قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
آخری فرار
کروڑ پتی مجرم کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔ اور اس سزا پر عمل درآمد کے لیے اسے شہر سے دور دراز ایک گمنام جزیرے کی جیل میں قید کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت یا اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ کروڑ پتی مجرم…
بڑا آدمی
ممبئی ایرپورٹ سے کیب لے کر سیدھا سیمینار ہال روٹری کلب جاؤن گا۔۔ پھر فوراً امی کے پاس بریلی جاؤں گا۔۔ لیکن امی۔۔ اور امی کو پاپا کی ادبی خدمات پر ہوئے سیمینار کی ساری باتیں سناؤں گا۔۔۔پاپا کی کامیابی اور ناکامی سب۔۔ امی کو بتاؤں گا۔ میری آنکھیں بھر آئیں…
ایک ہزار ڈالر (انگریزی ادب سے انتخاب)
”یہ رہی ایک ہزار ڈالر کی رقم!“ وکیل ٹالمین نے سنجیدہ اور بھاری لہجے میں کہا نوجوان جیلین نے نوٹوں کے ہلکے سے لفافے کو چھوا اور قہقہہ لگایا، ”یہ تو بہت ’غیر معمولی‘ رقم ہے۔“ اس نے نرمی اور صراحت سے وکیل کو کہا ”اگر یہ رقم دس ہزار ڈالر ہوتی تو کوئی بھی…
دوسری عورت (عربی افسانہ)
طلال نے یونیورسٹی کے آخری سمسٹر تک اپنی کزن کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی کبھی یہ عندیہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے گا۔ یہ بات اس نے اس وقت ظاہر کی، جب ہم نتیجے کا انتظار کر رہے تھے اور اس کے بعد عملی زندگی کی کٹھنائیوں کا…
چڑیل (سرائیکی افسانہ)
ایک مرتبہ دادی اپنے پوتے پوتیوں کو چڑیل والا قصہ سنا رہی تھی ۔ بچوں نے دادی سے پوچھا کہ چڑیل کی شکل کیسی ہوتی ہے؟ دادی نے ان کو بتایا کہ چڑیل کے بال اس طرح کے ہوتے ہیں اور دانت اس طرح۔۔ لیکن بچوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ آخر تنگ آ…
آخری جلسہ (روسی افسانہ)
بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا ”جانتی ہو، آج کیا دن ہے۔۔ دیکھو، دھوپ نکل آئی، میرے باہر بیٹھنے کا انتظام کر دیا؟“ بہو مسکرائی، وہ اچھے نین نقش کی تھی، لیکن اس کا وزن بڑھتا جارہا تھا اور وہ خاصی بے ڈول ہو رہی تھی بڈھے باشکوف نے اپنے آپ سے کہا ’مرد…
پہاڑ ہل گیا! (جرمن افسانہ)
”ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر نہیں جاسکتی۔۔ ماں آج میں تمہیں اپنے ساتھ گاڑی میں لے کر نہیں جا سکتی! ماں! میں آج۔۔۔۔“ مارلینے کا جملہ ادھورا رہ گیا اچانک ہی بیرٹا چلائی ”ہاں! میں نے سن لیا۔۔۔ میں نے سن لیا کہ تم مجھے آج بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر…