اپنے مرنے کا دکھ (اردو ادب سے انتخاب)
”یار صادق! بڑے افسوس کے ساتھ تمہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ تمہارا انتقال پُر ملال ہوچکا ہے..“ فون پر صادق کا دوست منیر تھا ”کیا…!؟ تم کیا کہہ رہے ہو منیر…“ صادق جھنجھلا گیا۔ یہ شخص ہمیشہ فون پر ایسا ہی مذاق کرتا ہے ”یہ کہہ رہا ہوں کہ تمہارے گھر…
بھیڑیا (پشتو ادب سے منتخب افسانہ)
میں جب ارد گرد دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ میرے چاروں طرف بےشمار درخت ہیں۔ ہر درخت میں کسی نہ کسی شخص نے پناہ لے رکھی ہے اور اس کا بھیڑیا کھڑا غرا رہا ہے بہت دیر سے میں نے ایک درخت میں پناہ لے رکھی ہے۔ میں اب تھک چکا ہوں اور…
اداس چہرہ (جرمن ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
میں بندرگاہ کے کنارے کھڑا تھا اور اُن سمندری پرندوں کو غور سے دیکھ رہا تھا، جو بار بار پانی میں غوطہ لگاتے اور بھیگتے ہوئے جسموں سے پانی جھاڑنے کے لیے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے تھے۔ ان کے پروں سے پانی یوں ٹپک رہا تھا، جیسے پھولوں پر شبنم ٹپکتی ہے……
گدھا اور تمغۂ خدمت (ترکی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے، کسی ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ ملک بڑا خوش حال تھا۔ لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے آزادی کے پودے کی داغ بیل دنیا میں سب سے پہلے اسی ملک میں پڑی ہو اور جمہوریت کا سورج یہیں طلوع ہوا ہو۔…
روح سے رابطہ (انگريزی ادب سے انتخاب)
”آپ کے لیے بہت ضروری ہے کہ اپنے آپ کو غم اور غصے کے اثرات سے محفوظ رکھیں۔“ ڈاکٹر مینل نے اپنے مخصوص انداز میں کہا…. مسز میری ہارٹر کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اس قسم کی باتوں سے اطمینان کے بجائے اس کے شک و شبہے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ”آپ کا…
بھکاری (منتخب روسی افسانہ)
”جناب عالی، مجھ پر رحم کیجیے… مہربانی فرمائیں، ایک بےکس غریب کے حال پر ترس کھائیں.. بھوکا ہوں، تین دن سے کچھ نہیں کھایا… رات بسر کرنے کے لیے پانچ کوپک (روسی کرنسی سکے) بھی نہیں۔ خدا کی قسم پانچ سال تک گاؤں کے مدرسے میں پڑھاتا رہا ہوں، لیکن…
خریدلو
”کیتھی کیتھی سنو!۔۔۔۔“میں نے اسے بار بار پکارا۔مگر وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار اپنے نارنجی میولز پھٹکارتی ٹیوب سٹیشن کی طرف لپک گئی ۔ کیتھی مشکل سے پندرہ برس کی ہوگی۔ اس میں ابھی اپنی قوم کی سنجیدگی چپ اپنانے کا سلیقہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ کسی کوک دیئے ہوئے…
خانو چور نہیں ہے!(سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
خانو نے پرانی کرسی کو ہوشیاری کے ساتھ آہستہ آہستہ سے گھسیٹتے ہوئے لکڑی کی الماری کے ساتھ لگا دیا اور پھر اچھل کر کرسی پہ کھڑا ہو گیا، مگر الماری کا اوپر والا خانہ اب بھی اس کی پہنچ سے دور ہی تھا.. جس تک پہنچنے کے لیے اد نے بازو کا استعمال کرتے…