چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…
دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…
کھلائے ہیں آگ میں پھول، زندانی نثر یا جیل میں لکھا ادب
”اب سارے واقعات خود بولتے جاؤ۔ یاد رکھو، جہاں میرا قلم رکا، وہیں تمہاری پٹائی شروع کروں گا۔“ اور میں اسے گذشتہ تین سال پر مبنی واقعات لکھوانے لگا۔ ذہن سخت مائوف تھا، اس لیے واقعات کے تسلسل میں ذرا بھی ٹھہراؤ پیدا ہوتا، دو تین تھپڑ میری گردن پر آ کر لگتے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…