اگست کے بھوت (کولمبین ادب سے منتخب افسانہ)
ہم دوپہر سے کچھ دیر پہلے اریزو پہنچے اور وہاں پر قلعہ رینائزئنس کو دیکھتے ہوئے دو گھنٹے گزار دیے۔ وینزویلا کے ادیب میگوئیل اوٹیرو سیلوا ہمیں جوسسین کے گردونواح کے اس سادہ و دلکش کونے میں لائے تھے۔ یہ اگست کے ابتدائی دنوں کی ایک جلتی اور سُلگتی اتوار تھی…
اداس نسلیں (کالم کہانی)
بارش تو رک گئی تھی مگر دھرتی پر بہتے پانی کا شور ابھی باقی تھا۔ اس نے کھڑکی کو کھول کر دیکھا۔ دھلے ہوئے درخت پر ایک خوبصورت پرندہ اپنے پروں کو چونچ سے خشک کر رہا تھا۔ اس کے قریب ایک گلہری اداس بیٹھی تھی۔ پیپل کے اس درخت کے قریب پام کا بوڑھا…
ڈائری میں چُھپا خواب (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ گھڑی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ وقت صفر سے شروع ہوتا اور ہندسوں سے اٹھکیلیاں کرتا دوبارہ صفر پر آ کھڑا ہوتا۔ اس کی بے تاثر نظریں وقت کا تعاقب کرتے کرتے تھک گئیں تو اس نے گھڑی سے نظر ہٹا کر الماری کا ایک خانہ کھولا اور گزرے وقت کی ردی چھانٹنے لگا۔…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…
جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…
یادِ یارِ مہرباں (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) میں سرما کا وہ خشک سویرا کبھی نہیں بھول سکتا، جس دن میرے دادا کے گاؤں سے بوڑھے فڈانگو کی وفات کی خبر آئی۔ بعض اوقات ہم اچھی یا بری خبر سن کر ذرا مختلف رد عمل دکھاتے ہیں۔ فڈانگو کی موت کی خبر میں نے دل سے سنی اور اس سے پہلے کہ…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…