فیصلہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
ان دنوں ہیرالال اور میں اکثر شام کو گھومنے جایا کرتے تھے۔ شہر کی گلیاں اُلانگھ کر ہم شہر کے باہر کھیتوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ ہیرالال کو باتیں کرنے کا شوق تھا اور مجھے اس کی باتیں سننے کا۔ وہ باتیں کرتا تو لگتا جیسے زندگی بول رہی ہے۔ اس کے واقعات اور…
جیل میں ایک چھوٹی سی غلطی
میں 1981 کے موسمِ خزاں اور 1982 کے اوائل میں پابندِ سلاسل کردیا گیا تھا۔ اس جیل میں مقید تھا، جو شاہِ ایران کے دور میں عقوبت کدے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خمینی کی اسلامی حکومت نے اس کے در دوبارہ وا کر دیے تھے۔ جہاں میں قید تھا، وہاں بہت سی عورتوں…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
ایک جوتشی کا دن (بھارتی ادب سے منتخب افسانہ)
حسبِ معمول بہت پابندی سے دوپہر کے وقت اس نے اپنا تھیلا کھولا اور اپنا پیشہ ورانہ ساز و سامان پھیلایا، جو کہ ایک درجن کوڑیوں، ایک چوکور کپڑے کے ٹکڑے، جس پر مبہم اور پراسرار زائچے بنے ہوئے تھے، ایک بیاض اور تاڑ کی چھال کی لکھی ہوئی تختیوں کے بنڈل پر مشتمل…
فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…
غیر معمولی یادداشت والا شخص (سوئس ادب سے منتخب افسانہ)
میں ایک شخص کو جانتا تھا، جسے سارا ٹائم ٹیبل زبانی یاد تھا۔ کیونکہ واحد شے جو اس کی خوشی کا سبب تھی، وہ ریل گاڑی تھی۔ وہ اپنا وقت ریلوے اسٹیشن پر گاڑیوں کو آتے اور جاتے ہوئے دیکھنے میں گزارا کرتا تھا۔ وہ حیرت بھری نظروں سے ڈبوں، انجنوں کی طاقت اور پہیوں…
خندہ فروش (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں کیا کام کاج کرتا ہوں تو سراسیمگی مجھے جکڑ لیتی ہے۔ میں سرخ لال ہو جاتا ہوں، ہکلاتا ہوں، حالانکہ میں ایک متوازن مزاج آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ میں حسد کرتا ہوں ان لوگوں سے، جو یہ کہہ سکتے ہیں: ’میں معمار ہوں‘ مجھے…
دو دوست (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
پیرس محاصرے میں تھا۔قحط زدہ تھا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چھتوں پر سے چرند پرند غائب ہو چکے تھے۔۔ اور شہر کے گٹر خشک ہو چکے تھے۔ لوگوں کو جو ملتا، کھا لیتے۔ جنوری کی ایک چمکیلی صبح جناب موریسوٹ، جو پیشے کے لحاظ سے گھڑی ساز تھا، لیکن…