کھلائے ہیں آگ میں پھول، زندانی نثر یا جیل میں لکھا ادب
”اب سارے واقعات خود بولتے جاؤ۔ یاد رکھو، جہاں میرا قلم رکا، وہیں تمہاری پٹائی شروع کروں گا۔“ اور میں اسے گذشتہ تین سال پر مبنی واقعات لکھوانے لگا۔ ذہن سخت مائوف تھا، اس لیے واقعات کے تسلسل میں ذرا بھی ٹھہراؤ پیدا ہوتا، دو تین تھپڑ میری گردن پر آ کر لگتے،…
جُھرّیاں (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا، جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے،…
شجاع (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دل خوف سے دھڑک رہا تھا، اندھی گولیوں کا تصور ہی میرا خون خشک کئے دے رہا تھا، بم پھٹنے کے خیال ہی سے میرے جسم میں لرزہ تھا، ایک لمحے کو میں نے معرکے سے فرار ہونے کا سوچا، لیکن اگلے ہی لمحے مجھے اپنے ساتھیوں کا خیال آیا کہ وہ میرے بارے…
اسکرپٹ (افسانہ)
کھیل انتہائی جذباتی دور میں داخل ہو گیا تھا۔ تماشائی دَم سادھے اپنی اپنی نشستوں پر جمے ہوئے تھے کہ اچانک ایک اداکار اپنی جگہ سے ہٹ کر درمیان میں آ گیا اور ہیجانی کیفیت میں لرزتی آواز میں چیخا: ”میں اپنی مرضی سے کھیل چلاؤں گا اور اپنی پسند کے مکالمے بولوں…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…
سوانگ (چیک ادب سے منتخب افسانہ)
1 کار کے پٹرول گیج کی سوئی نے اچانک ٹینک کے خالی ہونے کا اشارہ دیا اور اسپورٹس کار کے نوجوان ڈرائیور نے اعلان کیا کہ یہ کار پاگل کر دینے کی حد تک زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ ’’دیکھنا کہیں پٹرول ختم نہ ہو جائے،‘‘ لڑکی نے، جو تقریباً بائیس برس کی تھی، احتجاج کیا…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…