پاکستان: تعمیراتی صنعت کی تباہی کے بارے میں اعظم گھانچی کیا کہتے ہیں؟
محمد اعظم گھانچی نے 2020ع کے آخر میں جب فلیٹس کے لیے ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیا تو اس وقت سریے کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار روپے فی ٹن تھی، جو فروری 2023ع کے وسط میں تین لاکھ روپے فی ٹن تک پہنچ چکی ہے اعظم گھانچی اب پریشان ہیں کہ اپنے تعمیراتی پراجیکٹ پر…
اور کیا چاہیے ریپ کرنے والوں کو؟
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف نائن میں 460 ایکڑ پر پھیلا ہوا پارک 1992 سے عوام کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اس پارک میں وہ سب کچھ ہے، جو شہریوں کے لیے ہونا چاہیے ایک کونے میں ایک انٹرنیشنل فوڈ چین کی عمارت، جوگنگ ٹریک، بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور…
گاڑی آن لائن بیچیں یا شوروم پر؟
’جائیدادیں تو بِک گئیں لیکن قانون ٹھیک سمجھ میں آ گیا۔‘ دکھی دل کے ساتھ سہیل بھائی نے اپنی زبان میں جو محاورہ بولا اس کا مطلب یہی تھا۔ قصہ وہی تھا کہ آن لائن گاڑی بیچنے کا اشتہار دینے کے بعد ان سے فراڈ ہو چکا تھا گاڑی چوری ہو گئی، ون فائیو پہ…
پاکستان اور بھارت میں بھی زلزلے کی پیش گوئی!! سائنس کیا کہتی ہے؟
عالمی ادارہِ صحت کے مطابق پچھلے بیس سالوں میں دنیا بھر میں قدرتی آفات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں آدھی تعداد وہ ہے، جو صرف زلزلوں میں لقمہ اجل بنی۔ لیکن اس سب کے باوجود نکتہِ عروج پر پہنچنے والی سائنس کے پاس ہنوز زلزلوں کی پیشگی اطلاع دینے کا کوئی…
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو: روس یوکرین جنگ اور پاکستان میں ماچس کی آگ
ڈھائی سال کی بے روزگاری کے بعد آٹھ مہینے پہلے پشاور کے چالیس سالہ سہیل احمد دوبارہ اُس ماچس بنانے والے کارخانے میں کام کے لیے آئے، جو بند ہو چکا تھا سہیل بتاتے ہیں ”مئں پشاور کے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ماچس کے کارخانے میں ڈبوں کی پرنٹنگ کے شعبے…
کیا واقعی آئی ایم ایف ہماری معیشت کے لیے نجات دہندہ ہے؟
وقت کا کیسا حسین ستم ہے۔ وہ ادارہ جسے دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں عوام مخالف، اشرافیہ کا دوست اور بڑھتی ہوئی غربت، افلاس اور بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اب اسی ادارے کو پاکستان کے واحد نجات دہندہ کر طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ہمارے حکمران ایک سال سے…
پاکستان میں کار فراڈ: واردات کے بعد ایف آئی آر کے علاوہ کیا ہوتا ہے؟
سہیل اختر کے ساتھ ہونے والے کار فراڈ کے اس واقعے کا پہلا حصہ 26 جنوری کو شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے انہیں چائے کا ایک کپ 47 لاکھ نو سو روپے میں پڑا تھا یہ بھی پڑھیے: 47 لاکھ نو سو روپے کی چائے اور کار فراڈ کی…
کیا پاکستان کا نام چوہدری رحمت علی نے اکیلے تجویز کیا
28 جنوری، 1933 کو کیمبرج، انگلستان سے پاکستان نیشنل موومنٹ نامی تنظیم نے چار بڑے صفحات پر مشتمل ایک سائیکلو سٹائل کتابچہ شائع کیا، جس کا نام تھا NOW OR NEVER, ARE WE TO LIVE OR PERISH FOREVER ۔ تاہم یہ کتابچہ NOW OR NEVER یعنی اب یا کبھی نہیں کے نام سے…