مرحوم کی یاد میں
ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق…
تاریک مستقبل کا حال بتانے والے مرغ کی کہانی
بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بڑھیا ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ اس نے گزر بسر کے لیے چند مویشی اور مرغیاں پال رکھے تھے۔ اس نے اپنے باڑے کے گرد ایک باڑ لگا رکھی تھی۔ اس کے پاس ایک چانٹی کلیر نامی مرغا تھا جو اپنی سات بیگمات کے ساتھ شاہانہ زندگی…
شاہ دولے کے چوہے
میرا نام رخشندہ بٹ ہے۔ اسی سال میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج سے بی اے کیا ہے۔ میرا خاندان کچھ خاص بڑا نہیں، بےبے، ابا ،دو بھائی اور دو بہنیں۔ میرا یعنی رخشندہ کا نمبر دوسرا ہے، پہلے بھائی آفتاب، پھر میں پھر شہاب اور پھر چھوٹی یعنی تابندہ۔ پنجاب کالونی، جہاں…
حضرت علی مجسٹریٹ اعزازی
دس سالہ بیدار بخت ایک ہاتھ میں اپنا پھٹا سر دوسرے ہاتھ میں سائیکل کا ہینڈل آنکھوں میں آنسو اور زبان پر موٹی موٹی گالیاں لئے پیڈل پر پیڈل مارتا مجسٹریٹ آفس کی طرف رواں دواں تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح اس کی ماں بیگم گل اور چاچی زیتون میں بجلی کے بل…
میرے یوسف کنعاں
امی کے گھر سے یہ دستور رہا ہے کہ جس دن جس بچے کی سالگرہ ہوتی، اس دن اس بچے کا پسندیدہ کھانا پکتا اور امی اس کا صدقہ نکالا کرتی تھیں۔ اپنے گھر میں جاری اس رسم میں، مَیں نے نئے جوڑے کا اضافہ بھی کر دیا تھا طارق روڈ میں واقع ای۔ ٹی…
جنگل کا قانون
‘‘پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں … پروں کو میں اپنے سمیٹوں یا باندھوں ‘‘ اسی گنگناہٹ میں مگن وہ جنگل کے اندر دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ کانٹوں سے دامن بچاتی، اِدھر ہریالی پہ منہ مارا۔۔ ۔ اُدھر پھولوں پہ چکھ ماری۔ جوانی کا عالم ایسا ہی اندھا ہوتا ہے۔ آج…
Three Naught Three (افسانہ)
تیس سالوں کے بعد میں اپنے سسرال لوٹ آئی تھی۔ جو سچ کہوں تو میں تو اس واپسی کہ حق میں نہیں تھی کہ میں دیارِ غیر میں اپنے دونوں بیٹوں کے قریب رہنے کی آرزو مند تھی۔ ماں ہونا بھی کتنا کٹھن ہے نا!! حالانکہ وہ کل کے بچے جو سوتے ہوئے بھی میرا…
گرہن (افسانہ)
روپو، شبو، کتھو اور منا… ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کے چار بچے دئیے تھے اور پانچواں چند مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے، سیاہ حلقے پڑنے لگے، گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں اور گوشت ان میں پچک گیا۔ وہ ہولی، جسے پہل پہل میا پیار سے چاند…