۔ سڑک کے ایک طرف مصروف بازار تھا اور دوسری طرف ایک نجی اسپتال۔ اسپتال سے متصل ایک ویران سا میدان تھا۔ اسپتال کی دیوار کے ساتھ کسی ٹھیلے…
ہیں خواب میں ہنوز (کیوبن ادب سے منتخب افسانہ)
1957 کے آس پاس ایک بوڑھا امریکی جوڑا ہوانا شہر میں ہمارا پڑوسی تھا۔ وہ مبالغے کی حد تک کم آمیز تھے۔ ہم دونوں کے گھروں کا ٹیرس مشترکہ تھا، بس درمیان میں کنکریٹ کی ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارا تو راہ چلتے، لفٹ میں یا گھر میں…
آخری غریب (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
منظر نامہ: 1990 دنیا میں امن، صحت اور خوش حالی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ دنیا میں امن ہو گیا۔ ہر شہری اپنی کار کا مالک ہے۔ دنیا سے حشرات معدوم ہو چکے تھے، بڑھتی آبادی پر قابو پا لیا گیا تھا، بیماریاں ختم ہو چکی تھیں۔ بیکٹیریا اور وائرس پر قابو پا لیا گیا…
سیاہ کمرے کے مکین (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
نیم تاریک کمرے کے ایک اداس کونے میں پڑی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے مایوسی سے کاغذ پر لکھے بے جان لفظوں کو گُھورا۔ اشتعال کی ایک لہر اٹھی اور میں نے کاغذ کو مروڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، جو کاغذی گولوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر…