جب شیر بلی کی تنخواہ پر کام کرنے لگے
ویسے پچھتر برس میں ایسا کون سا وزیرِ اعظم یا وزیر گزرا ہے، جو لاڈلا ہونے کی سند لیے بغیر اپنے عہدے پر آیا بھی ہو اور ٹک بھی پایا ہو۔ پچپن برس پہلے اپنے بچپن میں رحمے نائی کی دکان سے سردار موچی کے کھوکھے اور تانگہ اسٹینڈ کے جیرو کوچوان تک ہر ماجھے…
فاطمہ برناوی کی کہانی
بیت المقدس کا ایک محلہ افریقن کوارٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں آباد سیاہ فام فلسطینیوں کے آباؤ اجداد کا تعلق سینیگال، نائجیریا، چاڈ اور سوڈان وغیرہ سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی میں مغربی و مشرقی افریقی خطوں سے جو لوگ حج کے لیے آتے تھے، ان…
اب کے درونِ خانہ تلوار چل رہی ہے
اسرائیل میں سات اکتوبر کو جو ہو چکا اور اس کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں موجود پچاس لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل جو ہو رہا ہے، اس کے اثرات اقوامِ متحدہ کے اندر اجلاس در اجلاس، دنیا بھر کے دارالحکومتوں کی سڑکوں پر تاحدِ نگاہ انسانی سروں کی فصل…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 4)
س: ہم بات کر رہے تھے کہ کاروباری سوچ کے نتیجے میں تحقیقاتی رپورٹنگ کہیں دفن ہو گئی اور چینل مالکان کی ترجیحات نے اصل کام کو پس منظر میں دھکیل دیا؟ ج: آپ دیکھیں بظاہر چینل 24 گھنٹے کا ہے، اس کو تین حصوں میں تقسیم کریں تو اصل پراڈکٹ 8 گھنٹے کی بنتی…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 3)
س: کالج میں کیسے اساتذہ ملے؟ ماحول کیسا تھا؟ ج: کالج میں بھی بہت اچھے اساتذہ ملے۔ حوصلہ افزائی کرنے والے۔ تقریری مقابلے کے لیے اور دیگر مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے طلبہ کو groom کرتے تھے۔ ہفتہِ طلبہ، بزمِ ادب، بین الاضلاعی مقابلے وغیرہ عام ہوتے تھے…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط2)
س: آپ نے والد محترم کا ذکر کیا کہ انہوں نے آپ کو کتابیں فراہم کیں، جس سے آپ کا پڑھنے کا ذوق بڑھا۔ والدہ کا آپ کی شخصیت سازی میں کیا کردار رہا۔ آپ کا ایک کالم بھی ’’ماں‘‘ کے حوالے سے بہت مقبول ہوا تھا، جسے اس موضوع پر معرکۃ الآرا تحریر قرار…
غزہ کا پیاسا کتا اور آخری گھونٹ
اگست دو ہزار دس کے سیلاب میں افواہ اڑی کہ مظفر گڑھ شہر ڈوبنے والا ہے ۔چنانچہ ہزاروں کنبے گھروں سے نکل پڑے۔ میں نے دریاِ چناب کے پل پر انسانی سروں کا ویسا ہی ہجوم دیکھا، جیسے 1947 کی کوئی ہجرتی فلم دیکھ رہا ہوں۔ کسی بوڑھے کے سر پے گٹھڑ، کسی عورت کی…
شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار
جبر، گھٹن، غم و ابتلا انفرادی و اجتماعی انسانی المیوں کے اجزائے لازمی ہیں تو دوسری جانب یہی اجزا تخلیقی فصل کے لیے کھاد کا کام کرتے ہیں اور اس کھاد سے لمحہِ موجود کی قلم بند تاریخ اگتی ہے اور اس کی لہلہاہٹ اگلی نسل کو بھی پاؤں جمائے رکھنے کا حوصلہ دیتی…