یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
ما پارکر کی زندگی (نیوزی لینڈ کے انگریزی ادب سے منتخب افسانہ)
ما پارکر ہر منگل اس ادبی شخصیت کے فلیٹ پر صفائی کے کام پر مامور تھی۔ حسبِ معمول جب وہ اس صبح آئی تو صاحب نے دروازہ کھولا اور اس کے پوتے کے بارے میں پوچھا۔ ماپارکر نے اندھیرے ہال میں داخل ہو کر، دروازہ بند کرنے میں صاحب کی مدد کی، ”ہم نے اسے…
حرفِ تسلی
لوگ ان کے پاس بیمار کو تبھی لاتے، جب وہ جاں بلب ہوتا۔ ڈاکٹر رمن اکثر غصے سے پھٹ پڑتے ”تم ایک دن پہلے کیوں نہیں آ سکتے تھے“ وجہ صاف ظاہر تھی۔ ایک تو پچیس روپے ڈاکٹر کی ملاقات کی بھاری فیس اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کوئی بھی اس حقیقت…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 4)
میں (سندھو) کون ہوں؟ ”میں یہاں سنگی کھابب پر کھڑا دریائے سندھ کو زمین کی آغوش سے جنم لیتے دیکھ رہا ہوں۔“ سیون ہیڈن دنیا میں بے شمار دریا ہیں نامور، منہ زور اور تاریخی۔۔ دریائے نیل کا ذکر اگر قرآن پاک میں ہے تو بہت سے دریاﺅں کا تذکرہ ہندوﺅں کی مقدس کتب…
ریشمی جُرابوں کا ایک جوڑا
ننھی مسز سمرس کو ایک روز غیر متوقع طور پر پندرہ ڈالر کے مالکانہ حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے نزدیک یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کا پھٹا پرانا بٹوہ جس طرح ان پیسوں سے ٹھنسا ہوا تھا، اس نے مسز سمرس کو عجیب سی تسکین دی۔ ایسا لطف، جس سے وہ سالہا سال…
قاتل (تیونس کے عربی ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکے کی چھاتی نوجوانی کی خوبصورتی کا ایسا شاہکار تھی کہ دیکھ کر رشک آتا تھا۔ یہ سادہ سی دھاری دار قمیض کے نیچے سے اپنی مردانہ وجاہت کے کارن ہیجان انگیز تھی۔۔۔ لعنت ہے! میری نظریں کیوں اس کے سینے پر مرکوز ہیں؟ ہمیں کل سے ملے ہوئے احکامات بہت واضح تھے؛ ہم…
ہائے عوام۔۔۔۔! (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
’’یہیں پر، میں نے پینا چھوڑ دی تھی! کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ کچھ بھی مجھے اس کی طرف راغب نہیں کر سکتی۔ یہی وقت ہے کہ میں نے اپنا ہاتھ تھامنا ہے۔ مجھے خود کو بحال کرنا ہے اور کام کرنا ہے۔۔۔۔ آپ خوش ہیں کہ آپ اپنی تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے آپ کو…
آسمان پر ایک گھڑ سوار (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
1861ع کے موسم خزاں کی ایک سنہری دوپہر، ایک سپاہی جنوبی ورجینیا کی ایک سڑک کے کنارے پتوں کے ایک ڈھیر پر لیٹا تھا۔ وہ پیٹ کے بل اوندھا یوں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاؤں انگلیوں کا سہارا لیے ہوئے تھے اور اس کا سر بائیں بازو پر رکھا تھا۔ اپنے سیدھے ہاتھ…