Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Radio-Pakistan-karachi-Building-Historical-Site
خبریںاہم ترینتازہ ترین

رینجرز کے جانے کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی کی عمارت کس حال میں ہے؟

By Akhtar Rasool
مارچ 27, 2024 4 Min Read
0

رینجرز کے آنے سے بہت پہلے ریڈیو پاکستان کراچی کی عمارت میں ایک ایسی دنیا تھی، جہاں ہر وقت میلہ لگا رہتا تھا، لیکن اب خالی ہونے کے بعد قدرے خاموشی ہے۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع اس قدیم عمارت سے جسے ثقافتی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تقریر نشر ہوئی تھی۔

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت کو سندھ رینجرز کے انسداد دہشت گردی ونگ نے تقریباً 8 سال بعد جنوری کے دوسرے ہفتے میں خاموشی سے خالی کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جناح روڈ سے گزرنے والے جلوسوں کی سکیورٹی کا جواز پیش کرتے ہوئے 2015 میں سندھ رینجرز نے عمارت کو اپنی ’تحویل‘ میں لے لیا تھا۔

مین گیٹ کے باہر سیمنٹ کی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، اس لیے بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ یہاں صورتحال معمول پر آگئی ہے۔

ترجمان سندھ رینجرز نے عمارت خالی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ”ہم نے ریڈیو پاکستان کی عمارت خالی کر دی ہے۔“ ان کے بقول، ”ہم خود سے عمارت میں آ کر نہیں بیٹھے تھے، سکیورٹی کے پیش نظر عمارت ہماری تحویل میں تھی لیکن میڈیا ہم پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔“

جب ان سے اچانک عمارت خالی کرنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہم پر انگلیاں اُٹھا رہا تھا، اب جب ہم عمارت چھوڑ چکے ہیں، تو آپ کو اس سے بھی کوئی مسئلہ ہے؟“

انہوں نے کہا ”ہم کسی بھی جگہ خود نہیں جاتے، سندھ حکومت کی طرف سے ہمارے لیے عارضی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اب ہم گڈاپ میں ٹول پلازہ کے قریب نئی جگہ منتقل ہو گئے ہیں، جو ہماری ضرورت کے عین مطابق ہے۔“

ریڈیو پاکستان کے سینئر ملازم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، تو یہ واقعی رینجر کے لیے مثالی جگہ نہیں تھی، شہر کے وسط کے مقابلے میں ان کے لیے زیادہ بہتر جگہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں ہو سکتی ہے، مزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہاں ان کے اپنے حفاظتی مسائل بھی ہوں گے۔

واضح رہے کہ ریڈیو پاکستان نے 2007 میں آگ لگنے کے بعد اس تاریخی عمارت کو خالی کر دیا تھا اور اپنا سینٹر حسن اسکوائر پر واقع سوک سینٹر منتقل کر دیا تھا۔ آگ صبح اس وقت بھڑکی، جب بچوں کا پروگرام ’بچوں کی دنیا‘ ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

اس موقع پر تقریباً چالیس بچے وہاں موجود تھے، تاہم انتظامیہ بچوں کو جلتی ہوئی عمارت سے محفوظ انداز سے نکالنے میں کامیاب رہی تھی۔

اب رونقیں دوبارہ بحال ہونے لگی ہیں اور ریڈیو پاکستان کا کچھ عملہ دوبارہ پرانی عمارت میں منتقل ہوگیا ہے۔ سیلز، مارکیٹنگ اور نیوز سیکشن سے شروع ہو کر تاریخی عمارت تک زیادہ تر آپریشنز کو آہستہ آہستہ لیکن بتدریج واپس منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، البتہ ریڈیو پاکستان کی نشریات اب بھی سوک سینٹر سے جاری ہیں۔

اس عمارت کا افتتاح 16 جولائی 1951 کو کوئینز روڈ پر واقع انٹیلیجنس اسکول سے کراچی اسٹیشن کے وہاں منتقل ہونے کے بعد کیا گیا تھا، جہاں زیڈ اے بخاری، شاہد احمد دہلوی، ایس ایم سلیم اور عبدالمجید جیسی قد آور شخصیات کی رہنمائی میں تقسیم کے فوراً بعد کراچی سے میڈیم ویو ٹرانسمیشن کا آغاز ہوا تھا۔

دو چھوٹے چھوٹے گنبذوں والی یہ پرانی عمارت شاہراہِ ایم اے جناح (بندر روڈ) پر واقع ہے، جہاں میڈم نور جہاں، مہدی حسن، محمد ابراہیم، محمد جمن، روبینہ قریشی، زرینہ بلوچ، احمد رشدی اور ریشماں نے آواز کے جادو جگائے۔

فلمی دنیا پر راج کرنے والے ستارے محمد علی، شمیم آرا، مصطفٰی قریشی، طلعت حسین، خبریں پڑھنے والوں میں شکیل احمد، انور بہزاد، شمیم اعجاز، انور حسین، ایڈورڈ کیٹپیئر اور چشتی مجاہد اس عمارت میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

اب عمارت کے اندر حالات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ عمارت کا نچلہ حصہ جہاں ایڈمن اور اکاؤنٹس کے دفاتر ہوا کرتے تھے، تمام کمرے دھول مٹی سے اٹے ہوئے تھے اور در و دیوار پر جالے بنے ہوئے تھے۔ دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں جبکہ بالائی اور پہلی منزل جہاں سے کسی زمانے میں اسٹوڈیو سے پروگرام نشر کیے جاتے تھے، ان کی بری حالت ہو چکی تھی۔ عمارت کے احاطے میں لگا بوڑھا برگد تاہم بدلتے حالات و واقعات کا شاہد بنا کھڑا ہے۔

کراچی کی ہر قابلِ ذکر شخصیت نے اس اسٹیشن کی کینٹین میں بیٹھ کر چائے پی، شامی کباب کھائے اور دال چپاتی کا لنچ کیا ہے۔ یہاں فن کاروں، ادیبوں، شاعروں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔

پہلی منزل پر چودہ اسٹوڈیوز تھے جو اکتوبر 2007 میں جل کر خاکستر ہو گئے تھے۔ بالائی منزل میں اسٹوڈیو کے آلات تو نہیں نظر آئے تاہم کچھ ٹوٹا پھوٹا فرنیچر اور تزین کا سامان کوڑے کے ڈھیر کی طرح پڑا ہوا تھا۔

Tags:

ghul hasan kalmatigul hasan kalmatigul hasan kalmati balochgul hassan kalmatigul hassan kalmati bahria towngul hassan kalmati biographygul hassan kalmati speechgul hassan kalmati wafatGul Hassan Kalmattigull hasan kalmatigull hassan kalmatihistoric radio pakistan buildingKalmatikarachi ka hero gul hassan kalmatilatest news pakistanlive news pakistanPakistanpakistan newspakistan news livepakistan radiopakistani newsRadio Pakistanradio pakistan buildingradio pakistan building on fireradio pakistan building set on fire in peshawarradio pakistan buinling set on fireradio pakistan karachiradio pakistan latestradio pakistan old buildingradio pakistan peshawarradio pakistan peshawar protestradio pakistan under siegesardar shah on gul hassan kalmatitribute to historian gul hassan kalmati |2023
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
National-Party-Balochistan-Mahrang-Baloch
Previous

ماہ رنگ بلوچ کی کزن یونیورسٹی طالبہ، جو بلوچستان اسمبلی کی رکن بھی ہیں!

The-story-of-the-love-of-the-West-of-the-children-of-hard-line-Iranian-politicians
Next

سخت گیر ایرانی سیاستدانوں کے بچوں کی مغرب سے محبت کی داستان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme