اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
حاجی مراد (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
حاجی مراد نے اپنی دکان کے چبوترے سے نیچے چھلانگ لگائی، اپنے لباس کی سلوٹوں کو درست کرتے ہوئے چاندنی رنگ کا کمربند مضبوط کیا، مہندی لگی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور اپنے شاگرد حسن کو آواز دی۔ پھر دونوں نے مل کر دکان بند کی۔ اس کے بعد حاجی مراد نے اپنی جیب سے…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…
منڈیل بام گیٹ (فلسطینی افسانہ)
”اس سے پوچھو، یہاں سے جانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟ بس مجھے یہ بتاؤ مسٹر!“ اسرائیلی کسٹم کا سپاہی چیخا اس کی ڈیوٹی مینڈل بام گیٹ پر تھی۔ وہ بڑی رعونت سے گیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے چوکس کھڑا تھا ”جناب! یہ ہماری والدہ کا فیصلہ ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
انیتا
فرنشڈ اپارٹمنٹس کے ایک بڑے بلاک کے سب سے سستے کمرے میں میڈیکل کے تیسرے سال کا طالب علم یعنی کہ اسٹیفین کلچکوف ٹہل ٹہل کر جانفشانی سے ایناٹومی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ اس جانفشانی کے مارے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور پسینہ اس کی پیشانی پر چمک رہا تھا…
ردا (سندھی افسانہ)
میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے…