Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سیاست نہیں، صحت کی خبر لیجیے!

By Akhtar Rasool
نومبر 18, 2022 4 Min Read
0

چند سال قبل کراچی کے قومی ادارہ برائے امراض قلب میں دل کے دورے کے سبب فوت ہونے والا سب سے کم عمر شخص ایک انیس سالہ لڑکا تھا

اس کے والدین کے مطابق وہ گیارہ سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔
پاکستان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا سب سے کم عمر مریض ایک پندرہ سالہ لڑکا ہے، جو کہ ساری عمر پیزا، برگر کولڈ ڈرنگ اور چپس کھا کر جوان ہوا اور خدشہ یہ ہے کہ وہ بیماری کی پیچیدگیوں کے سبب اپنے ماں اور باپ کی آنکھوں کے سامنے موت سے ہمکنار ہو جائے گا

برسبیل تذکرہ پاکستان میں شوگر یا ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ ہے اور خدشہ یہ ہے کہ 2045 تک یہ تعداد 6 کروڑ اور پچاس لاکھ افراد سے تجاوز کر جائے گی

پاکستان کی سرکاری طور پر آبادی تقریبا 22 اور 23 کروڑ کے درمیان ہے جن میں سے تقریباً آدھی آبادی مختلف اقسام کی نان کمیونیکیبل ڈیزیز یعنی دوسروں کو نہ لگنے والی بیماریوں میں مبتلا ہو چکی ہے

نان کمیونیکیبل ڈیزیز یا بیماریوں سے مراد ذیابیطس یا شوگر کا مرض، دل کی بیماری یا کارڈیو ویسکولر ڈیزیز، گردوں کی خرابی، ہڈیوں یا جوڑوں کے مسائل، ذہنی صحت کے مسائل، کینسر، ہارمونز کی کمی بیشی سے ہونے والے مختلف مسائل، غذائی قلت سے ہونے والی ذہنی اور جسمانی پیچیدگیاں اور دیگر مسائل شامل ہیں

دوسری جانب، متعدی یا دوسروں کو لگنے والی بیماریوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جراثیم، وائرس، فنگس، ویکٹرز یعنی کیڑے مکوڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں اور دیگر امراض کا عالمی مرکز بن چکا ہے

یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس پایا جاتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہونی چاہیے کہ پاکستان اب ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر دنیا میں پائی جانے والی دیگر کئی بیماریاں جو کہ ناپید ہوچکی ہیں، کا بھی گڑھ بنتا جارہا ہے

حیرت زدہ قطعاً نہ ہو کیونکہ پاکستان میں Diphtheria یعنی خناق کے کیسز سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، یہ وہ بیماری ہے کہ جو دنیا سے عرصہ دراز سے ختم ہو چکی ہے لیکن پاکستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرامز میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کے سبب سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بچے ویکسین سے محروم ہو رہے ہیں اور ان بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جو کہ دنیا بھر سے ختم ہو چکی ہیں

دوسری جانب ایچ آئی وی انفیکشنز جس کے نتیجے میں ایڈز کی بیماری لاحق ہوتی ہے وہ بھی پاکستان میں آگ کی طرح پھیل رہے ہیں، جس کی ایک وجہ تو عطائیت ہے جبکہ دوسری جانب جنسی بے راہ روی یا ’غیر محفوظ جنسی تعلقات‘ ہے

ایچ آئی وی پھیلنے کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان بھر میں ہر مہینے تقریباً دو سو افراد ایچ آئی وی انفیکشنز کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان افراد میں ایچ آئی وی کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ خون دینے جاتے ہیں یا پھر ان کو کوئی سرجری کروانی ہوتی ہے, اگر ہسپتالوں میں آنے والے ہر مریض کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کیا جائے تو یہ تعداد شاید بہت زیادہ ہوگی

متعدی اور غیر متعدی امراض کی ایک لمبی فہرست ہے جو کہ پاکستان میں پائی جاتی ہیں لیکن ایک بہت بڑا مسئلہ ذہنی امراض کا ہے، پاکستان میں لاکھوں افراد مختلف طرح کے ذہنی مسائل کا شکار ہیں جن میں شیزوفینیا جیسی ٹھیک نہ ہونے والی بیماری سمیت بائی پولر ڈس آرڈر، ڈپریشن، انزائٹی سمیت دیگر مسائل شامل ہیں جن کی وجہ سے روزانہ کئی افراد ملک کے کسی نہ کسی حصے میں خودکشی کر لیتے ہیں

بدقسمتی سے نہ صرف ذہنی امراض کے ماہرین کی تعداد پاکستان میں بہت کم ہے بلکہ ان امراض کے علاج کے لیے ادویات بہت مہنگی ہیں جبکہ کئی ادویات محض اس وجہ سے میسر نہیں کیونکہ ان کو بنانے والی کمپنیوں نے قیمتوں کے تنازع کے باعث ان کو بنانا بند کر دیا ہے

ان حالات میں اگر آپ سیاست کی فکر میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں جب کہ آپ کے آس پاس روزانہ سینکڑوں افراد مختلف بیماریوں کے باعث نہ صرف جاں سے جارہے ہیں بلکہ معذور بھی ہو رہے ہیں، لوگ ذہنی امراض کے باعث خودکشی پر مجبور ہیں، سینکڑوں علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ صاحب استطاعت افراد بھی کینسر اور پیچیدہ آپریشن کروانے کے بعد خط غربت سے نیچے جارہے ہیں تو شاید آپ کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

بشکریہ: اردو نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

CancerCorruptionsDiphtheriaHealthPakistanVACCINE
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ: 2.1 بلین روپے غیر واضع طور پر نکالنے پر ڈی سی مٹیاری اور اے سی سعید آباد گرفتار

Next

دنیائے فٹبال کے وہ تنازعات، جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme