Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ڈاکٹر ساوند ‘اپنوں نے حق ادا کر دیا‘

By Akhtar Rasool
اپریل 15, 2023 3 Min Read
0

6 اپریل کو ضلع کشمور کندھ کوٹ میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اجمل ساوند کو قتل کر دیا گیا۔ ایسے کسی بھی واقعے پر مذمتوں کی ایک گردان چلتی ہے، سو اجمل ساوند کے قتل پر بھی چل رہی ہے

ڈاکٹر اجمل ساوند نے فرانس سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی اور وہیں کسی یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہے تھے۔ ان کو خیال آیا کہ میری صلاحیتوں پر پہلا حق میرے اپنوں کا ہے۔ بوریا بستر لپیٹا اور اپنے وطن کو لوٹ آئے، لیکن انہیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ جتنا بھی پڑھ لکھ لیں، گاؤں کا راجہ تو جاگیردار ہی ہوگا یا اس کا کوئی بیٹا

پولیس اجمل ساوند کے قتل کو قبائلی تنازعہ کی نوعیت کا قتل قرار دیتی ہے۔ قبائلی تنازعوں کا زیادہ تر تعلق زمینوں اور جاگیرداری سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے خطے میں ہر دوسرے خاندان کی کہانی ہے۔ چلیں آج بات ہو ہی رہی ہے تو آپ کو اپنے والد کا تعارف کروا دیتی ہوں

میرے والد اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور کاروباری دماغ رکھتے تھے۔ کبھی موٹر سائیکل کا ادلا بدلا کر کے کوئی زمین کا ٹکڑا لے لیا تو کبھی کچھ اور جگاڑ کرکے دو پیسے بنا لیے۔ والد صاحب کہتے تھے اگر سندھی ہندو ملک بدر نہ ہوتے اور وہ زمینیں نہ فروخت کرتے تو ہم کبھی زمیندار نہیں بن سکتے تھے۔ زمینیں اور زمینداری شروع ہوئی تو قبضے اور جھگڑے بھی شروع ہو گئے

پھر جب بڑے بھائیوں کے بچے بڑے ہونے لگے تو میرے والد نے کوشش کی کہ ان بچوں کو تعلیم کی طرف لے جایا جائے۔ یہ وہ وقت تھا جب زمینوں پر قبضوں اور جھگڑوں میں شدت آ چکی تھی۔ والد نے انہی دنوں خاندان سے باہر شادی کرلی۔ ہماری والدہ کا گاؤں والد کے گاؤں سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ والد نے وہیں شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا

والدہ کا خاندان سماجی اعتبار سے والد کے خاندان سے بہتر ہے۔ وہ مسائل کو بگاڑنے کے بجائے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ والد نے دراصل بگاڑ سے حل کی طرف ہجرت کی۔ ہم بڑے ہونے لگے تو والد کے خاندان میں معاملات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ ہم ملنے ملانے سے بھی گئے۔ ملنے ملانے کے لیے والد صاحب نے بھی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ تب ہمیں بات سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن والد مستقبل کا نقشہ بھانپ چکے تھے۔ اپنے خاندان سے ان کی مایوسی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ کبھی کسی بات کا کوئی جواز گھڑنے نے کی بجائے الٹا ان پر طنز کرتے تھے

والد کے خاندان میں قتل و غارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ آئے دن خبر ملتی ہے کہ فلاں کے بیٹے کو فلانے نے قتل کر دیا ہے اور فلاں نے اتنے پیسے لیکر فلاں کا قتل معاف کر دیا ہے۔ نہ ختم ہونے والے اس خونی سلسلے کو ہمارا قانون برابر حوصلہ دے رہا ہے۔ کسی کو قتل کرو اور ورثا پر دباؤ ڈال کر پیسے دیدو اور دیت کے نام پر خون معاف کروا لو۔ کہیں کہیں تو یہ لگتا ہے دیت کے چکر میں لوگ قتل گوارا بھی کر رہے ہیں۔ جیسے ایک بھائی دوسرے بھائی کے قتل کا انتظار کر رہا ہو کہ یہ مارا جائے اور میں دیت کا مطالبہ کروں

ڈاکٹر اجمل ساوند کے قتل کی نوعیت شاید مختلف ہو لیکن یہ خاندانوں کی برسوں سے جاری قتل و غارت کی ہی ایک کہانی ہے۔ جب تک ملک کا قانونی نظام بہتر نہیں ہو گا تب تک یہ قتل و غارت ایسے ہی چلتی رہے گی۔ لینڈ ریفارمز کا جب تک نہیں سوچا جائے گا، جاگیردارانہ نظام ختم نہیں ہو گا۔ جب تک یہ بدبودار نظام قائم ہے، یہ زمین اسی طرح پڑھے لکھے باشعور جوانوں کی قبریں بنانے کے ہی کام آئے گی۔ لوگ خواب لیکر واپس لوٹیں گے اور ایک جاگیردار یا اس کا بیٹا اس کو خوابوں کو مسل کے گزر جائے گا۔ ہم پیچھے ایک دوسرے سے سوال کرتے رہ جائیں گے کہ یہ ملک کیسے ٹھیک ہوگا۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

ajmal sawanajmal sawanddr ajmal sawanddr ajmal sawand biographydr ajmal sawand death newsdr ajmal sawand death updatedr ajmal sawand death videodr ajmal sawand death vidiodr ajmal sawand from sindhdr ajmal sawand ibadr ajmal sawand latest newsdr ajmal sawand newsdr. muhammad ajmal sawanddr. muhammad ajmal sawand associate professor iba sukkur brutally murderedjustice for ajmal sawandprofessor ajmal sawandwho is dr ajmal sawand
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’میڈ اِن پاکستان‘ ہونے کے دعوے کے باوجود پاکستان میں ہوم اپلائنسز کی عدم دستیابی۔۔ معاملہ کیا ہے؟

Next

’راولپنڈی کا بانی‘ بھاپا راول کون تھا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme