خفیہ اداروں پر عدلیہ معاملات میں مداخلت کا الزام۔۔ چھ ججوں نے اپنے خط میں کیا لکھا ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسٰی کو لکھے گئے خط میں پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ خط لکھنے کے بعد بار ایسوسی ایشنز نے ججوں کے…
رینجرز کے جانے کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی کی عمارت کس حال میں ہے؟
رینجرز کے آنے سے بہت پہلے ریڈیو پاکستان کراچی کی عمارت میں ایک ایسی دنیا تھی، جہاں ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا، لیکن اب خالی ہونے کے بعد قدرے خاموشی ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس قدیم عمارت سے جسے ثقافتی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم…
تاریخ نہ سہی، کیلنڈر ہی سیدھا کر لو
1950 کی دہائی کے پاکستان میں 23 گزیٹڈ چھٹیاں (ہالیڈیز) ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو سیکولر چھٹیاں یکم جنوری، بینک ہالیڈے تھیں۔ دس مسلم تہواروں (شبِ معراج، شبِ برات، جمعۃ الوداع، عیدالفطر، حج، عید الضحٰی، یکم محرم، عاشورہ، آخری چہارشنبہ، عیدِ میلاد النبی)…
یوم پاکستان: کب تک عوام کو تاریخ سے بہلایا جاتا رہے گا؟
23 مارچ کو یوم پاکستان مناتے ہوئے ہر سال زور و شور سے اُس قرارداد کا ذکر کیا جاتا ہے جو تین بنیادی نکات پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کے قیام کو 76 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر ملکی صورتحال ایک بھی نکتے پر پورا نہیں اترتی۔ 23 مارچ 1940ء کا سورج…
گوا سے آئے مسیحیوں نے کراچی کیوں چھوڑا؟
یہ 1510ء کی بات ہے جب پرتگال نے بھارت کے مغربی ساحل پر واقع شہر گوا کو فتح کیا تھا، جس کے بعد وہاں بسے کئی افراد نے قابضین کے زیرِ اثر اپنا مذہب تبدیل کر کہ مسیحیت اپنا لی تھی۔ ان میں اکثریت کیتھکولک مسیحیوں کی تھی، جو اپنے مذہب اور شہر کی نسبت…
تب اور اب
بہت سے لوگ بہت سی باتوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ وہ لوگ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں۔ ایسا عمیق ہنر صرف نصیب والوں کے حصے میں آتا ہے۔ کچھ لوگ کچھ چیزوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ وہ لوگ جانتے ہیں کہ گھوڑے کی چار ٹانگیں کیوں ہوتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں…
اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ سیاسی نہیں نفسیاتی ہے۔
آٹھ فروری وہ لاشہ ہے جو بپھرے سیاسی سمندر کے اوپر عرصے تک تیرتا رہے گا۔ یہ قومی پشت پر بندھا وہ کنستر ہے جو تادیر بجے گا۔ آپ بھلے خود کو کتنا ہی مطمئن دکھاتے رہیں مگر دنیا کے لبوں پر پھیلی خفتہ مسکراہٹ تو چھیننے سے رہے۔ وہ جو مثال ہے کہ پیش…
مریضِ پاکستان اور اس کا قابل معالج
چلیئے یہ بھی ہو گیا۔۔ 2014 کے دھرنے سے اب تک کی اکھاڑ پچھاڑ، تجربات، ناکامیوں، چار وزراِ اعظم اور تین حکومتیں بدلنے کے بعد، وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ’مڑ گڑ کے کھوتی بوہڑ تھلے‘ یعنی، گھوم پھر کے سسٹم کی گدھی اسی برگد تلے دوبارہ آن کھڑی ہوئی۔ یہ سب…