اب میں وہاں نہیں رہتا (افسانہ)
ڈاکیہ تین بار اس ایڈرس پر مجھے ڈھونڈنے گیا تھا لیکن تینوں بار مایوس ہو کر لوٹ آیا اس نے دروازے پر کئی بار دستک دی تھی، بلند آواز میں میرا نام پکارا تھا اور پھر دائیں بائیں دیکھ لیا تھا کہ شاید کوئی پڑوسی آواز سن کر گھر سے باہر نکل آئے اور اسے…
اتنی مداراتوں کے بعد
بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں، جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے. منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے. میں یعنی شہباز علی پاکستان کی قومی پرواز سے دبئی پہنچا ہوں اور چار گھنٹوں…
موم کی مریم (افسانہ)
آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبوراً مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا…
گُم شُدہ شہر کی کہانی (افسانہ)
آدھی رات کو اس نے اپنے گھر کے دروازے پر دستک دی تو اسے یوں محسوس ہوا، جیسے وہ ساری عمر دستک دیتا رہے گا اور یہ دروازہ کبھی نہیں کھلے گا وہ جوان ہوگیا تھا لیکن اس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، اس نے بہت چاہا کہ وہ بڑا ہوجائے لیکن…
دست و دل
ڈینور ( Denver) ریلوے اسٹیشن پر مشرقی سمت جانے والی بی اینڈ ایم ایکسپریس کوچز پر مسافروں کا جم غفیر تھا۔ ایک کوچ میں ایک انتہائی حسین دوشیزہ نے آکر نشست سنبھالی ۔ اس کا لباس اس کے اعلی و نفیس ذوق کا مظہر تھا۔ پر تعیش سفری آسائشات سے لدی پھندی وہ ایک…
سینما کا عشق (طنز و مزاح)
”سینما کا عشق“ عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی موسیقی اور تاریکی میں جو…
چھ مختصر اور منفرد افسانے
1. لمحے بھر کی زندگی مکڑی کا جالا، ذرا سا ہٹا۔ ”دنیا دیکھنا چاہتا ہوں“ مکڑی کے بچے نے سوچا چھپکلی نے فوراً اسے کھا لیا.. ”جالا ہی میری دنیا تھی“ مکڑی کے بچے نے چھپکلی کے منہ میں سوچا دکان کی چھت پر لگے جالے میں کہانی ختم ”چاچا گرمی ہے کوئی ٹھنڈا پانی…
پرمیشر سنگھ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اختر اپنی ماں سے یوں اچانک بچھڑ گیا جیسے بھاگتے ہوئے کسی جیب سے روپیہ گر پڑے۔ ابھی تھا اور ابھی غائب۔ ڈھنڈیا پڑی مگر بس اس حد تک کہ لٹے پٹے قافلے کے آخری سرے پر ایک ہنگامہ صابن کی جھاگ کی طرح اٹھا اور بیٹھ گیا۔ ’’کہیں آ ہی رہا ہو گا۔‘‘ کسی…