Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ملیر کا سوال..

By Akhtar Rasool
اکتوبر 23, 2021 2 Min Read
0

کہتے ہیں کہ سندھ میں  لاکھو فُلانی نام کا ایک باغی ہوا کرتا تھا، جس نے اُس وقت کے راجا رائے کنگھار اور اُس کے حامیوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا.

لاکھو اپنے ساتھیوں سمیت چھاپہ مار کاروائیاں کرتا اور رائے کنگھار کے حامی قبائل کا مال لُوٹ کر چلا جاتا. جب راجا رائے کنگھار اپنے حامیوں کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوا، تو کسی دن ایک عورت راجا کے دربار میں حاضر ہوئی اور رائے کنگھار سے اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے، کہنے لگی کہ لاکھو فُلانی ہمارے بھینسیں اور دیگر جانور لُوٹ کر چلا جاتا ہے۔ اب ہم اتنا لُٹ چکے ہیں کہ ہمارے پاس  بھینس تو کیا بھینس کا ایک بچہ بھی نہیں رہا! اگر آپ ہماری حفاظت کے خاطر کچھ نہیں کر سکتے، تو پہھر کس بات کے راجا بنے بیٹھے ہو؟

یہ بات شاہ لطیف نے اس طرح بیاں کی ہے:

رَڙي ريٻارڻ روءِ، واڙي پايو وَڇَڙا،
کرا ويڻ کنگهار کي، چنچل اُڀي چوءِ،
واڙي وَڇُ نه ڪوءِ، لاکو لوڙائُو ٿيو۔

ترجمہ : ریبارن عورت اپنی باڑے کی بھینسوں کے لیے روتے ہوئے راجہ کنگھار کو طعنہ دیتے ہوئے کہتی ہے، ہمارے باڑے میں لاکھو کی لوٹ مار کی وجہ سے اب تو ایک بھینس کا بچہ تک نہیں رہا!

ہم ملیر کے لوگوں کی حالت بھی رائے کنگھار کے حامی قبائل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے. بس فرق یہ ہے کہ ہمیں  لوٹنے اور اپنی زمین سے بے دخل کرنے والا کوئی باغی نہیں، بلکہ خود سرکار ہے اور ہمارے رائے کنگھار یعنی ملیر کے منتخب نمائندے اس حکومت کے سامنے مکمل بے بس نظر آتے ہیں..

بحریہ ٹاؤن ہمارے گھر مسمار کرے تو وہ خاموش!

ملیر ایکسپریس وے ہماری قدیم آبادیاں اور روزگار کے وسائل پر حملہ آور ہو تو منتخب نمائندے چپ!

ہمارے صدیوں پرانے گوٹھوں کا لیز پراسیس مکمل نہ ہو تو منتخب نمائندے لب بہ مہر!

ہمارے ڈومیسائل کا اشو حل نہیں ہوتا تو بھی وہ نہیں بولتے!

سندھ حکومت زمینوں کی تیس سالہ لیز ختم کرکے لینڈ مافیا کو سہولت دے تو منتخب نمائندے بات کرنے سے قاصر!

صدیوں پرانی آبادیوں میں بنیادی سہولیات ناپید، لیکن ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ اساتذہ کی بھرتی میں ملیر کو رعایت نہیں دیتی۔ کوئی منتخب نمائندہ احتجاج کی جرات تک نہیں کرتا!

تو ان حالات میں، ہمیں بھی اُس چنچل عورت کی طرح اپنے راجاؤں سے ایک سوال کرنے کا حق حاصل ہے. وہ یہ کہ… ”سائیں! کیا آپ اُس وقت چپ کا روزہ توڑ کر  لَب کُشائی کریں گے، جب ہم ملیر کے مقامی لوگوں کا وجود مکمل طور پر مٹ جائیگا!؟؟

Tags:

Asif Ali ZardariBTKDHAMalirMalir ExpresswayPPPSindh Government
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا امریکا بکھر رہا ہے؟ (دوسرا حصہ)

Next

اداس چہرہ (جرمن ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme