چہرہ در چہرہ (عربی افسانہ)
وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ رانوں پر دھرے تھے۔ کرسی کے اوپری حصے نے اس کے آدھے جسم کو گھیرا ہوا تھا۔ وہ بے پردہ تھی۔ اس کے بال چھوٹے اور لباس عمدہ تھا۔ وہ اپنے سامنے پڑی کرسی کو ایسی تیز نظروں سے گھور رہی تھی، جیسے…
انتظار (انگریزی افسانہ)
وہ کمرے میں کھڑکیاں بند کرنے کے لیے آیا، جب ہم ابھی بستر میں ہی تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ بیمار نظر آ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، گویا ہر حرکت کے ساتھ اسے درد ہوتا تھا ”شاز،…
خصوصی عدالت (فلسطینی کہانی)
حکومتی اعلان کے مطابق عدالت نے چند مشہور مقدمات کی سماعت کے لیے شہرمیں اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں طے ہوا کہ منتخب دیہات میں عدالتیں لگائی جائیں تاکہ انصاف قائم ہو۔ علاقے کے لوگ اس فیصلے پر حیران تھے۔ انہیں اس بات کی خوشی بھی تھی کہ چلیں ان کے بارے میں بھی…
سرخ جوتے (افسانہ)
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک چھوٹی سی لڑکی تھی، بہت نازک اور خوبصورت، لیکن انتہائی غریب۔۔ اتنی کہ اسے تمام گرمیاں ننگے پاؤں گزارنی پڑتی تھیں اور سردیوں میں اسے لکڑی کے موٹے جوتے پہننے پڑتے تھے، جو اس کی ایڑھیوں کو چھیل کر زخمی کر دیتے گاؤں میں ایک بوڑھی بیوہ…
کابلی والا (افسانہ)
میری پانچ سالہ بیٹی ’مُنّی‘ بہت باتونی ہے، اس کا بس چلے تو سارا دن باتیں ہی کرتی رہے۔ پیدائش کے بعد اسے گفتگو کا فن سیکھنے میں بس ایک سال ہی لگا ہوگا۔ اس کے بعد سے اس نے اپنی جاگتی زندگی کا ایک لمحہ بھی خاموشی میں ضائع نہیں کیا۔ اس کی ماں…
ردا (سندھی افسانہ)
میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے…
ٹکڑوں میں بٹی کہانی (افسانہ)
پہلا ٹکڑا: گاؤں کا منظر ہے۔ ایک کچی سڑک، جس پر دور سے ایک ٹریکٹر دھول اڑاتا چلا آرہا ہے۔ رستے کے اطراف گندم کے کھیت ہیں، جن میں گندم کے خوشے کٹائی کے بعد گٹھوں کی صورت میں جمع ہوئے پڑے ہیں۔ ایک طرف کے کھیت میں تھریشر لگی ہوئی ہے، جس میں سے…
سیاہ بختی (افسانہ)
بستی نے کالی قبا اوڑھ رکھی تھی۔۔ گھروں کی خستہ حال چھتوں پر سیاہ برف کی سی چادر تنی تھی۔۔ دھوئیں کے مرغولوں نے فضا کو مکدر بنا رکھا تھا۔ گدلے پانی اور کوئلے کے ملاپ سے بنے گارے نے زمین کو سیاہی میں ڈبو رکھا تھا۔۔ پینتیس ہزار کی اس آبادی میں زندگی، کوئلے…