کیا ہم زندگی کے آخری بلبلے میں سانس لے رہے ہیں؟ ایکو سسٹم کی حیرت انگیز اور لرزہ خیز حقیقت
فطرت کے خاموش مناظر اور ہریالی کے سحر میں کھو جانا ہم سب کو ایک انجانے سکون سے بھر دیتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی اس ”حیات کے رقص“ کے پیچھے چھپے پیچیدہ نظام پر غور کیا ہے؟ جسے ہم سائنسی زبان میں ”ایکو سسٹم“ کہتے ہیں۔ یہ محض ایک خشک اصطلاح نہیں بلکہ…
پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ: عوامی سماعت یا نمائشی کارروائی؟
گزشتہ روز سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) کی جانب سے پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ کی منظوری کے لیے ایک عوامی سماعت (Public Hearing) منعقد کی گئی۔ اس سماعت میں فِٹی کریک کے ذریعے سمندر کی طرف جانے والے راستے کو مزید گہرا کرنے کی تجویز پیش کی…
گُگھر کی قیمتی رال، ماحول دشمنوں کے منہ سے بہتی لالچ کی رال اور عالمی تحفظ کی کہانی
کارونجھر اور کھیرتھر کے پتھریلے دامن میں اگنے والی ایک خاموش، کانٹوں بھری جھاڑی، گُگھر یا گگرال آخرکار دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ وہ پودا جس کی رال صدیوں سے حکما، ویدوں اور دوا سازوں کے لیے خزانے سے کم نہیں تھی، اب عالمی قانون کے حصار میں آ چکا ہے۔…
قحطِ آب میں سسکتے پرندے: سندھ میں مہمان آبی پرندوں کی اُجڑی بستیاں
کہتے ہیں جب ہوائیں بدلتی ہیں تو پرندے بھی راستہ بدل لیتے ہیں، مگر سندھ کی زمین پر جو منظر اب ابھرتا جا رہا ہے، وہ صرف ہواؤں کا قصہ نہیں، پانی کے ناپید ہوتے خوابوں کا نوحہ بھی ہے۔ 2023 تک سندھ کی جھیلیں، دلدلی علاقے اور کھلے پانی کے ذخائر دنیا بھر کے…
درخت، لڑکی اور 738 دن: ایک انوکھا احتجاج جو تاریخ بن گیا
کہانی کبھی کبھار اپنے کرداروں سے آگے نکل کر استعارہ بن جاتی ہے، کسی نظریے، کسی خواب، کسی مزاحمت کی علامت۔ جولیا ہل کی کہانی بھی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ انسان کی لالچ اور فطرت سے محبت کے متضاد رویوں کے درمیان ایک ایسی جنگ کی روداد ہے، جس میں ایک لڑکی نے…
ممنوعہ علاقہ: کِھیْرتَھر نیشنل پارک
”زمین کوئی سرمایہ نہیں جس پر ہمارا مالکانہ حق ہو، بلکہ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اس کی عطا کردہ زندگی کے تحفے کے بدلے اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں وہ سوال ہے، جس کا ہمیں آخرکار سامنا کرنا ہوگا: کیا زمین محض اشیاء کا ذریعہ ہے، یا یہ ہمارے سب…
دی کلائمیٹ بُک: قدرتی ذرائع کے استعمال کو تبدیل کرنے کا انجام (3)
گریٹا تھیونبرگ کی کتاب ’دی کلائمیٹ بُک‘ میں چھپنے والے اپنے مضمون میں کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ماحولیات اور ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر بیت شپرو کہتے ہیں کہ انسانوں کے ارتقائی اثر کا سب سے پرانا ثبوت سیارے پر انسانی قیام کی سب سے قدیم مقامات جیسے قدیم…