موم کی مریم (افسانہ)
آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبوراً مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا…
بڑھاپا (افسانہ)
احمد عرصہ کی غریب الوطنی کے بعد اپنے گاؤں پریم نگر میں پرانی اور ٹوٹی پھوٹی مسجد کی مرمت کے لیے بلایا گیا۔ وہ اسی گاؤں میں پیدا ہوا تھا اور اسی گاؤں میں اس کی شادی بھی ہوئی تھی، باوجود اس کے جب وہ گاڑی سے اسٹیشن پر اترا تو اپنے گاؤں کے مناظر…
ٹیرس پر بیٹھی شام (افسانہ)
دھک! پروفیسر کانیتکر (KANETKAR) کا دل لمحہ بھر کو جیسے رکا۔ پھر دگنی رفتار سے دھڑک اٹھا اور خون کا دباؤ ان کے چہرے پر غیر مرئی سرخی دوڑا گیا۔۔۔ وہ آ گئی تھی۔۔۔ جسے ’ہیلو‘ کہہ کر پکارا گیا تھا۔ اس نے کیا جواب دیا اور کیا باتیں ہونے لگیں، پروفیسر کانیتکر…
مسیحائی (کہانی)
پرانے وقتوں کا قصہ ہے کہ کوئی ملک تھا، جس کے باشندوں کے روگ مشہور تھے۔ یوں ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور بڑے بڑے صناع اور قابل لوگ ان میں پیدا ہوتے تھے لیکن علاقے کی آب و ہوا امراض و علائق کے لیے غیرمعمولی طور پر اثرپذیر واقع ہوئی…
یہ ’مسائلِ تلفظ‘ یہ ترا بیان غالب
پانی سے سگ گَزیدہ ڈرے جس طرح اسد، ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گَزیدہ ہوں۔۔۔ اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر آدم گزیدگی سے پیدا ہونے والی آدم بیزاری کی اُس شِدَّت کا اظہار ہے، جب انسان خود سے بھی خوف کھاتا ہے۔ سرِدست اس شعر میں دلچسپی کا محور لفظ ’گَزیدہ‘ ہے…
نیند میں چلتا ہوا شہر (افسانہ)
نیچے میرے پاس کوئی کام نہیں تھا سو میں چھت پر آگیا۔ میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک لگاتار گھومتا رہا اور آخر اُکتا گیا میں اس شہر میں بالکل ہی اجنبی تھا، اتنا کہ مجھے یہاں کی زبان بھی نہیں آتی تھی۔ میں نے گلی سے باہر دیکھا تو کچھ بچے کھیل رہے…
بہروپیا (افسانہ)
”کا سماچار ہے ماسٹرجی! کہاں بم پھٹا، کہاں آگ لگی۔ کتنے مرے، کتنے گھائل ہوئے؟“ اپنے ڈیوڑھی پر بیٹھا بھولے روز ماسٹرجی سے یہی سوال کرتا ”ای سسری مہنگائی او بےروجگاری کمر توڑ دیئے ہے“ بھولے روز روز کی ہڑتال اور بےروزگاری سے بیزار تھا۔ جب اسے کام ملنے کی…
نازو کا جہیز اور سیلاب (افسانہ)
”حسن کے ابا! آج مجھے مرچیں چننے کی پانچ دن کی اکٹھی مزدوری ملی ہے۔ یہ پیسے آپ کو نہیں ملیں گے۔ میں نازو کے جہیز کا ایک سوٹ لوں گی“ کلثوم نے مرچوں کی جلن سے لال انگارہ ہوئے ہاتھوں کو کھجا کھجا کر سکون نہ آنے پر آخرکار پانی میں ڈبوتے ہوتے کہا…