’ماڑی‘ جو انگریزوں کی مخصوص زبان کی وجہ سے ’مری‘ بن گیا
حسن کا تیرے اُجالا تھا اَوَدھ کی شام میں دل کشی تیری تھی ساری لکھنؤ کے نام میں کبھی ‘شامِ اَوَدھ’ مشرقی تہذیب کا استعارہ اور ‘لکھنؤ’ اس تہذیب کا گہوارہ تھا۔ جس دور میں مغل اقتدار کا سورج گہنایا، اُس عہد میں اَوَدھ کا آفتابِ اقبال…
پھر سے۔۔۔
آج میں نے صبح تڑکے بچوں کو اسکول روانہ کرتے ہی دن کے کھانے کی تیاری شروع کر دی کہ مصمم ارادہ یہی تھا کہ دنوں سے ٹلتے افسانے کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤں۔ آج آسانی یوں بھی تھی کہ بختیار کا آفیشل ڈنر ہے، سو میٹھا پکانے کی چھٹی۔ کھانے کہ ہم دونوں میاں…
روبی ڈوبی (کہانی)
شام ہو رہی تھی۔ مجھے لگا شاید ہجوم کم ہو جائے گا۔ مگر لوگ بڑھ گئے۔ روبی نے چٹکی بجا کر کہا ”آپ کو ایک چیز دکھاتی ہوں۔“ ”کیا؟“ میں نے ہونقوں کی طرح کہا. اس نے اپنا بیگ ٹٹول کر ایک چھوٹی سی پیلی ٹکیا نکالی۔ میٹرو بس سروس کا ٹوکن۔ ”باہر نہیں لانے…
”ٹی وی پر تلفظ غلط ہوتا ہے، ہم کس کس کا رونا روئیں“ ضیا محی الدین کا تازہ انٹرویو
سڑسٹھ سال سے تھیٹر اور فلم انڈسٹری سے منسلک ضیا محی الدین آج کل نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں شیکسپیئر کے ڈرامے رومیو اینڈ جولیئٹ کو اردو زبان میں پیش کر رہے ہیں ضیا محی الدین کہتے ہیں ”شیکسپیئر نے رومیو جولیئٹ کی جو کہانی لکھی، اس میں جولیئٹ…
سیاہ گڑھے (افسانہ)
وہ ایک خونی لٹیرا تھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔ اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ…
دلی مراد (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
نیلا آسمان بھی اس کا گواہ ہے کہ وڈیرا مبارک علی بالکل بن مانس نظر آتا تھا۔ رہی سہی کسر اس کی بھنوؤں نے پوری کردی تھی، جو گالوں تک جھکی ہوئی تھیں۔ وہ آدھی عمر گزار چکا تھا لیکن اس کی طبیعت میں جوانی کے اطوار ابھی تک موجود تھے۔ بوڑھے شیر کی طرح…
کتا (افسانہ)
کمدار دبے پاؤں چلتا ہوا آیا اور جھک کر سائیں کے کان میں سرگوشی کی ”سائیں۔۔ تھانیدار آیا ہے“ سائیں کے منہ کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ”اس وقت؟“ تھانیدار ہاتھ باندھے اوطاق میں داخل ہوا اور سائیں کے گھٹنوں کو عقیدت سے چھو کر ہاتھ باندھے باندھے کھڑا ہو گیا سائیں نے…
طلسماتی سپاہی کا قصہ
سلمانکا سینٹ سپرین کے غار کا نام کس نے نہیں سنا ہوگا؟ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک ساحر گورکن یہاں پوشیدہ طور پر ہئیت، علم الارواح اور دوسرے علومِ مظلمہ اور فنونِ خبیثہ کی تعلیم دیتا تھا۔ بلکہ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ اس ساحر گورکن کے بھیس میں…