Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-Climate-Book-The-End-of-Changing-Natural-Resource-Use
کالماہم ترینتازہ ترینماحولیات

دی کلائمیٹ بُک: قدرتی ذرائع کے استعمال کو تبدیل کرنے کا انجام (3)

By Akhtar Rasool
ستمبر 25, 2024 4 Min Read
0

گریٹا تھیونبرگ کی کتاب ’دی کلائمیٹ بُک‘ میں چھپنے والے اپنے مضمون میں کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ماحولیات اور ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر بیت شپرو کہتے ہیں کہ انسانوں کے ارتقائی اثر کا سب سے پرانا ثبوت سیارے پر انسانی قیام کی سب سے قدیم مقامات جیسے قدیم براعظموں اور جزائر سے برآمد ہونے والی جانداروں کی باقیات سے ملتا ہے۔

پچاس ہزار سال پہلے جب لوگ افریقہ سے باہر نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئے تو جو بھی جاندار گئے، اُن کی تعداد میں کمی آنے لگی۔ جانور کی اقسام خصوصاً بڑے جانور، جیسے کہ بڑے وومبیٹس، وولی رائنوسیروس اور بڑے سلوتھس (بہت ہی قوی الجثہ جانور) ختم ہونے لگے۔ آئیے مزید تفصیل مصنف کی زبانی جانتے ہیں۔

 ہمارے آباؤ اجداد کی شکاری مہارتیں

ہمارے آباؤ اجداد منفرد طریقے سے شکار کرنے سے باخوبی واقف تھے۔ وہ ایسے ہتھیار بناتے تھے جو کامیاب شکار کے امکانات بڑھاتے تھے اور وہ ان ہتھیاروں کو تیزی سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بڑے جانوروں کا معدوم ہونا اور انسانوں کی پہلی موجودگی بیک وقت ہونے کے آثار افریقہ کے علاوہ تمام براعظموں کی باقیات میں ملتے ہیں، لیکن ایسا بیک وقت ہونا کوئی اتفاق نہیں تھا۔

 انسان جہاں گیا، وہاں کا قدرتی ماحول بدل ڈالا

یورپ، ایشیا اور امریکا میں انسانوں کی آمد اور مقامی بڑے جانوروں کی معدومیت موسمیاتی اتار چڑھاؤ کے دوران ہوئی، جس کی بنا پر دہائیوں تک بحث ہوئی کہ ان دو قوتوں یعنی انسانوں کی آمد اور موسمیاتی تبدیلی، مقامی بڑے جانوروں کی معدومیت کے کتنے ذمہ دار ہیں۔

اس کا اصل ثبوت آسٹریلیا سے ملتا ہے جہاں پر انسانوں سے وابستہ سب سے قدیم معدومیت ریکارڈ کی گئی ہیں اور انسانوں کے باعث وہاں کے جزائر پر چند سو سال پہلے ہونے والی معدومیت کے نتیجے میں آوٹیروا (نیوزی لینڈ) کی موا اور موریشیائی ڈوڈو (مرغی کی طرح پرندے جو اُڑتے نہیں ہیں) دونوں ختم ہو گئے۔

آسٹریلوی اور مزید حالیہ جزائر کی معدومی کسی خاص موسمیاتی تبدیلی کے دوران نہیں ہوئی اور نہ ہی قدیم موسمیاتی واقعات کے دوران معدومی کے شواہد ملے ہیں۔ بلکہ یہ معدومی دیگر براعظموں کی طرح انسانوں کی موجودگی کے باعث مقامی ماحول میں تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔

جنگلی حیات کے ساتھ اپنے ابتدائی تعلق میں ہی انسان نے قدیم جانوروں کے ارتقائی مقدر کا تعین کرنا شروع کر دیا تھا یعنی انسان کے اُن کے ساتھ رویے سے پتا چل رہا تھا کہ اُن کا انجام کیا ہوسکتا یا کیا ہونے جا رہا ہے۔

 پالتو اور جنگلی جانوروں کی درجہ بندی

پندرہ ہزار سال پہلے انسان دیگر جانداروں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا تھا۔ خاکستری بھیڑیے جو خوراک کے لیے انسانی آبادیوں میں چلے آئے، اُنہیں پالتو کتوں میں بدل دیا تھا اور نتیجتاً دونوں جاندار یعنی کتے اور انسان اپنے تعلق سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

جب آخری برفانی دور ختم ہو گیا اور موسم میں بہتری آئی تو پھیلتی ہوئی انسانی آبادیوں کو کھانے، کپڑے اور رہائش کے قابلِ بھروسہ ذرائع کی طلب ہوئی۔ تقریباً 10 ہزار سال پہلے لوگ شکار کرنے کی ایسی حکمتِ عملی اپنانے لگے جو شکار کی آبادی کو ختم نہیں کرتی تھی بلکہ شکار بننے کے باوجود جانوروں کی نسل جاری رہتی تھی۔

کچھ شکاری صرف نر یا غیر تولیدی ماداؤں کا شکار کرتے تھے اور بعد میں شکار والے جانوروں کو باڑوں اور اپنی رہائش کے قریب رکھنے لگے۔ جلد ہی لوگوں نے قابو میں آنے والے جانوروں کی نسلیں جاری رکھیں اور جو اقسام قابو میں نہ آئیں، انہیں شکار کر کے کھانے کا فیصلہ کیا۔

انسان نے زمین اور جانداروں کا استعمال کیسے بدلا

انسانوں کے تجربات جانوروں تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے بیج بوئے اور ایسے بیجوں کو منتخب کیا جو فی پودا زیادہ خوراک پیدا کرتے تھے یا دوسرے پودوں کے ساتھ کٹائی کے لیے تیار ہوتے تھے۔ انہوں نے آب پاشی نیٹ ورکس بنائے اور جانوروں کو کاشت کاری کے لیے زمین صاف کرنے کی تربیت دی۔

جب ہمارے قدیم آباؤ اجداد شکاری سے چرواہوں اور کسانوں سے غلہ ذخیرہ کرنے والوں میں تبدیل ہو گئے تو وہ زمین، جس پر وہ رہتے تھے اور جانور جن پر وہ مزید بھروسہ کر رہے تھے، اُن کے استعمال کو تبدیل کر دیا۔

یہ کالم بھی پڑھیں:


دی کلائمیٹ بُک: موسمیاتی بحران کا حل اُسے سمجھے بغیر ناممکن

 نیچر کی حفاظت کی جانب واپسی

بیسویں صدی کے موڑ پر ہمارے آباؤ اجداد کسانوں اور ماہرین کی کامیابیاں ان معاشرتوں کی پائیداری خطرے میں ڈال رہی تھیں، جنہیں انہوں نے تخلیق کیا تھا۔ جنگلات کو گھاس کے میدانوں اور پھر زرعی زمینوں میں بدل دیا گیا اور یوں زمین زرعی مقاصد کے لیے مسلسل استعمال کے باعث اپنی قدرتی خصوصیات کھونے لگی۔

ہوا اور پانی کے معیار میں کمی آنے لگی۔ معدومیت کی شرح پھر سے بڑھنے لگی۔ اس دفعہ تباہی زیادہ واضح تھی کیونکہ اب کی بار لوگ دولت مند اور ٹیکنالوجی جدید تھی۔ جب ہر طرف پھیلے ہوئے جاندار کم ہونے لگے تو جنگلی جانوروں اور اُن کے مسکنوں کی حفاظت کی بات ہونے لگی۔

انسان دوبارہ سے دیگر جانداروں سے برتاؤ کرنے کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔ وہ اُن کے محافظ بن گئے کیونکہ وہ جنگلی حیات اور ماحول کو لاحق قدرتی اور انسانی خطرات سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور یوں انسان ہر جاندار کے مقدر اور اس کے مسکن کا فیصلہ کرنے والی ارتقائی قوت بن گیا۔

نوٹ: عالمی موسمیاتی رہنما گریٹا تھیونبرگ کی قیادت میں تالیف کی گئی کتاب ’دی کلائمیٹ بُک‘ جس میں دنیا کے معروف لکھاریوں کے موسمیاتی تبدیلی پر 100 مضامین شامل ہیں، جن کا اردو ترجمہ سلسلہ وار ڈان نیوز ڈیجیٹل کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔

یہ کالم بھی پڑھیں:

  • دی کلائمیٹ بُک: موسمیاتی تبدیلی تو بس تباہی ہی لاتی ہے (2)

Tags:

bill gates climate change bookBooksclass 10 management of natural resourcesClimateclimate actionclimate apartheidclimate booksClimate changeclimate change newsClimate Crisisclimate cyclesclimate disasterclimate equityclimate fictionclimate justiceclimate moviesclimate protestclimate scienceclimate summitclimate townearth climategreta thunberg the climate bookhow to avoid a climate disastermanagement of natural resourcesmanagement of natural resources class 10 notesmanagement of natural resources in englishmanagement of natural resources in hindimanaging natural resourcesmaryland department of natural resourcesnaturalnatural resourcenatural resource managementnatural resourcesnatural resources for kidsnatural resources of the earthsustainable management of natural resources class 10the climate bookthe climate eventthe climate war
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
amazing-story-of-a-red-star-Betelgeuse
Previous

ایک سرخ ستارے کی حیرت انگیز کہانی، جو کسی دن پوری کہکشاں کی روشنی کو بھی ماند کر دے گا!

Dangerous-XDR-typhoid-spreads-across-Pakistan-which-is-not-affected-by-medicines
Next

پاکستان بھر میں پھیلتا خطرناک ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ، جس پر ادویات بھی اثر نہیں کرتیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme