میرے یوسف کنعاں
امی کے گھر سے یہ دستور رہا ہے کہ جس دن جس بچے کی سالگرہ ہوتی، اس دن اس بچے کا پسندیدہ کھانا پکتا اور امی اس کا صدقہ نکالا کرتی تھیں۔ اپنے گھر میں جاری اس رسم میں، مَیں نے نئے جوڑے کا اضافہ بھی کر دیا تھا طارق روڈ میں واقع ای۔ ٹی…
جنگل کا قانون
‘‘پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں … پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں ‘‘ اسی گنگناہٹ میں مگن وہ جنگل کے اندر دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ کانٹوں سے دامن بچاتی، اِدھر ہریالی پہ منہ مارا۔۔ ۔ اُدھر پھولوں پہ چکھ ماری۔ جوانی کا عالم ایسا ہی اندھا ہوتا ہے۔ آج…
Three Naught Three (افسانہ)
تیس سالوں کے بعد میں اپنے سسرال لوٹ آئی تھی۔ جو سچ کہوں تو میں تو اس واپسی کہ حق میں نہیں تھی کہ میں دیارِ غیر میں اپنے دونوں بیٹوں کے قریب رہنے کی آرزو مند تھی۔ ماں ہونا بھی کتنا کٹھن ہے نا!! حالانکہ وہ کل کے بچے جو سوتے ہوئے بھی میرا…
گرہن (افسانہ)
روپو، شبو، کتھو اور منا… ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کے چار بچے دئیے تھے اور پانچواں چند مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے، سیاہ حلقے پڑنے لگے، گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں اور گوشت ان میں پچک گیا۔ وہ ہولی، جسے پہل پہل میا پیار سے چاند…
بھوک (افسانہ)
ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو سب سے اچھا والا کواٹر ہے نا، وہی نیلے درواجے والا وہ کالا صاحب کا…
بھولا (افسانہ)
میں نے مایا کو پتھر کے ایک کوزے میں مکھن رکھتے دیکھا۔ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لئے مایا نے کوزے میں پڑے ہوئے مکھن کو صاف پانی سے کئی بار دھویا۔ اس طرح مکھن کے جمع کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی۔ ایسی بات عموماً مایا کے کسی عزیز کی آمد کا…
وزیر عدالت
ایک دن شام کے وقت جب کہ آسمان پر بادل لہرا رہے تھے۔ ایک اجنبی ششوپال، برہمن کے دروازے پر آیا اور لجاجت آمیز لہجے میں بولا، ’’کیا مجھے رات کاٹنے کے لیے پناہ مل سکے گی؟‘‘ ششو پال اپنے گاؤں میں سب سے غریب تھے۔ تاہم اجنبی کو دروازے پر دیکھ کر ان کا…
اماں کا دل ایسا ہی تھا (افسانہ)
اور جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے، تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے…