فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
اتنی مداراتوں کے بعد
بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں، جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے. منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے. میں یعنی شہباز علی پاکستان کی قومی پرواز سے دبئی پہنچا ہوں اور چار گھنٹوں…
رونے کی آواز (افسانہ)
فلاور انڈر ٹری اِز فری سامنے والی کرسی پر بیٹھا ابھی ابھی وہ گا رہا تھا۔ مگر اب کرسی کی سیٹ پر اس کے جسم کے دباؤ کا نشان ہی باقی ہے۔ کتنا اچھا گاتا ہے وہ۔۔۔ مجھے مغربی موسیقی اور شاعری سے کچھ ایسی دلچسپی تو نہیں ہے، مگر وہ کم بخت گاتا ہی…
جنگ میں پرندے گیت نہیں گاتے۔۔
۱۔ جنگ میں آبادی کے اعداد و شمار ’میں نے تمہیں چالیس سال پہلے دیکھا تھا، اس وقت تمہارے بال سیاہ اور مونچھیں لمبی تھیں۔ تم ہمارے گاؤں میں مقامی آبادی کی گنتی کرنے والی ٹیم کے سربراہ تھے، جو ان دنوں گاؤں کے اسکول میں رہائش پذیر تھی میرے ابّا اسکول میں…
جواں مردی (افسانہ)
وہ میری بیوی جا رہی، مگر اس کے لبوں پر اس مسکراہٹ کا نام تک نہیں جیسا کہ لوگوں نے میری تسکین قلب کے لیے مجھ سے کہا تھا۔ بس ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہے۔ اس کی بھیانک صورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہے اور موت کا خوف…
آخری کوشش (افسانہ)
ٹکٹ بابو نے گیٹ پر گھسیٹے کو روک کر کہا، ’’ٹکٹ!‘‘ گھسیٹے نے گھگھیا کر بابو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ماں کی گالی دے کر اسے پھاٹک کے باہر دھکیل دیا۔ ایسے بھک منگوں کے ساتھ، جب وہ بلا ٹکٹ سفر کریں، اور کیا ہی کیا جا سکتا ہے؟ گھسیٹے نے اسٹیشن سے باہر…
’یہ گڑیا جاتے ہوئے دریا میں پھینک دینا۔۔ میری پوتی کو یہ بہت پسند تھی’
ہائے میرے تو بچے بہہ گئے۔۔۔ کہانی نمبر ایک: مدد کب آئے گی؟ وہ پانچ تھے، جو ایک بڑے پتھر کے اوپر موجود تھے اور انہیں چاروں جانب سے پانی نے گھیر لیا تھا ’بچاؤ، بچاؤ۔۔۔ خدا کے لیے ہمیں بچاؤ‘، وہ چلّا چلّا کر کنارے پر موجود لوگوں کو آواز دینے لگے، تاہم پانی…
لمحوں میں اترا بڑھاپا (افسانہ)
چوراسی سال کی عمر میں ایک صبح وہ اٹھا اور بندوق تھامے گھر سے نکل آیا لیکن کیا یہ کہانی یہاں سے شروع ہونی بھی چاہیے یا نہیں کہ جب اس کہانی کا مرکزی کردار بالکل بوڑھا پھوس ہو چکا ہے اور بندوق تھامنے والے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں پورے چھ ماہ بعد…