اک آسماں تمہارا، اک آسمان میرا (سندھی ادب سے منتخب تجریدی افسانہ)
پمی! تم میری سوچوں میں بنائی گئی وہ پہلی تصویر ہو، جسے میں ابھی تک مکمل نہیں کر سکا۔ کیا انسان اپنی پہلی محبت کی تصویر مکمل کر سکتا ہے؟ میں نہیں جانتا۔۔۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اب بھی تمہاری تصویر مکمل کرنے میں مشغول ہوں۔ میں آج بھی تمہاری یہ…
کالی بھیڑ (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک ملک ایسا تھا، جس کا ہر باسی چور تھا۔۔۔ اس کا ہر باسی، رات میں تالا شکن اوزار اور اندھے شیشے والی لالٹین لیے گھر سے نکلتا اور اپنے کسی ہمسائے کے گھر میں نقب لگاتا۔ وہ جب پَو پھٹتے سمے، لُوٹا ہوا مال لیے اپنے گھر لوٹتا تو اسے پتہ چلتا کہ اس…
خواب آئنے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔ ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے، نہ موضوع۔۔ پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر، لیکن آخری سطر تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی، اس آخری سطر کو لکھنے کے لیے میں، وہ اور دوسرے سب کبھی…
گوئیبلز! تم کیا جانو جھوٹ کسے کہتے ہیں؟
نوٹ: برطانوی اخبار گارجیئن اور بی بی سی بنیادی طور پر برطانیہ کے دانش ور طبقے کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن زیرنظر تحریر میں ان ’مستند‘ سمجھے جانے والے اداروں کی جانب سے غیر محسوس انداز میں کیے گئے پروپیگنڈے کا ایک تصوراتی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دنیا میں…
تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
رات گئے جب وہ تصویر بغل میں دبائے میرے پاس آیا تو شہر کے بڑے چوک میں جمع لوگ تتر بتر ہو چکے تھے۔ لاش کو سولی سے اتار لیا گیا تھا اور سوگواروں کو لاٹھیاں مار مار کر بھگا دیا گیا تھا۔ میرے دروازہ کھولنے پر اس نے چاروں طرف دیکھا اور تیزی سے…
خزاں کے آنسو
ہانا اومیا چھوٹے سے بحری جہاز کے جنگلے کے پاس خوفزدہ کھڑی تھی۔ جہاز لڑکھڑاتا ہوا امریکہ کی طرف روانہ تھا۔ نومبر کے مہینے میں سمندر بھی خاصا سرد اور خوفزدہ ہوتا ہے۔ وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنی خاص جاپانی طرز کی بنی ہوئی ریشم کی جیکٹ کو اوپر کر کے…
ایک کہانی اپنے لیے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
زندگی کے طویل خارزار میں وہ مجھے چند لمحوں کے لیے ملتی ہے اور اس کے بعد اداسی کی لمبی شاہراہ ہے، جس پر میں اکیلے ہی سفر کرتا ہوں۔۔ یہ چند لمحوں کی ملاقات ہی اس طویل خارزار میں میرا زادِ راہ ہے۔ مجھے لگتا ہے، میری زندگی ایک نہ ختم ہونے والی اداس…
اسکول ٹیچر کا مہمان (چلین ادب سے منتخب افسانہ)
اسکول ٹیچر انیس ’دی پرل آف دی اورینٹ‘ میں داخل ہوئی، جو اس وقت بلکل ویران تھا۔ سیدھی کاؤنٹر پر پہنچی، جہاں ریاض حلابی شوخ پھولوں والے کپڑے کا تھان لپیٹ رہا تھا۔ اسکول ٹیچر نے اسے بتایا کہ اس نے اپنے مہمان سرائے میں ایک مہمان کا سر کاٹ دیا ہے۔ تاجر نے…