دلدل (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
میّنْک جی لفظوں کے کاریگر تھے – بہت اچھے کاریگر – لفظوں کو گڑھتے، چھیلتے، کاٹتے، تراشتے – انہیں روپ دیتے – کئی طرح کے روپ — لفظوں سے وہ پھول کھلاتے۔قدرت کے رازوں کو بُوجھنے کی کوشش کرتے۔ ان کے لفظ غریبوں کے گھروں میں جا کر…
کھلائے ہیں آگ میں پھول، زندانی نثر یا جیل میں لکھا ادب
”اب سارے واقعات خود بولتے جاؤ۔ یاد رکھو، جہاں میرا قلم رکا، وہیں تمہاری پٹائی شروع کروں گا۔“ اور میں اسے گذشتہ تین سال پر مبنی واقعات لکھوانے لگا۔ ذہن سخت مائوف تھا، اس لیے واقعات کے تسلسل میں ذرا بھی ٹھہراؤ پیدا ہوتا، دو تین تھپڑ میری گردن پر آ کر لگتے،…
جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
قہوے کی پیالی میں قتل (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
میں باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس نیلوفر کے انتظار میں کھڑی ہوں۔ آٹے اور زعفران کی خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی ہے. آج صبح جاگتے وقت میں نے امی سے کہا: ”رات مجھے بے شمار مردوں کا خواب آیا تھا۔ سب ایک جگہ جمع تھے۔“ امی نے مجھے غصے سے دیکھا اور بولیں…
رکاوٹوں کے درمیان (فلسطینی ادب سے منتخب افسانہ)
وقت رک سا گیا تھا۔ میں نے اپنی شرٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور سلگالی۔ میں مسکراتے ہوئے مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھے جارہا تھا ”برائے مہربانی سگریٹ بجھا دیں۔۔ یہاں موجود آکسیجن ہمارے لیے ناکافی نہ ہو۔“ اس نے کہا ”کیا آپ اتنی خوفزدہ ہیں؟“ میں نے…
ایک تھا بادشاہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اسی کرہ ارض پر ایک ایسا ملک آباد تھا، جہاں باتیں بہت زیادہ ہوتی تھیں اور کام بہت کم۔۔ پرانے زمانے میں جس طرح باقی سب ملکوں میں ایک ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا، اس ملک میں بھی ایک بادشاہ حکمران تھا۔ رعایا کو بادشاہ ایک آنکھ نہ بھاتا۔…